یہ سب جنگ کا پیش خیمہ نہیں تو اورکیا ہے؟

یہ سب جنگ کا پیش خیمہ نہیں تو اورکیا ہے؟
یہ سب جنگ کا پیش خیمہ نہیں تو اورکیا ہے؟

  



بھارت میں لائن آف کنٹرول پر بنکر بنائے جارہے ہیں، پاکستان کی سرحد کے قریب ہوائی اڈے فعال کر دیئے گئے ہیں، فوج تعینات کردی گئی ہے، سب سے بڑھ کر ماضی کے برعکس اربوں روپے کے اسراف سے نصب کی گئی باڑ بھی اتاری جارہی ہے…… یہ سب جنگ کا پیش خیمہ نہیں تو کیا ہے؟…… اپنے بھوکے عوام کو بھڑکانے کے لئے پاکستان پر دہشت گردی اور ایل او سی پر اشتعال انگیزی کے جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں، جبکہ اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے آزاد کشمیر کی وادیء نیلم کے گاؤں کیمرن پر قبضے کا بے بنیاد اور جھوٹا دعویٰ کردیا۔ پاکستان کو بھارت کی عیارانہ ذہنیت کا مکمل ادراک ہے۔ بھارت اپنے اندر کی صوررت حال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ہٹلر مودی کے جنگی جنون کی وجہ سے پاکستان کی خودمختاری و سلامتی ہی کو نہیں، پورے خطے اور پورے کرۂ ارض کے امن و سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ اسی بنیاد پر انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور عالمی قیادتوں کی جانب سے مودی سرکار کے پیدا کردہ حالات پر تشویش کا اظہار اور یواین قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کا تقاضا کیا جارہا ہے، جبکہ آج کے ہندوستان میں پھیلتی ہندو جنونیت نے قائداعظمؒ کی اس فہم و بصیرت پر بھی مہرتصدیق ثبت کر دی ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ اسی تناظر میں آج سکھوں کی قیادت کو بھی تقسیم ہند کے موقع پر پاکستان میں شمولیت کے لئے قائداعظمؒ کی بات نہ ماننے کی غلطی کا احساس ہورہا ہے، جبکہ قائداعظمؒ کی شروع کی گئی تحریک پاکستان کے مخالف بھارتی اور کشمیری مسلمان بھی قائداعظمؒ کی دوراندیشی کے قائل ہو گئے ہیں۔ آج بھارت میں پھر دو قومی نظریہ کے احیاء کا منظر نامہ بن گیا ہے۔ آج مودی سرکار جس جنونیت کے ساتھ جنگی تیاریوں میں مصروف ہے، اس نے کنٹرول لائن پر بنکر تعمیر کرکے وہاں بھاری اسلحہ منتقل کر دیا ہے، اس سے پاکستان کی سلامتی کے خلاف مودی سرکار کی سازشوں کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔

ہماری مسلح افواج بھی اس صورت حال سے غافل نہیں۔سپہ سالار کی جانب سے بھارت کو یہ ٹھوس پیغام دیا گیاہے کہ افواج پاکستان اس کی جارحیت کو ناکام بنانے کے لئے مکمل تیار ہے۔پاک فوج دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفسادبھی ملکی سلامتی کے تحفظ کے جذبے کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ سول اور عسکری قیادتوں کے فہم و تدبر ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ساتھ ماضی قریب میں جارحیت پر اتری ہوئی امریکی ٹرمپ انتظامیہ کو افغان امن عمل کے لئے پاکستان کی اہمیت کا ادراک ہو چکاہے، جس کے ذریعے امریکہ اور افغان طالبان میں مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا،جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی مودی سرکار کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے حل کے لئے دوطرفہ مذاکرات کی بار بار دعوت دے کر،پھر بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر کے آگے سینہ سپر ہونے والے کشمیری عوام کے موقف کی علاقائی اور عالمی فورموں پر ٹھوس وکالت کرکے بھارت کا مکروہ چہرہ اقوام عالم کے سامنے بے نقاب کیا ہے، جس کے باعث آج بھارت دفاعی پوزیشن پر آچکا ہے اور اب اسے اپنے عوام کی جانب سے بھی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم کا نیا پاکستان بانیانِ پاکستان علامہ اقبالؒ و قائد کی امنگوں، آدرشوں سے مکمل ہم آہنگ ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاکستان بد سے بدتر حالات سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے، جس کا مظاہرہ رواں سال 27 فروری کو اس کے دو فائٹر طیارے مار کر کرچکا ہے۔ قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔ ایسی سرفروش فوج اور اس کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار بنی قوم کو شکست دینا ناممکن ہے۔ نہ صرف پاک افواج، بلکہ ہر پاکستانی بھی جذبہء شہادت سے سرشار ہے۔ پاکستان کے کبھی جارحانہ عزائم نہیں رہے، وہ تو دہشت گردی کے خلاف بھی اَن دیکھے دشمن سے لڑ رہا ہے،جس میں وہ کامیاب بھی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور اس کے لئے عالمی برادری کو بھی یہ باور کراتا رہتا ہے کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ اب یہ پوری دنیا کے لئے خطرے کا باعث بن چکا ہے، جس کے خاتمے کے لئے پاکستان سمیت تمام ممالک کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بھارت نے پاکستان کے خلاف جب بھی کوئی شرارت کی،اس کے خاتمے کے لئے پاکستان نے اپنا دفاع جان کی بازی لگا کر کیا ہے۔ دفاع کی خاطر دشمن کو مار گرانے کی جرات موجود ہے تو جان دینے کا جذبہ بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ بھارت جنگ کے ذریعے وقتی طور پر دنیا کی نظریں اندرونی خلفشار سے ضرور ہٹا سکتا ہے، لیکن اسے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ جنگ کا آغاز وہ کرے گا، مگر انجام سے آگاہ کوئی بھی نہیں ہوگا۔ مزیدبرآں دو ایٹمی قوتوں کے مابین جنگ کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اس کا عالمی برادری کو بھی ادراک ہے۔ وہ نہ صرف بھارت پر شہریت بل واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالے،بلکہ پائیدار عالمی امن کے لئے مسئلہ کشمیر کا بامقصد حل بھی نکالے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادیں رہنمائی کرتی ہیں۔ معروف قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ مودی نے اپنے ہی شہریوں پر خودکش حملہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی رکنیت اس کے راہ راست پر آنے تک معطل کردے۔ بھارت اس وقت جس ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے، کسی عالمی دباؤ کو خاطر میں نہیں لارہا، پہلے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، پھر شہریت قانون کا بل بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کرالیا، جس پر بھارتی عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اس وقت بھارت میدان جنگ کا منظر پیش کررہا ہے، لیکن مودی سرکار پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے،اس تناظرمیں وہ دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے اگر پاکستان کے ساتھ کوئی شرارت کرتا ہے تو پاک فوج سمیت پوری قوم بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...