اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 3

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 3
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 3

  

یونانی خرافات میں ایسے مندروں کا ذکر موجود ہے ، اور بعض کتبے ملے ہیں جن سے مردانہ جنسیات کی تصدیق ہوتی ہے۔ کئی محققوں کا خیال ہے کہ لڑکوں سے شادی کارواج دراصل ضبط تولید کی طرف پہلا قدم تھا ۔ خود سقراط نے اس فعل کو مستحسن قرار دیا حتیٰ کہ ارسطو نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ بیویاں ترک کردیں اور استلذاذ بالمثل اختیار کریں۔ ان حکماءہی کی توثیق و تحریک پر امرد پرستی خاص خاص لوگوں تک محدود کردی گئی ، یعنی صرف آزاد شہریوں اور بانکے شہواروں ہی کو استلذاذ بالمثل کا حق حاصل تھا۔ غلام اس کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے ان کے لئے یہ جرم تھا اور اس کی سزا موت تھی۔ جب یہ شوق عام ہوگیا تو اس کو ایک معاشرتی خوبی سمجھا گیا، یونانی حکومت نے اس کی سرپرستی کے لئے مختلف قانون نافذ کئے۔۔۔

اُدھر روما کی راجدھانی میں جو چکلے تھے وہاں عورتوں سے زیادہ لڑکے تھے۔ ادھر پارس کو عجم کہتے تھے چنانچہ پارس عجم کی ترکیب اخلاقی احوال کا ایک پورا نقشہ پیش کر دیتی ہے۔ پارس سے یہ وبا اردگرد کے ملکوں میں پھیل گئی۔ افغانستان سے بلوچستان اور سندھ تک پہنچ گئی ۔ اُدھر چینی ترکستان میں عصمت فروش لڑکوں کا ایک طائفہ پیدا ہوگیا۔ سرچارلس نیپئر نے 1845ءمیں جب سندھ فتح کیا تو کراچی میں زنانہ قحبہ خانوں کے علاوہ تیس اڈے عصمت فروش لڑکوں کے بھی تھے۔

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 2

 حضرت لوط ؑ کی قوم کا ذکر توریت میں آچکا ہے چنانچہ استلذاذ بالمثل کے لیے لواطت اسی سے ماخوذ ہے ، توریت میں استلذاذ بالمثل کے بڑے مرکزی شہرکا نام سدوم بیان کیا گیا ہے۔ انگریزی کا لفظ (SODOAW)اسی سے بنا ہے۔

یورپ میں کئی مسیحی فرمانرواﺅں نے قحباﺅں کی سر پرستی کی ۔وہ ان کی آمدنی سے اپنا خزانہ بڑھاتے رہے۔ لیکن بعض نے ان کا قلع قمع کرنا چاہا، ایک ہزار برس تک نسلاً بعد نسل اصلاح احوال کی کوششیں کی گئیں۔ یہاں تک کہ فاحشہ عورت کے لئے سزا مقرر ہوگئی ، لیکن فحاشی کہیں بھی نہ رُک سکی۔ بالآخر اُن کے ادارہ کو تسلیم کر لیا گیا۔ کوریات نے وینس کے سفرنامہ میں لکھا ہے کہ سترھویں صدی کے آغاز میں بیس ہزار کے قریب کسبیاں ایسی تھیں ، جن سے حکومت کو اتنا فائدہ ہوتا تھا کہ اس سے ایک درجن جنگی جہازوں کے مصارف پورے ہوتے تھے۔

یونان ڈھلا تو روما بڑھا ،وہاں عورت کا درجہ نسبتاً وقیع تھا۔ لیکن روما کا آفتاب بھی ڈھل گیا اور فحاشی کا ایسا زور بندھا کہ سسرو جیسا معلم اخلاق اور سحر بیان مقرر جس نے خطابت کے اصول مدون کئے ہیں ، نوجوانوں کے کسبیوں سے خط اُٹھانے کی تائید کرتا ہے۔ ہر چند مسیحیت نے قحبگی کی روک تھام کی لیکن بعض انفرادی مساعی کے علی الرغم مسیحی ممالک وہ کُھل کھیلے ہیں کہ اب گناہ بھی آرٹ ہوگیا۔

عالمگیر مذاہب میں اسلام پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو نصف کائنات سے تعبیر کیا، اس کے حقوق تسلیم کئے فحش کی مخالفت کی ، زناکو حرام قرار دیا اور چکلہ کے تصور ہی کو محور کر دیا لیکن جب مسلمان بادشاہوں کے دل و دماغ اسلامیت کے تصور سے خالی ہوگئے تو سبھی بند ٹوٹ گئے۔

یہ ایک عجیب سی حقیقت ہے کہ ایشیاءکے اسلامی ملکوں میں قحبگی کو مسلمان بادشاہوں نے پروان ہی نہیں چڑھایا بلکہ اُس کی کاروباری قبا میں بعض دلچسپ پیوند بھی لگائے ہیں ، اور یہ صورت حالات ظاہر کرتی ہے کہ عورت بازار فحش کی جس منزل سے بھی گزری ہے اس کے ذمہ دار مرد ہیں اورصرف مرد ، مرد نے عورت کو کھلونا سمجھا ، چنانچہ مرد کی نفسی خواہشوں کے غلبہ کا نام ہی فحاشی ہے ۔کوئی عورت فاحشہ ہونا پسند نہیں کرتی حتیٰ کہ ایک طوائف بھی نسوانی حیا سے تہی نہیں ہوتی ۔ماسوا اُن عورتوں کے جن کی عادت پختہ ہوکر فطرت بن جاتی ہے ۔کبھی کوئی عورت بالرضاور غبت مختلف مردوں کو کھلونا بننا گوارا نہیں کرتی ۔آپ کسی بھی کسی کے دل کو ٹٹولئے اور اُس کی رُوح کے زخم سے کھرنڈ اُتار کر دیکھئے آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ محض اس لئے مونڈھے پر بیٹھتی ہے کہ اس کی ”عورت “ مرچکی ہے اور جوباقی ہے وہ عورت نہیں بستر ہے۔ دراصل جسمانی فحاشی ایک طاعون ہے۔ اس کا مریض بھی دِق کے مریض کی طرح چاردنا چار زندگی بسر کرتا ہے۔

جن حکماءنے قحبگی کے انسداد کی تحریکوں کا جائزہ لیا ہے ، اُن کا خیال ہے کہ قحبگی ناگزیر معصیّت ہونے کے باوجود ایک مفید ادارہ ہے ۔ جو معزز گھرانوں کی عفت و عصمت کا پشتیان ہے۔ ایک فلسفی شاعر کا قول ہے۔

بلزاک لکھتا ہے طوائف خود کو جمہوریت پر قربان کر دیتی اور اپنے جسم کو معزز خاندانوں کا پستیبان بنا دیتی ہے۔ شونپہار کہتا ہے کسبیاں و حدت ازواج کی قربان گاہ پر انسانی قربانیاں ہیں۔ لیکی نے تاریخ اخلاق یورپ میں کسبیوں کو بے شمار خاندانوں کی پارسائی اور نگہبانی کا بہت بڑا بوجھ طوائف کے کاندھوں پر ہے۔

ضروری نہیں کہ ہم راویوں سے اتفاق کریں، ان کے مصنف غالباً سماج کے معاشی تعلقات پر غور نہیں کرتے حالانکہ جتنی خرابی ہے وہ طبقاتی ہے اور طبقاتی ملکوں ہی کے فکر و عمل نے طوائف کا ناگزیر معصیّت قرار دیا ہے۔

طوائف کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے ۔اس نے اپنے ”حسن و قبح“ کے باوجود بڑے بڑے دماغوں پر حکومت کی ہے ، کئی شہنشاہوں کو زیرنگیں کیا۔ کئی مملکتوں کو اُجاڑا ، کئی فرمانرواﺅں کی جھُکایا ، عیاشوں کے خزانے لٹوادیے ۔ سلطنتوں کی بنیادیں ہلا ڈالیں ، حرمات شاہی کو خون کے آنسو رُلوایا ، نسل انسانی کو جنگوں میں جھونکا ، اور جن کی گردنوں میں پگھلا ہوا سیسہ تھا انہیں مجبور کیا کہ موم بتی کی طرح پگھلیں۔ چنانچہ یورپ اور ایشیاءکے ااوراق تاریخ کا ایک بڑا حصہ ان کے اذکار و اشغال سے پُر ہے ، مثلاً :

طوطیہ وی آرگونہ شعریات ہسپانوی ادب کا شاہکار سمجھی جاتی ہیں ۔دروینکا فرانکو یونانی علم الاصنام کی ماہرہ ہوتی ہے ۔ فرانس کا شہنشاہ ہنری سوم اس کی ملاقات کو حاضر ہوا تھا ، اور چلتے وقت اس کی تصویر لے گیا تھا۔ نینون وی لنکلوس کے حُسن و جمال کا اتنا شہرہ تھا کہ خاندان سیورزنہ کی تین پُشتیں اُس کے چاہنے والوں میں گذریں۔ اس کا مکان بڑے بڑے درباروں کو مات کرتا تھا۔ رہو ڈوپی ایک مشہور کسبی ہوئی ہے جس نے مصری اہرام میں سے ایک ہرم بنوایا تھا۔ پیریکلز کے متعلق پلوٹارک نے لکھا ہے کہ اس نے اسپاسیا نام کی ایک کسبی کو خوش کرنے کے لئے ایتھنز کو جنگ میں جھونک دیا۔ خود سقراط اس کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -اس بازار میں -