اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 2

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 2
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 2

  

 یونان میں فلور بلیادیوی کا میلہ آٹھ ن کے لیے لگتا تھا۔ اور ان آٹھ دنوں میں زائروں کے لئے رومہ کی لڑکیاں سامانِ عیش مہیا کرتی تھیں۔ افریقہ میں اعضائے جنسی عبادت کا جزو تھے اور لوگ انہیں اپنی اپنی دوکانوں اور مکانوں میں لٹکائے رکھتے تھے ۔ ہندوستان میں اس کی نشاندہی شولنگ سے ہوتی ہے۔ زمانہ قبل ازتاریخ کے تذکروں میں سوڈان اور دوسری آبادیوں کے متعلق اس قسم کی معلومات درج ہیں ، یورپ کے غاروں سے قبل ازتاریخ کے جو آثار ہاتھ آئے ہیں ان کی ہیت سے بھی اعضاءتو لید ظاہر ہوتے ہیں اور یہ سب صورتیں پتہ دیتی ہیں۔ کہ اس تمدّنی ارتقا سے پہلے تمام سماج میں فحش کا رواج تھا اور لوگ جنسی اشغال کو عبادت کا درجہ دیتے تھے۔

یہ تو خیر تاریخ سے پہلے کی باتیں ہیں۔ ولند یزیوں نے جس زمانے میں جاوا فتح کیا جنگل میں ایک توپ چھوڑ گئے۔ عوام نے سمجھا کسی دیوتا کا عضو مخصوص ہے پُوجا شروع ہوگئی۔ بانجھ عورتین زرق برق لباس پہن کر توپ کی زیارت کو جاتیں اس پر گھوڑے کی طرح بیٹھتیں اور اولاد چاہتیں ، پھول اور چاول چڑھائے جاتے آخر عیسائیوں نے حکومت پر زور دے کر اسے اٹھوادیا۔

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 1

 سکندر اعظم کے زمانے میں ”مذہبی فحش “ کا خاصا زور رہا۔ جب کوئی عورت اپنی ہمسائی کو طعن دیتی تو کہتی ، تو اس قابل نہ تھی کہ تیرے کمر بند پر ہاتھ ڈالا جاتا اور یہ دیوی کے مندر میں سرفراز نہ ہونے کی طرف اشارہ ہوتا۔ بائیبل میں فحاشی کے متعلق بہت سی روایتیں ہیں ۔جب عبرانی کسی مسئلہ میں حلف اُٹھاتے تو زور دینے کے لئے اپنے عضو پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتے تھے ۔ چنانچہ (TESTA MENT)معاہدہ (TESTIMONY) شہادت اور (TESTICLE) خصیتین کا مادہ ایک ہی ہے ، قدیم مصریوں میں عضو کر اُوپر اٹھا کر قسم کھانے کا رواج تھا۔ اُن کے ہاں اولاد کے لئے جو تعویذ استعمال ہوتے تھے وہ اعضائے جنسی ہی کی صورتیں تھیں ۔

ڈیون پورٹ کا خیال ہے کہ ہندوﺅں کا لنگم ، یونانیوں کا فیلس ، رومیوں کا سپر پاس اور عیسائیوں کی صلیب مردانہ عضو ہی کی مرموز شکلیں ہیں۔ اس زمانہ کے دانشوروں کی جسارتوں کا یہ حال ہے کہ ڈاکٹر لی ایگزینڈر اسٹون نے گرجاﺅں کی تعمیری ہیت پر بحت کرتے ہوئے اسے بھی جنسی اعضاءکی بوقلمونیوں سے مماثلت دی ہے۔

ہمارے نزدیک یہ سب مادیت کی فکر گستاخ کے کرشمے ہیں لیکن یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ ایک زمانہ میں فحش کو انسان مذاہب کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور یہ مذہبی فحاشی ہی کے برگ و بار ہیں جو مرور ایّام سے طوائف کے وجود میں منتقل ہوگئے ہیں۔

آج کی قحبہ عورتیں دراصل قدیم الایّام کی ”مذہبی فاحشات “ کا رد عمل ہیں۔ جن عورتوں کی یونان میں ہتائرہ ، روم میں کنواری، بابل میں کاوشتو، ہندوستان میں دیوداسی اور بغداد میں جواری کہا گیا ان ہی عورتوں کی تحریف کا نام طوائف ہے۔ اس بازاری فحش کے محرکات میں سے بعض یہ ہیں:

اوّلاً: معاشرے کا اخلاقی ارتقاءجس سے متمدن ملکوں میں ازدواجی زندگی باضابطہ اور مہذب ہوگئی اور اس زندگی کو شہوانی انتشار سے بچانے کے لئے پیشہ وروں کوایک ادارہ بنادیا گیا۔

ثانیاً : مردوں اور عورتوں کے تناسب کا فرق جس سے خرابی کے برگ و بار پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ جن ملکوں میں یہ فرق بڑا نمایاں ہے وہاں فحاشی بھی اسی نسبت سے نمایاں ہے۔

ثالثاً: وہ افراد جن کی بے ڈھب عیاشیاں خاندانی عزتوں کے درپے ہوتی ہیں۔

رابعاً: طبقانی سماج میں اقتصادی تفاوت اور انفرادی ملکیت کی مضرتیں۔

حکیم سولن دُنیا میں پہلا شخص گزرا ہے جس نے خانہ بہ خانہ فحاشی کی روک تھام کے لئے یونان میں سب سے پہلا چکلہ قائم کیا۔ اور بزعم خویس اُن جنسی کجرویوں کو روکنا چاہا جن میں پورا یونان محصور تھا۔ تب یونانی قوم کی اخلاقی پستی کا یہ حال تھا کہ سب سے پہلے جن دو انسانوں کے مجسمے اظہار عقیدت کے لئے بنائے گئے ان میں ایک فاعل تھا دوسرا مفعول ۔۔۔ ہر موڈیس اور ارسٹوگیٹن اگر کسی لڑکے کو چاہنے والا شہسوار نہ ملتا تو وہ شرم محسوس کرتا ۔ اور ایسا لڑکا عزت کا مستحق سمجھا جاتا جس کے درجنوں عشاق ہوتے ، کئی شہروں میں لڑکوں سے شادی رچانے کا رواج تھا۔

جاری ہے

مزید :

کتابیں -اس بازار میں -