جامعہ خالد بن ولیدؓ اور جھنڈیر لائبریری کا مطالعاتی دورہ

جامعہ خالد بن ولیدؓ اور جھنڈیر لائبریری کا مطالعاتی دورہ

جہاندیدہ، نرم و گرم چشیدہ، عمر رسیدہ، امارۃ صبیان پہ رنجیدہ، اپنی ذات میں ایک انجمن، مرجع خلائق ان کا مسکن، سینہ اسرار و رموز کا گنجینہ، معلومات کا خزینہ، نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو، تحریک آزادی کا شعوری مشاہدہ، پُرمشقت ہجرت کا مجاہدہ، قلم سبک رفتار گُہر بار، فتنوں کے خلاف آمادۂ پیکار اِک تلوار، تحریک ِ ختم نبوت میں عملی کردار، ادارت جرائد و اخبار، رفاقتِ احرار، پسِ دیوار زنداں بھی شادمان و خنداں، حریف انگشت بدنداں، ایک کنواں جہاں تشنگانِ معرفت پیاس مٹانے آئیں، ایک بادل جو قریب و دُور جا بَر سے۔یہ ہیں فیصل آباد کی آبر و مولانا مجاہد الحسینی جن کی رفاقت سفر و حضر راقم الحروف کے لئے بہت کچھ سیکھنے کا ذریعہ ہے، چند روز پہلے مولانا کے ہمراہ جامعہ خالد بن ولید ؓ وہاڑی و جھنڈیر لائبریری کے مشاہداتی سفر کی روئیداد پیش خدمت ہے۔

جامعہ خالد بن ولیدؓ ٹھینگی ضلع وہاڑی کے بانی و مہتمم مولانا ظفر احمد قاسم کی دیرینہ تمنا تھی کہ مولانا مجاہد الحسینی ان کے ادارے میں قدم رنجاں فرما کر طلبہ و اساتذہ کو استفادہ کا موقع دیں، چنانچہ اس کی عملی شکل یہ بنی کہ دونوں بزرگوں کے درمیان ٹیلی فون رابطے سے 5اپریل 2015ء بروز اتوار بعد نمازِ مغرب معروضی حالات کے تناظر میں ’’تحفظ حرمین شریفین اور اُمتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں‘‘ کے زیر عنوان مولانا کا خطاب طے ہو گیا، رفاقت و رہنمائی کے لئے سابق مدرس جامعہ خالد بن ولیدؓ مفتی عبدالرحمن ظفر کا ساتھ جانا طے پایا، راقم الحروف ایسے اسفار میں مولانا کی رفاقت غنیمت جانتا ہے، لیکن ماہانہ درسِ قرآن کے لئے لاہور جانا بھی ضروری تھا، لہٰذا قرار پایا کہ راقم لاہور درسِ قرآن سے فارغ ہو کر وہاڑی قافلے سے جا ملے گا، مولانا اپنے رفقاء سمیت عصر تک جامعہ خالد بن ولیدؓ ٹھینگی ضلع وہاڑی پہنچ گئے۔

جامعہ خالد بن ولیدؓ کے مہتمم مولانا ظفر احمد قاسم کے صاحبزادے اور بھانجے جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے زمانہ طالب علمی میں راقم کے معاصر رہے ہیں، اس لئے جامعہ خالد بن ولید ؓ کا غائبانہ تعارف عرصہ سے تھا، لیکن حاضری و زیارت کا یہ پہلا موقع تھا، رات گئے پہنچنے پر گیٹ پر موجود چوکیدار نے ہمیں مہتمم صاحب (المعروف بڑے استاذ صاحب) کے ہاں پہنچا دیا، مہتمم صاحب اور مولانا مجاہد الحسینی نے خوشی کا اظہار فرمایا، مہتمم صاحب اور مولانا مجاہد الحسینی کے علاوہ مفتی عبدالرحمن ظفر اور کراچی سے تشریف لائے ہوئے مولانا قاسم کے بھائی تذکرۂ اکابر اور ملکی و عالمی حالات پر مذاکرے میں مشغول تھے، راقم ہمہ تن گوش رہا، بارہ بجے مجلس برخاست ہوئی۔

صبح نمازِ فجر کے لئے مسجد میں جانا ہوا تو طلبہ و اساتذہ صفوں میں بیٹھے تھے اور مہتمم صاحب بھی امام کے پیچھے صفِ اول میں کرسی پر براجمان تھے، نماز باجماعت میں قنوتِ نازلہ اور تسبیحات کے بعد سورۂ یٰسین پڑھی گئی اور اجتماعی دُعا بھی کی گئی، اس کے بعد اکثر طلبہ آمنے سامنے قطاروں میں بیٹھ کر تلاوت کرنے لگے، راقم کچھ دیر بیٹھا یہ روح پرور منظر دیکھتا رہا، پھر مطبخ و مطعم کی طرف سے ہوتا ہوا مہمان خانہ پہنچا تو جامعہ کے کچھ اساتذہ نے مولانا مجاہد الحسینی کو گھیر رکھا تھا، شور کوٹ سے آئے مہتمم صاحب کے بھانجے و داماد محمد زاہد مہتمم جامعہ عثمانیہ شورکوٹ اور دورۂ حدیث کے کچھ طلبہ بھی تھے، یہ طلبہ و اساتذہ مولانا سے سند حدیث حاصل کرنے پر مُصر تھے اور مولانا تواضعاً اپنی بے مائیگی پر مُصر تھے، چنانچہ طلبۂ حدیث بخاری شریف ہاتھوں میں تھامے ساتھ والے کمرے میں آ موجود ہوئے، جس پر مولانا بھی آمادہ ہو گئے، ایک طالب علم نے حدیث ’’انما لاعمال بالنیات‘‘ کی عبارت پڑھی، مولانا اپنے اساتذہ کے تذکرے میں آبدیدہ ہو گئے، رقت آمیز خاموشی کے بعد اپنے اساتذہ حدیث مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ ، مفتی محمد شفیع ؒ ، مولانا شمس الحق افغانی ؒ ، مولانا عبدالجبار اعظمی ؒ ، مولانا محمد مسلم دیو بندی ؒ اور دیگر حضرات کا ذکر فرمایا اور حدیث کی شرح میں اخلاص نیت کی وضاحت فرما کر اجازت حدیث مرحمت فرمائی، دُعا پر اس نشست کا اختتام ہوا۔

ہدایا کے تبادلہ اور الوداعی ملاقات کے بعد تقریباً نو بجے لائبریری کے لئے روانگی ہوئی، جامعہ میں یہ ایک رات کا قیام انمٹ نقوش چھوڑ گیا، وسیع و عریض عالیشاں مسجد، منتخب آیات کی کتابت، پُرسکون اور روح پرور ماحول، خاص ترتیب سے بنا کشادہ وضو خانہ اور واش رومز، چاروں طرف کمروں اور برآمدوں کی قطاروں، کھجور کے درخت، کیاریاں، ہارٹی کلچر، مسجد کے پیچھے اساتذہ کے مکانات و مہمان خانہ، مطبخ و مطعم، کھیل کے میدان، کشادہ رستے اور مناسب فاصلے، طلبہ و اساتذہ کی خوش اخلاقی و جذبۂ خدمت، نظم الاوقات و سلیقہ بندی، مہتمم صاحب کی ملنساری و وسعت ظرفی، اپنائیت کا احساس اور پھر ادارے کا جرنیل اسلام سیف اللہ حضرت خالد بن ولیدؓ سے منسوب نام سب کچھ اسلام و علوم اسلامیہ کی عظمت کا آئینہ دار تھا، اللہ تعالیٰ ادارہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔(آمین)

میلسی کہروڑ پکا روڈ پر جب اس پوائنٹ پر پہنچے ، جہاں سے لائبریری کے لئے راستہ ہے، تو مولانا ظفر احمد قاسم کا مقررہ کردہ ایک نوجوان موٹر سائیکل پہ رہنمائی کے لئے موجود تھا، اس کے تعاقب میں گاڑی چلتی رہی، تقریباً15منٹ کے بعد ایک چھوٹے سے گاؤں شاہ پور جھنڈیر کے بیچ ایک عظیم الشان حویلی میں داخلہ ہوا۔

یہاں ایک پُرشکوہ عمارت میں لائبریری کا ایک یونٹ تھا، لائبریری کے بانی برادران جناب مسعود احمد و محمود احمد جھنڈیر کو پیشگی اطلاع تھی، چنانچہ استقبال کے لئے موجود تھے، برآمدے میں رکھی کرسیوں پر تبادلۂ معلومات کی نشست ہوئی، تو پہلی ملاقات میں ہی اُنسیت و اپنائیت کا احساس غالب تھا، حاضرین نے گنبد نما کشادہ ہال میں ترتیب و سلیقہ سے الماریوں میں لگی کتب کا مشاہدہ، میاں محمود احمد جھنڈیر مولانا کی تصانیف لا لا کر دکھانے لگے، مطبوعات کے علاوہ یہاں مخطوطات کا بھی ایک بڑا ذخیرہ تھا، نیز رسائل و جرائد کی جلد بندی کا کام جاری تھا، آغا شورش کاشمیری اور فیصل آباد کے حاجی علی ارشد مرحوم کی ذاتی لائبریری بھی اس یونٹ کا حصہ ہیں،دیواروں پر مشاہیر تاریخ کے تصویری خاکے، یاد گار دستاویزات آویزاں تھیں، جن میں غازی علم الدین شہید پر قائم ہونے والی فردِ جرم کی نقل بھی تھی، حاضرین یہیں حیران و ششدر تھے، کہ بتایا گیا کہ لائبریری کا مرکزی یونٹ دوسری حویلی میں ہے، چنانچہ چند لمحوں میں میاں مسعود احمد جھنڈیر ریسرچ لائبریری کا مرکزی یونٹ سامنے تھا، جس کی عالیشان عمارت ہارٹی کلچر، راہداریاں دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں، مرکزی عمارت کے مختلف ہالوں میں مختلف شعبہ جات سے متعلق کتب ترتیب سے الماریوں میں لگی تھیں، تصویری خاکوں، خطاطی کے نمونوں سے دیواریں آراستہ تھیں، جلی حروف میں مکتوب ایک شعر کی تصویر راقم نے موبائل میں محفوظ کی:

سرور علم ہے کیف شراب سے بہتر

کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

(پیرزادہ عاشق کیرانوی)

یہ شعر زمیندار جھنڈیر خاندان کے اس شاندار کارنامے کے پیچھے کار فرما جذبے کی نشاندہی کرتا ہے، مولانا سے لائبریری کے ہر دو یونٹ میں تاثرات لکھوائے گئے اور اس احساس کے ساتھ رخصت ہوئے کہ علم و ہنر کے اس بحرِ بیکراں میں غوطہ زنی کے لئے فرصت کے لمحات درکار ہیں، لائبریری کے تعارف نامے پر کتب کی تعداد غالباً اڑھائی لاکھ سے زائد درج تھی اور سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی طرف سے پنجاب کی سب سے بڑی پرائیویٹ لائبریری ہونے کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز دیئے جانے کا ذکر تھا۔

واپسی پر سر راہ قیام پذیر ایک مدرسہ میں دُعا کی گئی، دوسرے مدرسہ کی ایک عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، جو باب العلوم کہروڑ پکا کی شاخ تھی، جہاں ایک نوجوان عالم فاضلِ باب العلوم کہروڑ پکا مولانا محمد عمیر شاہین سے بھی ملاقات ہوئی، جنہوں نے اپنی زیرِ تالیف ’’سوانح حکیم العصر مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ ‘‘ پر مولانا سے تقریظ لکھوائی، رات تک بخیرو عافیت فیصل آباد واپسی پر بحمد للہ یہ معلومات افزا اور یادِ گار سفر مکمل ہوا۔

مزید : کالم


loading...