کالے شیشے والی گاڑیاں ، غیر نمونہ نمبر پلیٹیں

کالے شیشے والی گاڑیاں ، غیر نمونہ نمبر پلیٹیں
 کالے شیشے والی گاڑیاں ، غیر نمونہ نمبر پلیٹیں

  

آئی جی پنجاب کے حکم پر شہر میں کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف اورسی ٹی او لا ہور رائے اعجاز احمد نے اس آپریشن کی نگرانی کی۔

اس مہم کے دوران اب تک تقریباً آٹھ ہزار کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی ۔

یہ چیکنگ شہرکے مختلف مقامات پر کی گئی جن میں ڈیفنس ، وحدت روڈ ، شاہر اہ قائداعظم ، کینال روڈ، گلبرگ شادمان ، شاہدرہ ، آزادی چوک شمالی چھا ؤنی ، کینٹ سمیت دیگر علاقوں میں بھی کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلا ف کارروائی کی۔

پولیس کے افسران کا کہنا تھا کہ دیگر افسران و ٹریفک وارڈنز کی نگرانی میں شہربھر میں ناکے لگائے جارہے ہیں ۔ سی ٹی او رائے اعجاز احمد نے کہا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا ۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریفک پولیس کو یہ بھی ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ پٹرولنگ کے عمل کو مزید بہتر بنائیں ۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی و انسدادی کارروائی کے متعلق روزانہ کی بنیا د پر رپورٹ دفتر میں درج کرائیں۔

ٹریفک پولیس اور ٹریفک کی خلا ف ورزی کرنے والوں کی طویل جنگ جاری ہے ۔ لگتا ہے کہ جب تک تبدیلیاں ہوتی ہیں یا چھاپے شروع ہوتے ہیں ، سڑکوں پر موجود گاڑیوں کے مالکان یا ان کے ڈرائیور حضرات ایک دوسرے کو فون پر آگاہ کر دیتے ہیں کہ اس وقت حالا ت ٹھیک نہیں ہیں ،تم اس طرف سے نہ آنا جس سے ناکہ بندیوں پر کوئی شکار نہیں پہنچتا ۔

مجھے یہ شبہ یو ں ہوا کہ ایک رکشہ ڈرائیور سے پوچھا کہ آجکل پولیس سے تعلقات کیسے ہیں ، تو اس نے بتایا کہ ہم ان سڑکوں پر جاتے ہی نہیں جہاں ناکے ہوں یا ٹریفک وارڈنز سے ٹاکرہ ہو، اس نے کہا کہ ہمارے ساتھی رکشہ ڈرائیور موبائل فون پر اطلاع کر دیتے ہیں کہ فلاں چوک میں چیکنگ ہورہی ہے تو اس طرح ہم راستہ تبدیل کر لیتے ہیں ۔ہوسکتا ہے گاڑیوں کے ڈرائیور بھی بقائے باہمی کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔کیونکہ شہر میں ان لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ تو ہر وقت ممکن ہے ۔

یہ غور طلب حقیقت ہے کہ شہر کی پولیس کئی سال سے گاڑیوں کے کالے شیشے نہیں اتروا سکی اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن والوں کی چھاپہ مار ٹیمیں مختلف اقسام کی نمبر پلیٹیں اتروانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں ، روزانہ اخبارات میں خبریں نظر آتی ہیں کہ ایکسائز والوں نے ناکہ لگاکر کئی گاڑیوں کی غیر نمونہ نمبر پلیٹیں اتروادیں، مگر شہر کی اہم سڑکوں پر غور کیا جائے تو ہر دس میں سے چار نمبر پلیٹیں مختلف قسم کی ہوں گی۔ اس قسم کی گاڑیاں عام طور پر اشرافیہ کی ہوں گی جو اراکین قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی یا ایسے ہی با اثر حضرات کی ہوں گی جنہیں ہاتھ ڈالتے ہوئے ایکسائز کے سرکاری اہلکار خوفزدہ ہو کر چھوڑ دیتے ہوں گے۔عام شہری تو خود ایکسائز کے دفتر جا کر تبدیلی نمبر پلیٹ کی فیس مبلغ بارہ سوروپے جمع کرا چکے ہیں ۔

اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھنے والے افراد اس کی قانون شکنی کے فخریہ طور پر مرتکب ہوتے ہیں ۔ غیر قانونی حرکات کرنے والے عموماًقانون نافذ کرنے والے ہی ہوتے ہیں۔ وزیر ایکسائز ٹیکسیشن ، سیکرٹر ی ایکسائز اور ڈائرکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اگر اپنے ملازمین کے سر پر ہاتھ رکھ دیں ، انہیں ملازمت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائیں تو اشرافیہ کو اس قانون شکنی سے روکا جا سکتاہے ۔

جس سے پورے شہر میں یکساں نمبر پلیٹوں کا اجرا ممکن ہو سکتا ہے ۔ اگر اشرافیہ کے سامنے حکومت بھی بے بس رہی تو گاڑیوں کے کالے شیشے اتروانا اور غیر نمونہ پلیٹوں میں یکسانیت لانا محض ایک خواب ہی رہے گا جو کبھی حقیقت میں تبدیل نہیں ہوسکے گا ۔

اس کے علاوہ گاڑیوں کی پچھلی سکرینوں پر مختلف مسالک کے لوگوں نے اپنے اپنے مسالک کے جملے لکھوائے ہوتے ہیں، انہیں بھی لگانے پر پابندی لگانی چاہیے ۔ جوکسی مسلک سے بھی ہے اسے اس کے مسلک سے کوئی روک نہیں سکتا مگر سڑکوں پر سرعام اسکی تشہیر مناسب نہیں ہے ضلعی حکومتوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔

خصوصاً موٹر رکشاکے پیچھے اشتہاری مہم کے طور پر کئی نامناسب اشتہار بھی کئی سال سے چسپاں ہیں ، اس کا کبھی کسی نے نوٹس نہیں لیا ۔ ایک رکشہ ڈرائیور سے میں نے پوچھا کہ یہ اشتہار لگا نے کے کتنے ماہوار ملتے ہیں ، اس نے بتایا کہ مذہبی قسم کے کئی اشتہارات جو میرے مسلک کے مطابق ہوتے ہیں اس کا میں کچھ نہیں لیتا ۔

معاشرہ کو صاف ستھرا رکھنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے ، صرف حکومت کا کام نہیں ہے ، تاہم انفرادی طورپر ہر شخص کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے ۔جبکہ اجتماعی گندگی کی صفائی سرکاری توجہ کے بغیر نا ممکن ہے یہ کوئی مشکل یا نا ممکن کام نہیں ہے ۔

سڑکوں پر ٹریفک میں چلتے ہوئے توجہ صرف ڈر ائیونگ پر ہونی چاہیے نہ کہ فلیکسوں پر ، بعض اہم ترین سڑکوں پر پول کے ساتھ الیکٹرونکس ایل ای ڈی بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں اور حادثات کا سبب بن سکتی ہیں ، اس پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے ۔

مزید :

کالم -