فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 263

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 263
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 263

  

اگلے چند روز میں اداکاروں کے بارے میں غور و خوض شروع ہوگیا۔ طارق صاحب دو مرکزی کرداروں کیلئے کمال اور حبیب کے حق میں تھے ’’کنیز‘‘ کے مرکزی کردار کیلئے موزوں ترین اداکارہ صبیحہ خانم تھیں لیکن وہ اداکاری سے کنارہ کش ہو چکی تھیں۔ ہمارے سامنے دوسری چوائس یاسمین تھیں۔ فلم کے دوسرے کرداروں کیلئے بھی کچھ فن کاروں کا انتخاب کرلیا گیا اورہم نے اداکاروں سے مذاکرات بھی شروع کردیئے۔

کمال نے ہماری توقع سے کہیں زیادہ معاوضہ طلب کیا حالانکہ وہ ہمارے بچپن کے دوست تھے۔ ہم ہی نے انہیں فلمی دنیا میں متعارف کرایا تھا اور جب انہوں نے اپنی فلم ’’جوکر‘‘ کا اعلان کیا اور ہمیں رائٹر بننے کا شرف بخشا تو معاوضے کے بارے میں ہم سے کوئی بات ہی نہیں کی۔ نہ ہم نے کوئی سوال کیا۔ یہ فلم چار پانچ سال میں جا کر مکمل ہوئی اور ہم اسے حسب ضرورت تبدیل کرتے اور لکھتے رہے۔ پیسوں کا تذکرہ ہی درمیان میں نہ آیا۔ فلم کی ریلیز کے وقت انہوں نے ایک چیک ہماری جیب میں ڈال دیا اور کہا ’’سوفی۔ اسے معاوضہ مت سمجھنا۔ یہ بس ٹوکن ہے۔ یارمجھے اس فلم میں کافی نقصان ہوا ہے۔‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 262 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حالانکہ ہم جانتے تھے کہ یہ درست نہیں ہے۔ مگر ہم نے کوئی عُذر نہیں کیا۔ ان کی فرمائش تھی کہ ان کی موجودگی میں ہم چیک کو بند ہی رہنے دیں۔ وہ چائے پی کر رخصت ہوگئے تو ہم نے بڑے اشتیاق سے چیک پر نظر ڈالی۔ یہ پانچ سو روپے کا چیک تھا جو ہماری کہانی نویسی کا کل معاوضہ تھا۔ اس وقت تک ہم کہانی نویس کی حیثیت سے پہچانے بھی جاتے تھے اور اس سے کہیں زیادہ معاوضہ لیا کرتے تھے۔ مگر ’’حساب دوستاں درددل‘‘ کے مطابق ہم نے پھر کبھی اس موضوع پر ان سے بات نہیں کی۔

اب ہم اپنی پہلی فلم کیلئے ان سے بات کر رہے تھے اور معاوضے کا فیصلہ پہلے ہی کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے بڑی بے تکلفی سے کہا ’’تمہیں تو پتا ہے کہ آج کل میں ’’اتنا‘‘ معاوضہ لیتا ہوں اور پانچ ہزار ایڈوانس ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’یہ بتاؤ کہ ہم سے کتنا معاوضہ لو گے؟‘‘

ہنس کر بولے ’’یار تم سے کوئی بزنس تو نہیں کروں گا۔ چلو تم پانچ سو کم دے دینا۔‘‘

ہم نے کہا ’’یار شرم کرو، یہ تو بہت زیادہ ہے۔‘‘

’’چلو پانچ سو اورکم کردو‘‘

ہم نے کہا ’’سوچیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم ایڈوانس نہیں دیں گے۔ تھوڑی رقم فلم بننے کے دوران میں دیں گے اور بیلنس ریلیز پر۔‘‘

وہ سر کھجانے لگے ’’یار میں ایسا کرتا تو نہیں ہوں اس لئے کہ پروڈیوسروں کا کوئی بھروسا نہیں ہے مگر تمہاری بات اور ہے۔ تمہارے ساتھ رعایت کردوں گا۔‘‘

ہم چلے آئے مگر ان کے اس کاروباری رویّے کا ہمیں بہت دکھ ہوا۔ کم از کم کمال سے ہمیں یہ امید نہ تھی۔ حبیب صاحب سے ہماری یاداللہ بہت پرانی تھی۔ جب لقمان صاحب نے اپنی تاریخی فلم ’’ایاز‘‘ کیلئے انہیں منتخب کیا تھا اس وقت سے ہماری ان سے ملاقات تھی۔ کافی میل جول تھا۔ ہم نے اخباروں میں انہیں پبلسٹی بھی دی تھی۔ بے شمار دن اور راتیں ہم نے ایک ساتھ گزاری تھیں۔ وہ بالکل نئے اداکار تھے اور نئے اداکاروں کے ساتھ فلمی دنیا کافی بے اعتنائی برتتی ہے۔ مگر ہم نے ہر موقع پر ان کا ساتھ دیا تھا۔ پھروہ کامیاب ہیرو بن گئے اور اس کے بعد فلم ساز۔ وہ بہت بااخلاق آدمی ہیں۔ باتیں بھی بہت میٹھی کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو کمال نے کیا تھا۔ بولے ’’آفاقی صاحب۔ آپ سے میں کاروبار تو نہیں کروں گا۔ آپ جو مناسب سمجھیں دے دیجئے گا۔‘‘

’’پھر بھی۔ رقم کا فیصلہ ہو جائے تو بہتر ہے۔‘‘

وہ ہنسنے لگے’’جلدی کیا ہے۔ جب فلم شروع ہوگی تو وہ بھی ہو جائے گا۔ مگر آپ اسے مسئلہ نہ بنائیں۔‘‘

ہم نے کہا ’’ہم ایڈوانس رقم نہیں دیں گے اور معاوضہ فلم مکمل ہونے پر ادا کریں گے۔‘‘

’’فکر کیوں کرتے ہیں۔ مجھے آپ پر بھروسا ہے۔‘‘

اداکار حبیب کے اس رویّے نے ہمیں بہت متاثر کیا۔

حسن طارق صاحب حبیب کے انتخاب سے زیادہ مطمئن نہیں تھے۔ دراصل ہمیں بھی یہ انتخاب زیادہ موزوں نہیں لگا تھا مگر دوسرے دستیاب ہیرو بالکل ہی ناموزو ں تھے۔ مثلاً سنتوش کمار، درپن، سدھیر، یوسف خاں ان کرداروں کیلئے عمر کے اعتبار سے مناسب نہیں تھے۔ لے دے کے کمال اور حبیب ہی نظر آتے تھے حالانکہ ہمارے خیال میں وہ بھی کرداروں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تھے۔ مگر کوئی اور چارہ نہ تھا۔

یاسمین سے ہماری پرانی ملاقات اور بے تکلفی تھی۔ انہوں نے لقمان صاحب کی فلموں میں بھی کام کیا تھا جن سے ہم بھی وابستہ رہے اور اس زمانے میں فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں ہمارا کافی وقت ساتھ گزرتا تھا۔ وہ ادب دوست، خوش گفتار اور خوش مزاج خاتون ہیں۔ مزاح کا ذوق بھی ہے۔ شعر و ادب سے آگاہی رکھتی ہیں اس لئے ان سے گاڑھی چھنتی تھی۔

ہماری یاسمین سے اس وقت سے ملاقات تھی جب وہ کیمرا مین جعفر شاہ بخاری کی بیگم تھیں۔ جعفر شاہ پاکستان کے بہترین کیمرا مینوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ بعد میں وہ فلم ساز اور ہدایت کار بھی بنے اور بہت اچھی فلمیں بنائیں فلم ’’بھروسا‘‘ کے فلم ساز اور ہدایت کا جعفر شاہ ہی تھے۔ اس فلم سے ریاض شاہد کہانی نویس اور مکالمہ نگار کی حیثیت سے نمایاں ہو کر سامنے آئے اور پھر انہوں نے پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا۔اس اعتبار سے ریاض شاہد کو فلمی صنعت کے سامنے پیش کرنے کا کریڈٹ جعفر شاہ بخاری کو جاتا ہے ان دونوں کی اولاد میں ایک بیٹا ناصر بخاری ہیں جو آج کل انگلستان میں ہیں۔ وہاں انہوں نے ایک انگریز لڑکی سے شادی کی۔ چار بچوں کے باپ بنے اور پھر میاں بیوی میں علیحدگی ہوگئی۔

جعفر شاہ بخاری کے ساتھ یاسمین کا ساتھ کافی طویل رہا مگر پھر انہوں نے جعفر شاہ بخاری سے طلاق حاصل کرلی اور کچھ عرصے بعد سیّد شوکت حسین رضوی سے شادی کرلی۔ وہ اب دو بیٹوں کی ماں ہیں۔ یہ دونوں اب شاہ نور اسٹوڈیو میں شوکت صاحب کے حصّے کا انتظام سنبھالتے ہیں۔

یاسمین کا نام پہلے زرینہ ریشماں تھا۔ وہ بمبئی میں بھی کچھ عرصے فلمی صنعت سے وابستہ رہیں۔ پھر پاکستان آنے کے بعد کئی فلموں میں اداکاری کی۔ پہلے وہ معاون اداکاروں کے طور پر کام کرتی رہیں۔ پھر ہیروئن بن گئیں۔ ہیروئن کی حیثیت سے ان کی پہلی فلم پنجابی میں تھی۔ اس کا نام ’’جبرو‘‘ تھا اور اس میں ہیرو کے طور پر پہلی بار اکمل کو پیش کیا گیا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس فلم میں سبھی اہم لوگ پہلی بار ذمّے داریاں نبھا رہے تھے۔ اس کے ہدایت کار مظفر طاہر تھے۔ مصنّف سکّے دار تھے۔ ہیرو اکمل اور ہیروئن یاسمین تھیں۔ ویلن اور کامیڈین کے روپ میں طالش کو پیش کیا گیا تھا۔ اس کے فلم ساز فقیر صلاح الدین کا تعلق لاہور کی معروف فقیر فیملی سے تھا۔ ’’جبرو‘‘ بے حد کامیاب ثابت ہوئی۔ اس طرح یونٹ کے سبھی لوگوں نے شہرت اور مرتبہ حاصل کیا۔

یاسمین کا قد چھوٹا تھا مگراللہ نے اسکے بدلے اسے اور بہت کچھ دیا تھا۔ چہرے مہرے اور جسم کی ساخت کے اعتبار سے ان کا شمار بہت معیاری ایکٹریسوں میں کیا گیا لیکن وہ صفِ اوّل میں نمایاں نہ ہوسکیں۔ حقیقی زندگی میں وہ بہت سنجیدہ اور ہنسنے ہنسانے سے پرہیز کرنے والی ہستی نظر آتی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وہ بہت زندہ دل اور ہنس مکھ ہیں۔ اچھے اور شائستہ مذاق اور شعر و شاعری کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن آغاز ہی سے ان پر المیہ اداکارہ کا ٹھپا لگ گیا اس لئے وہ فلمی روایات کے مطابق ایسے ہی کرداروں کیلئے وقف ہو کر رہ گئیں۔ حالانکہ وہ ہر طرح کے کردار یکساں مہارت سے ادا کرسکتی ہیں۔

ہم یاسمین سے ملے اور انہیں یہ اطلاع دی کہ ہم فلم ساز بننے والے ہیں۔ انہوں نے ہمیں نہ صرف مبارک باد دی بلکہ فوراً ہمارا منہ بھی میٹھا کرادیا۔ہم انہیں کہانی کے بارے میں بتاتے رہے جوانہیں بہت پسند آئی۔ انہوں نے کسی شرط کے بغیر ہی ہمیں فلم کیلئے تاریخیں دینے کا وعدہ کرلیا۔ معاوضہ وغیرہ کی بات وہ گول ہی کر گئیں اور کہا کہ آپ کی پہلی فلم ہے۔ معاوضے کا کیا ہے، وہ تو آپ دے ہی دیں گے۔ ان کے اس رویّے سے ہماری بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس فلم میں ایک اہم کردار ان کے شوہر کا بھی تھا جو شادی کے دو سال بعد ہی حادثے میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کردار کیلئے ہم مناسب اداکار کی تلاش میں تھے۔ پھر سوچا کہ یہ ایسا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ کسی بھی بڑے اور مقبول اداکار کو مہمان اداکار کے طور پر کاسٹ کرلیں گے۔فلم میں ایک اور اہم کردار نوخیز ہیروئن کا بھی تھا۔ اس لڑکی میں کہانی کے دونوں ہیرو دلچسپی رکھتے تھے۔ زیبا اس زمانے میں اُبھرتی ہوئی اداکارہ تھیں۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 264 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -