چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ تیسری قسط

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ تیسری قسط
چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ تیسری قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ ۔ایم وقاص مہر

جیا لین پونامی ایک شخص نے ایک ماہ کے قلیل ترین عر صہ میں ، علوم اثارِقدیمہ سے نا بلد ہونے کے باوجود ’’پیکنگ مین ‘‘کے تین کاسۂ سر کو کھوج کر اس عظیم تحقیق میں اپنا کردار ادا کیاتھا۔لیکن جب1937ء میں جاپان نے چین پر قبضہ کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر فوجی کاروائیوں کا آغاز کیا تو بد قسمتی سے اس وقتزہوکوڈیان کی حفاظت پر معمور تینوں سپاہی جاپانی بربریت کا نشانہ بن گئے ۔ اس وقت پیکنگ مین کے بے حد قیمتی کھوپڑی گم ہو گئی تھی۔زہوکوڈیان میں پیکنگ مین اور ماؤنٹین ٹاپ کیوو مین سے دریافت ہونے والی معدوم نسلِ انسانی کی یہ باقیات آج بھی ان مقامات پر ان کی موجودگی اور ترقی کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔یہ دریافتیں اور تحقیق اس مقام کے مثالی رتبے کو گلوبل علومِ اثارِقدیمہ سے متحد کر تی ہیں۔

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب ۔ ۔ ۔ دوسری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آخر کار زہوکوڈیان سے ماضی کے ان مردہ اثار کی کھدائی کے دوران قدیم مردوزن کے علاوہ جوان اور بوڑھے انسانوں کے 6 کاسۂ سر،کھوپڑیوں کے 12ٹکڑے، 15نچلے جبڑے،157دانتوں کی حصے اور چالیس سے زیاہ انسانی ڈھانچوں کے ٹکڑے دریافت کر لیے گئے تھے۔اس کے علاوہ 1لاکھ سے زائد پتھر کے آلات کے نمونے اور کچھ ایسے آتشدان بھی دریافت ہوئے تھے جن میں وہ لوگ ہڈیوں اور پتھروں کو جلایا کرتے تھے۔

پیکنگ مین کے کاسۂ سر(کھوپڑی کا وہ حصہ جہاں پردماغ ہوتا ہے)اوسطاََ وسعت 1,088ملی لیٹرز ہوتی تھی جبکہ آج کے ماڈرن انسان کی 1,400ملی لیٹرز ہے۔ایک اندازے کے مطابق پیکنگ مرد 156سینٹی میٹرز اور خواتین150سینٹی میٹرز لمبی ہوتی تھیں۔ پیکنگ مین چونکہ پتھر کے زمانے سے تعلق رکھتا تھا،اس لئے پتھر کے آلات کو وہ چیزوں کو کاٹنے اور پیسنے کے ساتھ ساتھ اکثر اوقات بعض موقعوں پر کھدائی کے لئے بھی استعمال کیا کرتے تھے۔پیکنگ مین ہی وہ ابتدائی انسانی نسل تھی جس نے آگ کا استعمال شروع کیا تھا اور وہ بڑے بڑے جانوروں کا شکاربھی کیا کرتے تھے ۔پیکنگ مین کی زندگی کم ہوتی تھی کیونکہ ایک اندازے کے مطابق 68.2فیصدسے زیادہ لوگ 14سال کی پہلے ہی مرجاتے تھے،اور 4.5فیصد سے کم افراد 50سال سے اوپر جی پاتے تھے۔

1953ء زہوکوڈیان کے پیکنگ مین کے مقام پر،کھدائی کے دوران دریافت ہونے والی اشیاء کی نمائش کیلئے،0 400مربع میٹرزپر محیط ایک میوزیم تعمیر کیا گیا تھا۔اس وقت نمائش بنیادی طور پر چار مخصوص رقبوں کو دی گئی تھی ۔جن میں بے دم بندرنما چینی باشندہ،بغیر دم بندسے مشابہہ چینی باشندہ ،کھدائی والی جگہوں کے مقام اوربلادم والے بندرسے انسان تک کے مقامات شامل تھے۔لیکن کچھ ایسی چیزوں کو بھی نمائش کے لئے رکھا گیا ہے جو اگرچہ اصلی تو نہیں البتہ ان کو دوبارہ کچھ ایسے انداز میں تخلیق کیا گیا ہے کہ وہ اصلی دیکھائی دیتی ہیں۔آج بھی معدوم جانوروں اور آتشدانوں کی باقیات اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔دسمبر 1987ء میں یونیسکو نے زہوکوڈیان دینا کے اثار قدیمہ کے مقامات کی فہرست میں درج شامل کر لیا تھا۔

(جاری ہے.اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

دنیا میں کہنے کو ہر ملک اپنے ماضی کی شاندار عظمتوں پر ناز کرتا ہے لیکن چین جیسی مثال پر کوئی کم ہی اترتا ہے جس نے اپنے ماضی کو موجودہ دور میں شاندار نظام سے جوڑ رکھااور ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔چین نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماضی کو کیوں زندہ رکھا ،اس بات کی اہمیت کا اندازہ مشہور چینی موؤخ ڈنگ یانگ کی ہسٹری آف چائنہ پڑھنے سے ہوجاتا ہے۔

مزید : چین کی عظمت رفتہ کا سفر