1947ء میں لدھیانہ کے مسلمانوں پر کیا گزری؟

1947ء میں لدھیانہ کے مسلمانوں پر کیا گزری؟
1947ء میں لدھیانہ کے مسلمانوں پر کیا گزری؟

  

مشرقی پنجاب کے مسلمان ہنستے بستے اپنے گھروں میں آرام سے رہ رہے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے ہندو مسلم فساد شروع ہوئے، قتل و غارت، مار دھاڑ شروع ہو گئی اور سب مسلمان گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دئیے گئے۔ ’’1947ء میں لدھیانہ کے مسلمانوں پر کیا گزری‘‘۔۔۔ ایک ضخیم کتاب کا نام ہے ۔ اس کتاب میں اسی شہر لدھیانہ کی داستان مظالم کا تذکرہ ہے جو غیر مسلموں کی طرف سے مسلمانوں پر توڑے گئے تھے۔ یہ داستان محمد اسلم نے اپنے قلم کے ذریعے قرطاس پر منتقل کی ہے جس کے واقعات کی تفصیل پڑھ کر مزید جاننے کی جستجو پیدا ہوتی ہے اور ہندو سکھوں کے اس بغض کا پتہ بھی چلتا ہے جو وہ مسلمانوں کے خلاف اپنے سینوں میں رکھتے تھے اور رکھتے ہیں۔ لدھیانہ مشرقی پنجاب کا ایک بڑا معروف شہر ہے جس کے ایک طرف جالندھر آباد ہے تو دوسری طرف پٹیالہ کی آبادی ہے۔ اس کی حدود میں دریائے ستلج بھی بہہ رہا ہے۔ لدھیانہ شہر میں پارچہ بافی خصوصاً ہوزری کی صنعت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، شاید اب بھی ہو۔ دور دراز کے شہروں دیہاتوں سے لوگ تلاش روزگار کے لئے اس شہر کارخ کرتے تھے۔برصغیر پاکستان و ہند کے سیاسی افق پر لدھیانہ کے اثرات بہت گہرے رہے ہیں۔یہ بہت مردم خیز شہر ہے۔ لدھیانہ شہر سے اٹھنے والی آزادی کی تحریکیں پورے برصغیر پاک و ہند پر انمٹ رہی ہیں۔ یہ شہر مجلس احرار کا بہت بڑا مرکز رہا ہے۔ یہاں جو شخصیات پیدا ہوئیں، ان میں مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی بڑی اہم مرکزی شخصیت تھے۔ انہی کی وجہ سے بڑے بڑے نامور لیڈر اس شہرکارخ کرتے اور مولانا مرحوم سے مشورے لے کر اپنی تحریک کے لئے راہیں متعین کرتے تھے۔ تاریخی اعتبار سے اس شہر کو ہندوستان کے فرمانروا ابراہیم لودھی نے آباد کیا۔ اسی نسبت سے اس شہر کو لدھیانہ کا نام دیا گیا۔ لدھیانہ میں ہندو بھی تھے، مسلمان بھی اور سکھ بھی۔ مسجدیں بھی آباد تھیں۔ سکھوں کے گردوارے اورمندر بھی تھے۔ سب کا آپس میں میل جول بھی تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اگست 1947ء میں آناً فاناً یہ شہر اجڑ کر رہ گیا۔ اس کی فضائیں،اس کی ہوائیں ، اس کی صبحیں، اس کی شامیں اس کے مسلمان باسیوں سے چھین لی گئیں۔ اس کی ہوائیں یہاں کے رہنے والے خصوصاً مسلمانوں پر ممنوع کر دی گئیں۔ مسلمانوں کوبیک بینی و دو گوش اس طرح نکلنے پر مجبور کر دیا گیا جس طرح سپین سے مسلمانوں کو باہر نکال دیا گیا تھا۔یہ بات بڑی واضح ہے تقسیم برصغیر کے وقت جو لرزہ خیز اتھل پتھل ہوئی تو بہت سے خاندان بچھڑ کر رہ گئے۔ خاندان ہی نہیں، بلکہ افراد خانہ بھی ایک دوسرے سے جدا ہوئے، بعض مل گئے، بعض کا بالکل پتہ ہی نہ چلا۔ جانے ان کے ساتھ کیا گزری۔

کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ محمد اسلم (مصنف کتاب) نے مختلف خاندانوں کے افراد کا پتہ چلانے اور ان کے احوال جمع کرنے میں کس مستعدی اور جاں گسل حالات سے گزر کر احوال کو جمع کیا۔ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔کتاب کے مصنف محمد اسلم لدھیانہ میں پیدا نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے لدھیانہ شہر کو اپنی ہوش کی عمر میں دیکھا۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کے دل میں شہر لدھیانہ کی محبت جسم میں خون کی طرح گردش کر رہی ہے۔ان کو لدھیانہ سے محبت نہیں، بلکہ عشق ہے ان کا دل اپنا ہے، لیکن اس میں دھڑکن لدھیانہ کی ہے۔انہوں نے شہر لدھیانہ اور یہاں کے باسیوں کی باتیں اپنے بڑوں سے سنیں جو دل میں گھر کر گئیں اور وطن کی محبت جاگ اٹھی۔ انہوں نے اپنے محسوسات کو قلم کے ذریعے گویائی دی اور 1800صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب کو وجود بخشا۔یہ اگست کا مہینہ تھا، روزوں کے دن کہ اعلان ہوا نکل چلو قیامت برپا ہونے والی ہے۔ یہ اعلان سرکاری کارندوں کی طرف سے کیا گیا،جس کی زبان بھی مضحکہ خیز تھی۔ لوگوں نے اعلان سنتے ہی گھروں کو چھوڑا اور جائیدادیں، چلتے کاروبار ترک کر کے بے خانماں اور برباد حالات میں نکل کھڑے ہوئے۔ انہیں اس بات کا بھی علم نہیں تھا کہ ہماری منزل کہاں ہے، کہاں جانا ہے؟ پھر راستے میں خوراک کا انتظام کیا ہو گا، کہاں ٹھہریں گے، کہاں رکیں گے، کچھ پتہ نہیں۔۔۔ بچے ، بوڑھے، جوان سب نکل کھڑے ہوئے، پھر راستے بھر دشمنوں کی یلغار کا خوف اور ڈر اس پر مستز او تھا۔ قتل و غارت کے سمندر سے گزرتے ہوئے نہتے مسلمان پاکستان کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ یوں پورے پنجاب کے مسلمانوں پر یہ قیامت صغریٰ قائم تھی۔ ہر شہر، ہر قریہ، ہر گاؤں کی داستان مستقل تھی، لیکن محمد اسلم صاحب نے صرف لدھیانہ شہر کے ہی حالات کو جمع کیا ہے۔شروع کے ستر صفحات پر کتاب کے مصنف محمد اسلم نے اپنے قلبی تاثرات کا ذکر کیا ہے جو داستان ہجرت کے حوالے سے انہوں نے اپنے بڑوں سے سن کر شعور و لاشعورمیں محفوظ کئے، پھر ان کو قلمی قالب دیاتاکہ آنے والی نسلیں یہ محسوس کر سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد کو کن مصائب و مسائل سے گزر کر اپنے وطن پاکستان میں پہنچنا نصیب ہوا۔ یہ داستان بڑی دل سوز بھی ہے دِل گداز بھی۔ اس میں کئی مقام ایسے آتے ہیں جو قاری کو آہوں کے ساتھ پکا رپر مجبور کر دیتے ہیں۔ گاہ بہ گاہ آنسوؤں کا سیل بھی رواں ہو جاتا ہے،جو شعوری نہیں ،بلکہ غیر شعور ی ہوتا ہے۔

چند صفحات پر انہوں نے اپنے خاندان کے بزرگوں کے حالات بھی لکھے ہیں جو اس بات کی غمازی کریں گے کہ اگر انسان اللہ پر بھروسہ کرے اور صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرے تو اللہ اس کو کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے اور بڑی سے بڑی مشکل بھی اس کے لئے آسان ہوجاتی ہے۔لدھیانہ کے مسلمانوں پر پڑی افتاد کو اکٹھا کرنے کی سعی کی ہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔ابتدائی سو صفحات سے زائد صفحات پر مصنف نے لدھیانہ شہر اور اس کے مضافات کا اور وہاں کی معروف شخصیات کا تعارف اپنے قلم سے لکھا ہے۔ محمد اسلم صاحب نے بعض سرکردہ لیڈر حضرات سے کئے گئے انٹرویوز بھی شامل کئے ہیں جو بہت معلوماتی ہیں جن میں سردار شوکت حیات خاں کا انٹرویو بھی شامل ہے۔ ’’لدھیانہ کے مسلمانوں پر کیا گزری‘‘ کو دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ صاحب کتاب بہت باذوق علمی شخصیت ہیں۔ ان کے پاس بہت نایاب تصویریں موجود ہیں، جن میں سے بعض نادر تصاویر کو کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی مسلم ہے کہ تصویری ابلاغ تحریری ابلاغ کی نسبت بہت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جس سے مذکورہ کتاب کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔کتاب کے مکمل مطالعہ سے اس بات کا احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ کتاب مسلمانان لدھیانہ کی داستان ہجرت ہی نہیں،بلکہ تاریخی لحاظ سے لدھیانہ شہر اور مضافات کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس کتاب سے لدھیانہ کے مسلمانوں کے شعور سیاست کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور شعور ذات کے حوالے سے بہت سے عظیم خاندانوں کے حالات و واقعات کا بھی پتہ چلتا ہے جو مرور ایام سے علمی ذہنوں کی شکل میں مصنف نے زندہ کر دئیے ہیں۔

مصنف نے کتاب کے آخری حصے میں تحریک آزادی کے مشہور احراری لیڈر ماسٹر تاج الدین انصاری کی لکھی مختصر کتاب کو بھی شائع کیا ہے۔ اس کتابچے کا نام ’’سرخ لکیر‘‘ ہے، اس میں انہوں نے یکم اگست 1947ء سے لے کر 8نومبر 1947ء کے دوران چار ماہ کی ڈائری لکھی ہے جو بہت معلوماتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے خواجہ فیض محمد فیض لدھیانوی کو بھی شامل تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے 14اگست1947ء سے لے کر 9ستمبر 1947ء تک پیش آنے والے واقعات کو سپرد قلم کیا ہے۔ یہ دونوں تحریریں بہت معلوماتی ہیں، جن سے اس وقت کے دلدوز حالات کا پتہ چلتا ہے۔ ’’لدھیانہ کے مسلمانوں پر کیا گزری‘‘ بہت دلچسپ کتاب ہے اور داستان عبرت بھی ہے۔ داستان عبرت ان معنوں میں کہ اگر مسلمان اجتماعی طور پر اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے احکام سے پہلو تہی کریں گے تو آخرت میں اعمال کی بنیاد پر جزا و سزا کا پیمانہ موجود ہے، جس پر قیامت کے روز فیصلے تو لازمی ہوں گے، لیکن اگر اجتماعی طور پر بدعملی بڑھ جائے، اللہ کی مرضی ہو تو اللہ کی گرفت دنیا میں بھی آسکتی ہے،یہی صورت پنجاب کے مسلمانوں کے ساتھ 1947ء میں پیش آئی جس کا مشاہدہ دنیا نے کھلی آنکھوں سے کیا۔ برصغیر میں پیش آنے والی صورت اسی کیفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مصنف نے یقیناًایک بہت بڑا فرض ادا کر دیا ہے۔صرف فرض ہی ادا نہیں کیا، بلکہ ایک بہت بڑے قرض سے بھی سبکدوشی حاصل کی ہے جو پاکستان کے مسلمانوں پر عموماً، خصوصاً اہلِ لدھیانہ پر عائد تھا۔ مذکورہ کتاب اس بات کی تحریک بھی ہے کہ کاش دیگر علاقوں کے لوگ بھی قلم تھامیں، اپنی یادداشتوں کو جمع کریں اور قرطاس پر منتقل کر کے اپنے حصہ کاقرض اتارنے کی کوشش کریں تاکہ نئی نسلوں میں پاکستان جیسی عظیم نعمت کا احساس جنم لے سکے۔

’’1947ء میں لدھیانہ کے مسلمانوں پر کیا گزری‘‘ میں اس خط و کتابت کا بھی ذکر ہے جو مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اور علامہ اقبالؒ کے مابین ہوئی۔ تحریک آزادی ہند اور تشکیل پاکستان کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لئے کتاب کا یہ حصہ انتہائی اہم اور انتہائی دلچسپ ہے۔ اس کے مطالعے سے اس دور کی سیاسی صورت حال کا بھی بخوبی علم ہوتا ہے اور ساتھ ہی مجلس احرار اور علامہ اقبال کے باہم محبانہ تعلقات کا علم بھی ہوتا ہے اور ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا ہے جو بعض عاقبت نا اندیش متعصب حضرات دونوں اکابر میں پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔کتاب کے ابتدائی اور آخری صفحات نامور لکھاری حضرات ہارون الرشید، عبدالقادر حسن، محترمہ بانو قدسیہ کی تحریروں سے مزین ہیں جو کتاب کی قدر و منزلت میں اضافے کا باعث ہیں۔ ہارون الرشید کہتے ہیں۔۔۔ 1947ء کی روئیداد اذیت ناک ہے، گزرے زمانوں کے بند دروازے کھولتی ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ بھول جائے تاریخ بھی اسے فراموش کر دیا کرتی ہے۔ اجتماعی حافظہ اکثر کمزور ہوتا ہے اور میڈیا کی یلغار میں کمزورتر۔ بھارت عالمی استعمار کا ساتھی ہے۔ کچھ منشی اور محرر امن کے گیت کرائے پر گاتے ہیں،چاہتے ہیں کہ سب کچھ بھلا دیا جائے۔ ہماری دانست میں اگر قومیں اپنے اپنے واقعات کو قصداً بھلانے کی کوشش کریں تو ممکن ہے وہ واقعات ذہنوں سے محو ہو جائیں اور تاریخ میں بھی باقی نہ رہیں، تاہم ایسی قوموں کا جغرافیہ ضرور بدل جاتا ہے اور قومیں اپنا وجود بھی کھو دیتی ہیں۔

مزید :

کالم -