نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ۔۔۔ ایک جائزہ

نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ۔۔۔ ایک جائزہ
 نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ۔۔۔ ایک جائزہ

  



جاتے ہوئے سال کی24دسمبر کو مُلک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی، جسے قانونی حیثیت دے کر نافذ کیا گیا۔ اس قومی پلان کے بیس نکات کے نفاد کے ضمن میں حکومت نے زور شور سے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس پلان کے نفاذ اور عملدرآمد کے لئے انتظامیہ کو جو بھی کرنا پڑا اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ مُلک کی ساری صوبائی حکومتوں کو پابند کیا گیا کہ دہشت گردی کی لعنت سے مکمل نجات کے لئے اس میں مندرج جملہ تجاویز پر عملدرآمد میں وہ وفاق کی مدد کریں۔ اس کے عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے سب سے پہلے پاکستان کے عسکری ہیڈ کوارٹر اور بعدازاں صوبوں کے صدر مقامات پر اجلاس منعقد کئے، اس پر عملدرآمد کی رفتار کا جائزہ لیا اور اجلاس کے شرکاء نے اپنا یہ عزم دہرایا کہ ہر حالت میں دہشت گردی کے عفریت سے نجات کے لئے اس قومی دستاویز پر عمل کیا جائے گا۔ قومی پریس میں اس ضمن میں کافی اعداد و شمار شائع ہوئے جس سے یہ عیاں ہو رہا ہے کہ مُلک بھر کی انتظامیہ یکسو ہو کر ان تجاویز کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واقعی حکومت اپنے اس عزم کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے یا اس کی کاوشوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے؟ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پوری قوم کو دلجمعی سے اس مجوزہ پلان کے نکات پر عمل کرنا چاہئے۔ فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر عمل کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کی گئی ہے۔ مُلک بھر میں متشدد کارروائیوں کے ملزمان کو جو پھانسی کی سزا کے منتظر تھے، تخت�ۂ دار پر لٹکایا جانا تھا۔ تقریباً آٹھ سے دس ایسے ملزمان کی سزاؤں پر عمل کر دیا گیا ہے، جبکہ درجنوں ایسے ملزمان کے مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اُن کا جلد فیصلہ کروا کر ان ملزمان کی سزاؤں پر عمل درآمد کرنا چاہئے تاکہ اس سزا کا تاثر پوری طرح قائم ہو۔ پلان میں دوسری اہم شق کے مطابق جن جہادی تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، اُن کو دیگر ناموں کے ساتھ کام کرنے سے منع کیا جانا ہے، لیکن متعدد ایسی تنظیمیں پابندی کے باوجود دیگر ناموں کے ساتھ فیلڈ میں موجود ہیں۔ ان تنظیموں کے رہنما بڑے طمطراق کے ساتھ اپنا نقط�ۂ نظر پیش کرتے نظر آ رہے اور ہماری اطلاعات کی منسٹری سیاست میں الجھی دکھائی دیتی ہے۔ وزیر اطلاعات کو اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ اسلام آباد کے ایک مشہور مدرسے کے منتظم اعلیٰ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔ حکومت نے یہ عندیہ دیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، لیکن ان کی گرفتاری سے گریز کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے امریکہ کے دورے کے دوران یہ اعلان کیا ہے کہ اُن کی گرفتاری سے دہشت گردوں کی انتقامی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کیا اس طرح کے نیم دلانہ اقدامات سے مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے؟ بعض اسلامی سیاسی جماعتوں کے سربراہان ابھی تک حکومت کے اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں، سیاست پر ہر چیز قربان کی جا رہی ہے اور قوم کے سب سے بڑے مسئلے پر صرف اشک شوئی کی حد تک عملدرآمد ہو رہا ہے۔ ان لوگوں میں سے اکثر حکومت کے سیاسی حلیف ہیں یا وہ برسر اقتدار طبقے کے قریب ہیں۔ جب تک ان سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر کام نہیں کیا جائے گا، قوم کو اس عفریت سے نجات نہیں ملے گی۔ ہمیں مصلحتوں سے آزاد پالیسی پر عملدرآمدضرورت ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی قومی تنظیم (نیکٹا) کو مزید فعال کیا جائے گا، لیکن اس ضمن میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس تنظیم نے وزارت خزانہ سے جو فنڈز طلب کئے ہیں وہ ابھی تک واگزار نہیں کئے گئے۔ حکومت کی خاموشی اور تساہل پسندی سے اس جنگ کے نتائج کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں۔جب تک مصلحتوں سے پاک سنجیدہ کاوشیں نہیں کی جائیں گی، ہماری آئندہ نسل کا مستقبل محفوظ نہیں ہو گا۔۔۔ حکومت کو سیاست سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ مدرسوں اور مذہبی مکاتب کی کارکردگی کے بارے میں اس دستاویز میں ایک نکتہ موجود ہے۔ کیا اس حقیقت سے انکار ہو سکتا ہے۔ کیا حکومت کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود نہیں ہیں کہ بعض مدرسوں سے دہشت گردوں کی بھرتی ہوتی رہی ہے اور گرفتار ملزمان نے جو انکشاف کئے، کیا وہ چشم کُشا نہیں ہیں۔ ایسی ناقابلِ تردید شہادت کے بعد کیا کسی مزیداطلاع کی ضرورت رہ جاتی ہے؟ جب تک مذہبی مدرسوں اور تعلیمی اداروں کے بارے میں یکساں قومی پالیسی تشکیل نہیں دی جاتی، اس جنگ میں کامیابی سراب ہی رہے گی۔ پرویز مشرف کے دور میں ان مدرسوں کے جملہ کوائف جمع کئے جا چکے ہیں اور جملہ اعداد و شمار حکومت کے پاس موجود ہیں۔ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس ان اداروں کے اس گھناؤنے کھیل میں شمولیت کے ثبوت موجود ہیں۔ اس کے برعکس حکومت سیاسی مصلحتوں کے تابع ہو کر صحیح سمت میں ایکشن لینے سے گریزاں ہے، جب تک اس سمت میں خوف سے مبرا اور سیاست سے پاک پیشرفت نہیں کی جاتی، اس اہم جنگ میں فتح ناممکن رہے گی۔ ہمیں مثبت اور غیرمتزلزل طور پر آگے بڑھنا ہو گا، وگرنہ سارے اقدامات صرف اشک شوئی پر ہی محمول ہوں گے اور آئندہ نسل کا مستقبل محفوظ نہیں رہے گا، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کا مستقبل بھی محفوظ نہیں ہو گا تو یہ غلط نہیں۔ حکومت مذہبی عناصر سے عناد مول لینا نہیں چاہتی۔ لاؤڈ سپیکر کے استعمال کی خلاف ورزی پر اقدامات ضروری ہیں، لیکن مکمل نہیں ہیں۔ صوبوں کی کارکردگی مثبت انداز میں ہونی چاہئے۔ پوائنٹ سکورنگ کا سہارا لینے کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔ حکومت کو خوف کے ماحول سے باہر آنا ہو گا اور بھرپور اقدامات کرنے ہوں گے۔

مزید : کالم