45ویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ

45ویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی ...
45ویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر گستاؤلی بان اپنی تصنیف تمدن ہند میں لکھتے ہیں:

لفظ ہندو قومیت کے لحاظ سے کچھ معنی نہیں رکھتا۔۔۔

اس سے آگے یہی ڈاکٹر ’’ہندوؤں میں تاریخ کی کمی‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے

یہی تحقیق کی کمی ہے جس کی وجہ سے ان ہزار رہا جلدوں میں جو ہندوؤں نے تین ہزار سال کے تمدن میں تصنیف کی ہیں۔ ایک تاریخی واقعہ بھی صحت کے ساتھ درج نہیں ہے۔ اس زمانہ کے کسی واقعہ کو معین کرنے کے لیے ہمیں بالکل بیرونی چیزوں سے کام لینا پڑتا ہے۔ ان کی تاریخی کتابوں میں ان کی عجیب خاصیت ہر چیز کو غلط اور غیر فطری صورت میں دیکھنے کی نہایت مبین طور پر پائی جاتی ہے اور انسان کو اس خیال پر مجبور کرتی ہے کہ ان کا دماغ ہی ٹیڑھا ہے۔‘‘

بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ۔۔۔44ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

داتا گنج بخش اور لاہور

لاہور کی قدامت کے ثبوت میں بعض لوگ داتا گنج بخش کی یہاں تشریف آوری اور مزار کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی اور اس کے غلام ایاز کے ساتھ وہ اس وقت آئے تھے جب کہ ۳۹۳ ھ یا ۴۰۲ ھ میں لاہور فتح ہوا تھا۔ لہٰذا اس بارے میں ’’روحانی رابطہ‘‘ نامی کتاب کا مندرجہ ذیل خلاصہ قابل توجہ ہے۔

’’داتا گنج بخش ہجویری جن کا نام علی، والد کا نام عثمان اور حسنی سید تھے۔ غزنی شہر کے محلہ ہجویر کے باشندہ تھے اور جن کا مزار پنجاب کے شہر لاہور میں ہے۔‘‘ شہزادہ دارالشکوہ اپنی تصنیف سفینتہ الاولیا میں لکھتا ہے

جس زمانہ میں داتا گنج بخش لاہور میں تشریف لائے تو پہلے اپنی قیام گاہ کے پاس ایک مسجد کی بنیاد رکھی ۔یہ وہی مسجد ہے جس کے صحن میں ان کا مزار ہے۔ مسجد کے متعلق روایت ہے کہ لاہور میں یہ پہلی مسجد ہے۔ کشف المعجوب اور دوسری تاریخی کتابوں سے ان کے جو حالات معلوم ہوئے ان کا سال پیدائش اور وفات صحیح طور پر معین نہیں ہوسکتا اور نہ لاہور میں آنے کی تاریخ معلوم ہو سکتی ہے۔

مورخوں نے متضاد بیانات درج کئے۔ مثلاً ان کے لاہور آنے کی تاریخیں ۴۲۳ھ، ۴۲۴ھ تا ۴۳۱ تا ۴۴۰ ھ اور ۴۶۱ ہجری بیان کی گئی ہیں اور سال وفات ۴۶۵ھ اور بعض نے ۴۷۰ ھ بیان کیا ہے۔ داتا صاحب کے مزار پر جو کتبہ لگا ہے اس پر بھی سال وفات ۴۶۵ھ ہے لیکن کتبہ کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ۱۲۴۵ھ میں میاں عوض نے چار دیواری بنانے کے وقت لگایا ہو یا اس کے بعد ۱۲۷۸ ھ میں نور محمد فقیر نے مزار پر گبند بنانے کے وقت لگایا ہو گا۔ تحریر کتبہ قابل اعتبار اس لئے نہیں کہ یہ رسم الخط غزنوی دور کا نہیں بلکہ شہنشاہ اکبر کے زمانہ کا بھی نہیں بلکہ اس کے بہت بعد کا رسم الخط ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے۔ یہ کتبہ ۱۲۴۵ھ یا ۱۲۷۸ھ کا بنا ہوا ہے جس کا تاریخی اعتبار سے سند کے طور پر ماننا خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ مورخین کے متضاد بیان اور سال وفات کے متعلق مختلف تاریخیں مثلا ۴۶۵ھ ۔ ۴۶۹ھ ۔ ۴۷۰ ھ صحیح معلوم نہیں ہوتے بلکہ پہلے پہل جس نے غلطی کرکے تاریخ وفات بغیر تحقیق کے ۴۶۵ھ لکھ دی تو دوسروں نے بھی بغیر تحقیق کے نقل در نقل کر دی حتیٰ کہ کتبہ کا بھی یہی حشر ہوا۔ اس غلط اندراج کی وضاحت داتا صاحب کی اپنی تالیف کشف المجوب میں شیخ سہلکی کا ذکر اس طور سے کرتے ہیں کہ ’’ان کے وطن کا تھا اور وہ ایک نیکو کار کا بیٹا تھا۔‘‘ امام ذھبی کی تالیف’’تاریخ اسلام‘‘ کے بیان کے مطابق شیخ سہلکی ۴۷۷ھ میں وفات پا چکا تھا۔ کشف المجوب میں امام اشقانی کا ذکر کرتے ہوئے داتا صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ امام اشقانی علیہ الرحمتہ بعض علوم میں میرے استاد تھے۔ اور یہی امام اشقانی امام ذہبی کی تصریح کے مطابق ۴۷۹ھ میں وفات پا چکے ہیں لہٰذا دونوں مشائخ کا ذکر صیغہ ماضی بعید سے ہوا ہے تو اس کے نتیجہ میں داتا صاحب ۴۷۷ اور ۴۷۹ھ میں زندہ تھے بلکہ ۴۸۱ کے ثبوت کے علاوہ ۴۸۵ھ تک ان کی زندگی کا ثبوت ملتا ہے۔ جیسا کہ شیخ نظام الدین اولیاء اپنی کتاب ’’فوائد الفواد‘‘ میں لکھتے ہیں کہ

’’شیخ ہجویری داتا گنج بخش اور شیخ حسین زنجانی دونوں ہمعصر تھے اور ایک پیر کے مرید۔‘‘

شیخ زنجانی کے متعلق مفتی غلام سرور لاہوری نے خزینتہ الاصفیاء جلد دوم میں لکھا ہے کہ :

’’محمد غوری کی شہادت کے ایام میں جو ۶۰۲ھ بمقام دھمیک واقع ہوئی،اس وقت شیخ زنجانی زندہ تھے۔‘‘

شیخ جمالی کی تصنیف سیرالعارفین میں جو بمقام دہلی ۱۳۱۱ھ میں چھپی ہے صفحہ ۱۲ پر لکھا ہے کہ

’’حضرت زبدۃ الاولیاء و المشائخ معین الحق والدین حسن نجری اجمیری ۶۰۰ھ میں جب لاہور پہنچے تو شیخ المشائخ پیر علی ہجویری، قدس سرہ، اسی سال(یعنی ۶۰۰ ھ میں) وفات پا چکے تھے اور شیخ زنجانی زندہ تھے۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے شیخ زنجانی سے رخصت لی اور دہلی روانہ ہوئے۔‘‘ (ص ۱۲)

یہ تھا خلاصہ عبدالحلیم اثر کی کتاب روحانی رابطہ کا۔ (جاری ہے)

چھیالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان