بے سہارا اور کمزور افراد کی ضروریات کو پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری: عمران خان 

  بے سہارا اور کمزور افراد کی ضروریات کو پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری: عمران ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)  وزیر اعظم عمران خان نے  وفاقی دارالحکومت میں ماڈل پناہ گاہوں کے قیام اور ان میں فراہم کی جانے والی معیاری سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے  کہ بے سہارا اور کمزور افراد کی ضروریات کو پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،اس ضمن میں حکومت ہر ممکنہ کوشش کرکے گی، پناہ گاہوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے،پناہ گاہوں میں قیام کرنے والے مزدروں، بے سہار افراد  کو رہنے اور کھانے پینے کی بہترین سہولیات میسر آئیں، ان کی عزت نفس کا تحفظ بھی یقینی  بنایا جائے، پاکستانی قوم میں خدمت خلق کا بے پناہ جذبہ موجود ہے، حکومت کی جانب سے ایسی کاوشوں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ پیر کو   وزیرِا عظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت میں قائم پانچ پناہ گاہوں کی اپ گریڈیشن اور ملک کے دیگر حصوں میں بہترین سہولتوں سے آراستہ پناہ گاہوں کے مفصل نیٹ ورک کے قیام کے حوالے سے اجلاس ہوا  جس  میں معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، سیکرٹری  تخفیف غربت و سماجی تحفظ محمد علی شہزادہ، ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی و دیگر سینئر افسران شریک تھے۔  معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیرِ اعظم کو وفاقی دارالحکومت میں قائم پانچ پناہ گاہوں کی اپ گریڈیشن اور ان میں قیام کرنے والے بے سہارا اور غریب مزدوروں اور دیگر مستحق افراد کو فراہم کی جانے والی بہترین سہولیا ت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔  ڈاکٹر ثانیہ نے بتایا کہ پناہ گاہوں میں قیام پذیر افراد کا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے تاکہ ان اعداد و شمار کو جہاں سروس کی بہتری کے لئے برؤے کار لایا جا سکے وہاں  یہ ڈیٹا اس کارِ خیر میں حکومتی کوششوں کا ساتھ دینے والے مخیر حضرات و دیگر ڈونرز کے ساتھ بھی شئیر کیا جا سکے۔   ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی نے ملک بھر میں پناہ گاہوں کے نیٹ ورک کو وسیع کرنے کے حوالے سے روڈ میپ وزیرِ اعظم کو پیش کیا۔    پناہ گاہوں کے نظام کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے بیت المال کے قانون میں ترمیم کرنے کی بھی اصولی منظوری دی ہے۔    وزیرِ اعظم نے وفاقی دارالحکومت میں ماڈل پناہ گاہوں کے قیام اور ان میں فراہم کی جانے والی معیاری سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے سہارا اور کمزور افراد کی ضروریات کو پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں حکومت ہر ممکنہ کوشش کرکے گی۔  و زیر اعظم عمران خان نے  کہا  ہے کہ سٹنٹنگ جیسے اہم مسئلے کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا،  اس  کی وجہ سے ہمارے بچوں کہ نہ صرف ذہنی و جسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ معاشرہ ان کی تعمیری صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے، سٹنٹنگ پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہے،اس حوالے سے وفاق اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا، صوبوں کی مشاورت سے سٹنٹنگ کی روک تھام کے لئے ٹائم لائنز پر مبنی جامع روڈمیپ تشکیل دیا جائے جسے مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ پیر کو  وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان نیشنل نیوٹریشن کوارڈینیشن کونسل کا پہلا  اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا  جس میں وفاقی وزراء   شفقت محمود، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سید فخر امام، اسد عمر، مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد، معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ملک امین اسلم، ڈاکٹر فیصل مرزا، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹری صاحبان اور سینئر افسران شریک۔ صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں غذائی قلت اور غیر معیاری خوارک کی وجہ سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر پڑنے والے اثرات کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے  سٹنٹنگ کی روک تھام کے حوالے سے حکومتی ترجیحات واضح کی تھیں۔ وزیرِ اعظم کے ویڑن اور حکومتی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے اور سٹنٹنگ کی روک تھام کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کی سطح پر کوارڈینیشن کو بہتر و منظم بنانے اور اس حوالے سے مفصل و جامع پروگرام پر عمل درآمد کے لئے قومی سطح پر نیشنل نیوٹریشن کوارڈینیشن کونسل تشکیل دی  گئی ہے۔ آٹھ وفاقی وزراء، چیف سیکرٹری صاحبان، اور ماہرین پر مشتمل اس کونسل  کے قیام کا مقصد سٹنٹنگ کی روک تھام اور حوالے سے منظم پروگرام کو عملی جامہ پہنانا ہے۔   معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ  نشتر نے اجلاس کو سٹنٹنگ کی وجوہات، سٹنٹنگ کی وجہ سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر پڑنے والے اثرات، سٹنٹنگ کا باعث بننے والے مختلف عوامل اور غذائی قلت کے حوالے سے ماضی میں تشکیل دی جانے والی حکمت عملی اور منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔   اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ دس سالوں میں خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی تو کی جاتی رہی تاہم اس پر موثر طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا جا سکا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ملک میں تقریباً چالیس فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ صوبہ سندھ میں یہ شرح اوسطاً پچاس فیصد ہے۔   اجلاس کو بتایا گیا کہ سٹنٹنگ کے حوالے سے بنیادی کردار  ادا کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے تاہم وفاقی حکومت اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر کوارڈینیشن، سٹنٹنگ کے حوالے سے جامع ڈیٹا بیس اور معلومات کی فراہمی اور سٹنٹنگ کی روک تھام کے لئے خاص منصوبوں کا اجراء   کرے گی۔ اس حوالے سے احساس نشوونما ڈیش بورڈ آج سے ملک بھر میں کام شروع کردے گا جہاں تمام متعلقین کو سٹنٹنگ کے بارے میں مفصل ڈیٹا  میسر آئے گا۔  اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے ویژن کی روشنی میں احساس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں نو اضلاع میں چھتیس احساس نشوونما سنٹر قائم کیے گئے ہیں  جہاں ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی غذائی قلت کو پورا کرنے کے لئے نہ صرف غذا فراہم کی جاتی ہے بلکہ ماؤں کو مشروط کیش بھی فراہم کیا جاتا ہے۔    وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سٹنٹنگ جیسے اہم مسئلے کو ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ سٹنٹنگ کی وجہ سے ہمارے بچوں کہ نہ صرف ذہنی و جسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ معاشرہ ان کی تعمیری صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹنٹنگ پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے وفاق اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ وزیرِ اعظم نے معاون خصوصی برائے صحت اور معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ کو ہدایت کی کہ صوبوں کی مشاورت سے سٹنٹنگ کی روک تھام کے لئے ٹائم لائنز پر مبنی جامع روڈمیپ تشکیل دیا جائے جسے مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -