ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کیخلاف دائر رٹ درخواستیں باقاعدہ سماعت کیلئے منظور 

   ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کیخلاف دائر رٹ درخواستیں باقاعدہ سماعت کیلئے منظور 

  

پشاور(نیوزر پورٹر) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس عتیق شاہ پر مشتمل دورکنی بنچ نے ملک بھر کے میڈیکل کالجز میں داخلوں کیلئے لئے گئے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کیخلاف دائر رٹ درخواستیں باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل کمیشن اور ٹیسٹ لینے والی ایجنسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12اکتوبر تک جواب طلب کرلیاجبکہ انہیں ہدایت کی کہ اگر فریقین تحریری جواب عدالت میں جمع کرانا چاہتے ہیں تو وہ دے سکتے ہیں جبکہ جسٹس عتیق شاہ نے کہا کہ ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا، پورے ملک کے فیل شدہ طلبہ کے جو تحفظات ہیں کیا حکومت اس کیلئے کچھ کررہی ہے، دورکنی بنچ نے نورعالم خان ٗ عباس خان سنگین، عالمزیب خان،فاروق آفریدی اور سلیم احمد خان،  وغیرہ کیجانب سے دائر رٹ درخواستوں پر سماعت کی، جبکہ وفاقی حکومت کی طرف اسسٹنٹ اٹارنی جنرل توفیق قریشی اور پاکستان میڈیکل کمیشن کے وکیل سنگین خان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ پی ایم سی قانون کے مطابق ایم ڈی کیٹ ایک ہی دن پر لیا جائے گاتاہم اس بار ٹیسٹ یکم اگست سے شروع ہوکر 30 ستمبر تک جاری رہے۔انہوں نے بتایاکہ پی ایم سی نے اپنے مجوزہ قانون 2020کی شق 18 کی خلاف ورزی کی ہے، اسی طرح ایم ڈی کیٹ کیلئے صوبہ کی بجائے وفاق کے نصاب کو فالو کیا جانایہاں کے طلباء کے ساتھ ناانصافی ہے۔ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا طریقہ کار غیر شفاف اور غیر منصفانہ تھااوراسکی وجہ سے کئی قابل طالبعلم ٹیسٹ پاس نہ کرسکے،انہوں نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج اور میڈیکل کالجز کے داخلوں کو معطل کرنے کی بھی استدعا کی۔دورکنی فاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پرپاکستان میڈیکل کمیشن،سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرکے 12اکتوبر تک جواب طلب کرلیا، عدالت نے قراردیا کہ اگر فریقین چاہیں تو تحریری جواب عدالت میں جمع کراسکتے ہیں۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -