’’اتہاسک لاہور‘‘ اور آغا شورش کاشمیری

’’اتہاسک لاہور‘‘ اور آغا شورش کاشمیری
’’اتہاسک لاہور‘‘ اور آغا شورش کاشمیری

  


سوانحی ادب میری مطالعاتی مصروفیت کا ایک خاص زاویہ ہے۔ کہتے ہیں خدا شکر خورے کو شکر ہی سے نوازتا ہے، میرا بھی زندگی بھر کا یہی تجربہ ہے۔ آئے روز مجھے کوئی نہ کوئی سوانحی کتاب مل جاتی ہے۔ ابھی ایک مکمل طور پر پڑھ نہیں پاتا کہ ایک دو مزید کتابیں ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے میں محمد عاصم بٹ کی تازہ مرتب کردہ کتاب ’’لاہور والے‘‘ سے ابھی ایک دو ہی خاکے پڑھ پایا کہ سانجھ پبلی کیشنز کے پروپرائیٹر امجد سلیم نے 24سوانحی مضامین کا ایک تازہ مجموعہ میرے سامنے رکھ دیا: ’’اتہاسک لاہور‘‘۔ یہ لاہور سے تعلق رکھنے والے 24اردو ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کا تذکرہ ہے۔

کتاب کے مشمولات میں اس ایک نام نے فوراً میری توجہ کھینچ لی: ’’آغا شورش کاشمیری‘‘!

آغا صاحب کو پہلے پہل میں نے 1967ء میں گجرات کے ایک جلسہ عام میں سنا۔ وہ مقامی دیو بندی عالم دین حضرت مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاریؒ کی دعوت پر تشریف لائے اور ڈیڑھ دو گھنٹے خوب جم کر خطاب کیا۔ اس کے بعد میں ان کے ہفتہ وار رسالے ’’چٹان‘‘ کا باقاعدہ قاری بن گیا۔ دوسری دفعہ آغا صاحب اگست 1970ء میں گجرات آئے، سیاسی لحاظ سے یہ زبردست طوفانی موسم تھا۔

آغا صاحب کی وہ ولولہ انگیز تقریر آج بھی میرے حافظے میں پوری طرح محفوظ ہے۔ اس کے بعد مَیں نے آغا صاحب کی ہر کتاب بڑے ذوق و شوق سے پڑھ ڈالی، حتیٰ کہ ایک دفعہ مجھے کسی اولڈ بک سیلر سے آغا صاحب کی آزاد ہند فوج کے بارے میں تحریر کردہ کتاب ’’دہلی چلو‘‘ ہاتھ لگ گئی۔

یہ کتاب تقسیم سے پہلے شائع ہوئی تھی،چنانچہ مَیں خوشی خوشی آغا مسعود شورش کو دکھانے گیا تو ان کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ کتاب اب آغا صاحب کے ذاتی ذخیرہ کتب میں بھی موجود نہیں رہی تو میں نے فوراً وہ کتاب مسعود صاحب کی نذر کر دی۔ مسعود صاحب نے مجھے اس کی فوٹو کاپی دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وعدہ تو بس وعدہ ہی ہوتا ہے۔

یہ تمہید دراصل مَیں نے اپنی ’شورش شناسی‘ کے اظہار کے طور پر باندھی ہے۔ اب جو ’’اتہاسک لاہور‘‘ میں آغا صاحب کے بارے میں مضمون پڑھا ہے تو سچی بات ہے ، خوشی ہونے کے بجائے افسوس ہوا ہے۔

مضمون کیا ہے، غلطیوں کا پلندہ ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد کتاب میں شامل دیگر شخصیات کو پڑھنے پر طبیعت کسی طور بھی آمادہ نہیں ہوئی۔ لیجئے چند جھلکیاں قارئین کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں، اندازہ لگا لیجئے قومی بے حسی کا کہ ہم اپنے رہنماؤں کے بارے قلم اٹھاتے ہوئے کتنے لاپروا ہو جاتے ہیں۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

صفحہ 369 پر فاضل مصنف لکھتے ہیں:

’’ان کی نثرنگاری، مضمون نگاری اور کالم نگاری پر مولانا عبدالکلام آزاد کی تحریروں کے اثرات تھے۔ فن تقریر کے حوالے سے وہ سید عبداللہ شاہ غازی کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں‘‘۔ ابو الکلامؒ کی جگہ ’’عبدالکلام‘‘ اور سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کی جگہ ’’سید عبداللہ شاہ غازی‘‘ لکھ دیا ہے۔ چند صفحے آگے رقم طراز ہیں: شورش نے اپنی صحافتی زندگی میں روزنامہ ’’آواز‘‘ کی ادارت کی جو مجلس احرار کی طرف سے لاہور سے شائع ہوتا تھا‘‘۔۔۔ حالانکہ اس روزنامے کا نام ’’آواز‘‘ نہیں ’’آزاد‘‘ تھا۔ اسی صفحہ پر مصنف نے ایک بات سراسر ہی خلافِ حقیقت رقم فرما دی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’قیام پاکستان کے لئے زندگی گزارنے والے شورش کے معاملات قیام پاکستان کے بعد بھی تسلی بخش نہ رہے‘‘۔

’’قیام پاکستان کے لئے زندگی گزارنے والے شورش‘‘ کے الفاظ سے یوں لگتا ہے جیسے آغا صاحب تحریک قیام پاکستان میں شامل رہے ہوں،حالانکہ وہ برطانوی دور میں مجلس احرار اسلام میں تقسیم تک شامل رہے، اور کون نہیں جانتا کہ مجلس احرار قیام پاکستان کی مخالف تھی، اگرچہ اس نے آزادی کے لئے بے مثال قربانیاں دیں اس کے بعد فاضل مصنف نے ’’شورش کے معاملے میں قیام پاکستان کے بعد بھی تسلی بخش نہ رہے‘‘ ایک مجہول اور مبہم سا جملہ لکھا ہے۔ معلوم نہیں وہ کہنا کیا چاہتے ہیں۔

شورش کاشمیری بیک وقت اعلیٰ پایہ کے خطیب ، صاحبِ اسلوب ادیب و شاعر اور نڈر صحافی تھے۔ ان کی ملی خدمات بے پناہ ہیں۔ صرف ختمِ نبوت تحریک کو دیکھیں تو اس محاذ پربھی ان کی جدوجہد بے مثال ہے۔ اس سلسلے میں وہ بار بار قیدو بند کی آزمائشوں سے بھی گزرے اور عزیمت و استقامت کی شاندار تاریخ رقم کی۔ ان کی ادبی خدمات پر پروفیسر سردار احمد مرحوم اور صحافتی کارکردگی پر وقار چودھری نے پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے۔

اول الذکر مقالہ ہنوز شائع نہیں ہوا، موخر الذکر شائع تو ہو گیا مگر سراسر سطحی تحقیق کا نمونہ ہے۔ لے دے کے گوجرانوالہ کے جناب پروفیسر اقبال جاوید کا کام قابل توجہ ہے۔ انہوں نے آغا صاحب کی ادبی اور صحافتی تحریروں کے انتخابات نگارشاتِ شورش، مضامینِ شورش اور قلم کے چراغ شائع کرکے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔

زیر بحث کتاب کا عنوان بھی نامانوس سا ہے۔ ہندی میں اتہاس کا مطلب ہے، ’’تاریخ‘‘! اتہاسک سے مراد ہے ’’تاریخی‘‘۔ یعنی کتاب میں شامل تاریخی شخصیات ہیں۔ لیکن اگر ان شخصیات کے بارے میں بھی معلومات آغا شورش والے مضمون کی طرح غیر ذمہ داری اور لاپروائی سے پیش کی گئی ہیں تو مصنف کی اس روش کو آخر کیا نام دیا جائے!

مزید : رائے /کالم


loading...