اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر23

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر23
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر23

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہوٹل میں چائے کی میز پر ہم پانچوں بیٹھ گئے۔ دوسری میز پر غالباً اُستاد لوگ کھسر پھسر کر رہے تھے۔ بڈھے نے کہا۔’’ ان کی باتیں سنو، یہ اسی کٹم کے لوگ ہیں،‘‘ ایک کہہ رہا تھا!

’’ یہ سب محمد دین کی ہڈیاں ہیں جو ان مکانوں کی بنیاد میں پڑی ہیں ، خدا جانے وہ مرگیا ہے یا زندہ ہے۔ لیکن پچھلے دنوں کوئی کہہ رہا تھا کہ تانگہ چلاتا ہے اب جو یہ خانزادہ پھنسا ہے تو اس کے پاس لے دے کے بیس پچیس ہزار روپیہ ہوگا، اور وہ زیادہ سے زیادہ دس بارہ روز کی مار ہے۔‘‘

’’ یہ روپیہ کیونکر ہتھیاتی ہیں؟‘‘

’’ یہی تو ان کا فن ہے ۔ سب سے پہلے تماش بین کی حیثیت کا جائزہ لیتی ہیں، پھر اسی کے مطابق اپنی طلب و خواہش کا نقشہ بناتی ہیں۔ ایک گراں قدر رقم ماہانہ مقرر ہوجاتی ہے ، پھر مجرا ہے ، اُستاد جی ہیں ، لگے بندھے ہیں ، جو اپنے آپ بیٹھے ہیں نوکر آتا ہے‘‘

‘‘ بی جی آج کیا پکے گا۔‘‘

’’ مرغا ، بٹیر، متنجن ، بریانی وغیرہ اور اسُ کی جیب خود بخود کھل جاتی ہے۔‘‘

’’ آپ نے کہا چلئے سیر کو چلتے ہیں ، اُس نے شاپنگ پر اصرار کیا، ہر پھیرے میں کئی کئی ہزار اُٹھ جاتا ہے، ان کے ہاں کپڑے کی کئی کئی سو جوڑے ہوتے ہیں ، اور زیور کا تو کہنا ہی کیا ان کی طلب کبھی ختم نہیں ہوتی، ان کے ہاں رات کا عشق بڑا مہنگا ہوتا ہے ، لیکن دن کا عشق کبھی گراں کبھی ارزاں۔‘‘

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر22پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ وہ دیکھئے چو بارے پر ایک نائکہ بیٹھی ہے ، بڑی مالداراسامی ہے ۔ اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ۔ اِدھر اُدھر سے ایک لڑکی خرید کر جوان کی ہے اور اب اسی کے سہارے جی رہی ہے، اس کی بوٹی بوٹی میں حرام رچا ہوا ہے۔ اُدھر پکھراج منزل کی سج دھج ملاحظہ کیجئے ۔ اس کی مالکن خانہ نشین ہوگئی ہے ، ہے پکاپان، آج ہی مری کل مری ، وہ سامنے ہجرو کنجر کا مکان ہے ، غورفرمایئے ، بلڈنگ کا ناک نقشہ کیا ہے؟ وسط میں کتبہ لگا ہوا ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکان حاجی چودھری ہجرو

اور اندر کیا ہوتا ہے؟ اس قطار کو دیکھ لیجئے نیچے اُوپر بازاریوں کے مکان ہیں، کیا بن سنورکر بیٹھتی ہیں، اور وہ مسجد ، ان مکانوں میں ایک مریل دوشیزہ کی طرح دبکی بیٹھی ہے۔ وڑینچ کا مکان ایک بڑا مذبح ہے ، اور وہ سامنے کئی کوٹھی خانے ہیں ہر بڑی عمارت پر سنگ مر مر میں بحروف جلی ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کھدا ہوا ہے ، یا تو ان کے مالکوں کا اسلام مر چکا ہے یا اللہ میاں ڈھیل دے رہے ہیں۔‘‘

’’ یہ ملا لوگ جو ہر لحظہ اسلام اسلام کرتے ہیں وہ بھی تو آیات الٰہی کی اس امانت پر نہیں بولتے۔‘‘

’’ اور وہاں یہ دیکھئے۔ وہ نوجوانوں کا غول سال ہے ، سب ان کے بھائی بند ہیں ، ہر کوئی دماغ چوٹا ہے۔ یہ تمام بچے ایسے برے اُٹھتے ہیں کہ ان میں کوئی بھی خودکماؤ نہیں، سب بہنوں یا ماؤں کے صدقے میں دندناتے پھرتے ہیں ، ان کی آنکھیں میں روشنی ہے، لیکن غیرت کی دنیا میں اندھیر ہے۔

’’ اُدھر موڑ کی کھٹیا پر ایک کھوسٹ بیٹھا ہے وہ بازار کو چودھری ہے لیکن ان کا با ناغائب ہے اور اب تانا ہی تانارہ گیا ہے۔‘‘

’’ چیت رام روڈ کی بازاریاں اس ڈھائی ڈھوئی کے مینہ کی پیداوار ہیں۔ کنچنوں کے ہاں خمیری روٹی پکتی ہے ان کے ہاں بے خمیر، ان کا کاروبار کچھ لو او رکچھ دو تک محدود ہے، یہ جو گہما گہمی نظر آتی ہے ان میں کچھ کن رسیے ہیں ، زیادہ تر نظر باز جو اپنی جنسی تندرستی کے لئے آجاتے ہیں! یہاں بڑے بڑوں کی اینٹ سے اینٹ بجی ہے تب کہیں ان عمارتوں کی اینٹیں جڑی ہیں۔ ہر حویلی میں کئی خاندانوں کی اینٹیں ہیں خون ہے گارا ہے لیکن اب جو طوائفیں ہیں وہ غبارے ہیں ، اور جو گویا ہیں وہ میراثی ہیں تو وہ ہنچوں ہنچوں کرتے ہیں‘‘

’’ لیکن بابا ! کچھ تو اچھے گویا ہیں۔ ‘‘

’’ مثلاً‘‘

’’ مثلاً مختار حشروالی۔‘‘

’’ اس کا تلفظ غلط ہے۔‘‘

’’ شمشاد۔‘‘

’’ گالیتی ہے ، لیکن اب اس کا زمانہ بیت گیا ہے۔‘‘

’’ فریدہ۔‘‘

’’ وہ گاتی نہیں رانبھتی ہے۔‘‘

’’ الماس۔‘‘

’’ کبھ کوکتی اور کبھی ممیاتی ہے۔‘‘‘

’’ اختری۔‘‘

’’ وہ غٹرغوں کرتی ہے۔‘‘

’’ انور بائی۔‘‘

’’لاحول و لاقوۃ ، وہ ہنہناتی ہے، یا بھن بھناتی ہے۔‘‘

’’زرینہ۔‘‘

’’کڑکڑاتی ہے۔‘‘

’’الٰہی جان۔‘‘

’’چوں چوں کرتی ہے۔‘‘

’’زہرہ و مشتری۔‘‘

’’ کائیں کائیں کرتی ہیں۔‘‘

’’ عنایت بائی۔‘‘

’’بغ بغاتی ہے۔‘‘

’’ شمیم ۔‘‘

’’ جھنکارتی ہے۔‘‘

’’ گلشن آرا۔‘‘

’’ چنگھاڑتی ہے۔‘‘

’’ اس کی بہن شمشاد۔‘‘

’’ چٹ چٹاتی ہے۔‘‘

’’ اور زاہدہ پروین؟‘‘

’’ طوائف تو نہیں ، پیرنی ہے، بس گالیتی ہے۔‘‘

’’شہناز۔‘‘

’’ تھرک لیتی ہے۔‘‘

’’ توگویا آپ اس بازار کی جڑیں تک جانتے ہیں۔‘‘

’’ جی نہیں! ان کی جڑ تو خاکم بدہن ان کا پروردگار بھی نہیں جانتا ،یہ آپ کو جتنی صورتیں بھی نظر آتی ہیں سب چھوٹے زیور ہیں۔‘‘

اور یہ پہناوے اُودے ہرے نیلے پیلے کالے سفید چمپئی جامنی دھانی شنگرفی فالسائی نارنچی لاجوروی زنگاری سردئی پیازی گلابی یا کاکریز۔ جو آپ کو دریچوں میں اُڑتے نظر آتے ہیں ، یہ سب ہماری اور آپ کی جوانی کاکفن ہے۔‘‘(جاری ہے)

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اس بازار میں