انسان کی سرشت میں تین عیب !

انسان کی سرشت میں تین عیب !
 انسان کی سرشت میں تین عیب !

  

قرآن کی رو سے انسان کی سرشت میں تین عیب ہیں۔ سورة المعارج نمبر70 کی آیات19 تا 35 کا ترجمہ ملاحظہ ہو:(19)بے شک انسان بہت لالچی پیدا ہوا ہے۔ (20)جب اُسے تکلیف پہنچے تو سخت گھبرا جانے والا۔ (21)اور جب اُسے دولت ملے تو حد درجہ بخیل (22) بجز ان نمازیوں کے۔ (23)جو اپنی نماز پر پابندی کرتے ہیں۔ (24) اور وہ جن کے مالوں میں مقررہ حق ہے۔ (25)سائل کے لئے اور محروم کے لئے۔ (26) اور جو تصدیق کرتے ہیں روز جزا کی۔ (27) اور جو اپنے رب کے عذاب سے ہمیشہ ڈرنے والے ہیں۔(28) بے شک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں۔ (29)اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (30)بجز اپنی بیویوں کے یا اپنی کنیزوں کے تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔ (31)البتہ جو خواہش کریں گے ان کے علاوہ تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ (32) اور جو اپنی امانتوں اور عہدو پیمان کی پاسداری کرتے ہیں۔ (33) اور جو لوگ اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔ (34) اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (35) یہی لوگ مکرم و محترم ہوں گے، جنتوں میں“۔-2 مذکورہ بالا ترجمہ ہے۔ زیر نظر آیاتِ مبارکہ کا جو قارئین کرام کی خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔ یہاں بڑی وضاحت سے اس حقیقت سے پردہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ اسلام نے جو نظام عبادات کا اپنے ماننے والوں کے لئے تجویز کیا ہے، وہ محض پوجا پاٹ اور بے مقصد رسومات نہیں، جن کو انسان کی اصلاح اور تربیت سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو، بلکہ یہ وہ انقلاب آفریں پروگرام ہے جو انسان کی صرف تربیت ہی نہیں کرتا، بلکہ اس کی سرشت میں جو عیوب اور کمزوریاں ہیں، ان کا بھی قلع قمع کر دیتا ہے اور اُس کو ایسی خوبیوں اور کمالات سے مزین کرتا ہے کہ وہ اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے، اپنی قوم کے لئے، اپنے مُلک کے لئے باعثِ صد عز و افتخار بن جاتا ہے۔ اس کے دم سے حق کا بول بالا ہو جاتا ہے۔ اس کی دل نوازیوں سے دُکھی انسانیت کے آلام و مصائب میں کمی آجاتی ہے۔ وہ پیکر یمن و برکت جدھر سے گزر جاتا ہے، مسرتوں کے پھول کھل جاتے ہیں۔ خوش حالی کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔ بے کسوں اور بے بسوں کو نئی زندگی، نئی اُمنگ مل جاتی ہے۔ آئیے! ذرا ان نورانی آیتوں میں (19 تا 35) میں غور کریں اور ان کے دامن میں رحمتوں اور برکتوں کے جو خزانے بھرے ہوئے ہیں، ان کا مشاہدہ کریں۔-3 آیاتِ مذکورہ میں اللہ رب العزت نے عجیب و غریب الفاظ بیان فرمائے ہیں۔ قارئین کی معلومات کے لئے ایسے الفاظ کی تشریخ مفید ثابت ہوگی۔ آیت نمبر 19 میں لفظ ”ھلوعاً“ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں، وہ حریص جو حلال و حرام میں تمیز نہ کرے اور تنگ دل ہو۔ آیت نمبر 20 میں لفظ جزوعاً ہے، جس کے معنی جزع و فزع کرنے والا۔ رونے اور پیٹنے والا۔ آیت نمبر 21 میں لفظ ”منوعاً“ آیاہے جس کے معنی ہیں سخت کنجوس اور سخت بخیل۔ اب ان تین آیات کے مذکورہ معانی کو ذہن میں رکھ کر پھر غور سے پڑھیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی سرشت میں تین بڑے عیوب ہیں۔ ایک تو وہ حریص اور کم ظرف ہے۔ ایسی چیزوں کو بھی ہڑپ کرنے کے لئے بے تاب رہتا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں ہوتیں۔ اس کی کوششیں ہر قیمت پر دولت سمیٹنے کے لئے وقف رہتی ہیں۔ خواہ دولت، رشوت سے ملے، لوٹ کھسوٹ سے ملے، چوری و راہزنی سے ملے، قوم کی غذائی اجناس کو سمگل کرکے ملے یا قوم و وطن سے غداری کر کے ملے، وہ باز نہیں آتا۔ ایسے لالچی کو عربی میں ھلوع کہا جاتا ہے۔ دوسرا نقص اس میں یہ ہے کہ وہ جزوع ہے، یعنی بہت گھبرا جانے والا ہے۔ جب مصائب کی گھٹائیں اس کی زندگی کے افق پر نمودار ہوتی ہیں تو اس کے ہاتھ پاو¿ں پھول جاتے ہیں۔ اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ امید کی کوئی کرن اسے نظر نہیں آتی۔ تیسرا نقص یہ ہے کہ وہ سخت کنجوس اور بخیل ہوتا ہے۔ کسی ملی یا قومی مقصد کے لئے کسی نادار اور فقیر کے لئے ایک دمڑی بھی خرچ نہیں کرتا۔ اب خود سوچئے کہ جس شخص میں حرص اتنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہو کہ وہ حلال و حرام کی تمیز سے بھی قاصر ہو۔ جو مصیبت کے وقت اپنے اوسان خطا کر بیٹھے اور مایوس ہو کر اپنے آپ کو رحم و کرم پر ڈال دے یا جب وہ دولت مند اور مال دار ہو تو کنجوس مکھی چوس بن جائے تو کیا ایسے شخص کا وجود اپنے ملک و ملت کے لئے باعثِ ننگ و عار نہیں ہوگا۔ اس سے اس کی بستی والے بھی نفرت کریں گے۔ اس کے گھر والے بھی بیزار ہوں گے اور سچ تو یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے لئے بھی وبال جان بن جاتا ہے۔-4 ایسی فطری کمزوریوں کا پیکر جب اسلام کی تعلیمات کو اپنا لیتا ہے۔ جب اس کے ارشادات پر عمل پیرا ہو جاتا ہے۔ جب اپنی زندگی کے روز و شب کو قرآن کریم کے پیش کئے ہوئے احکامات کو اپنے قالب میں ڈھال لیتا ہے تو اس کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ وہ حریض نہیں رہتا، وہ غنی ہو جاتا ہے۔ اس کا دل غنی ہو جاتا ہے (بے نیاز)۔ اس کی آنکھیں سیر ہو جاتی ہیں۔ مصائب کے تند و تیز طوفان جب اس سے آکر ٹکراتے ہیں تو اسے فولاد کی چٹان کی مانند مضبوط پاتے ہیں۔ ان حالات میں اس کی امید کا چراغ اور زیادہ ضیا بار ہوتا ہے۔ سیل حوادث سے وہ گھبراتا نہیں، بلکہ اس وقت اس کی خفیہ توانیاں، انگڑائیاں لینے لگتی ہیں۔ وہ ان سے فرار اختیار نہیں کرتا، بلکہ شیروں کی طرح ان پر جھپٹتا ہے اور جب اس پر خوشحالی کا دور آتا ہے تو وہ محتاجوں اور مسکینوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی مدد کرتا ہے۔ وہ کسی کو پریشان نہیں دیکھ سکتا۔ جب تک وہ کسی کی تکلیف کو دور نہ کر دے، اسے چین نہیں آتا۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو اسلام کے پیش کئے ہوئے نظام عبادات اور انصاف و عدل پر عمل کرنے سے انسان میں رونما ہوتی ہے۔ہماری شومیءقسمت ملاحظہ ہو کہ آج کا مسلمان اس بابرکت پروگرام کو اپنے لئے ناقابل برداشت بوجھ، ایک ناروا پابندی اور ایک غیر دلچسپ مصروفیت گردانتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ فطری کمزوریاں عود کر آتی ہیں اور بڑی قوت سے ہمارے قلب و نظر پر قبضہ جما لیتی ہیں۔ مذکورہ بالا قرآنی آیات میں جو نظام عمل ہمارے خالق مالک نے عطا فرمایا ہے، اس کا ذرا مطالعہ بھی کر لیتے ہیں، یعنی ان کمزوریوں سے وہ لوگ نجات پا لیتے ہیں، جو نماز ادا کرتے ہیں اور نماز ادا کرتے وقت صمیمِ قلب سے رب کی یاد میں محو ہوجاتے ہیں۔ دائیں بائیں ان کی نظر نہیں اُٹھتی۔ اس کیفیت میں وہ ڈوبے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے حضور میں حاضر ہیں۔ وہ ان کی حرکات و سکنات، بلکہ دل کے احساسات کو بھی دیکھ رہا ہے۔ جب نمازی نہایت عجز و انکسار سے اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے تو ایسی حالت پر اللہ رب العزت فخر سے فرشتوں سے کہتا ہے کہ دیکھ لو میرا بندہ کس انداز سے میرے سامنے جھکا ہوا ہے۔ ایسی حالت کے متعلق فارسی کا ایک شعر قارئین کی نذر کرتا ہوں:سرنوشتِ واژگوں را راست می سازد نمازنقشِ معکوس نگیں از سجدہ می گردد درستیعنی انسان کی قسمت میں اگر بدبختی، بدنصیبی اور بدقسمتی لکھی گئی ہو تو جب وہ سجدہ ریز ہوتا ہے تو ایسی تمام حرمان نصیبیاں اسی طرح درست اور سیدھی ہو جاتی ہیں، جس طرح مہر کے حروف اُلٹے ہوتے ہیں، مگر جب کاغذ پر لگتے ہیں، سیدھے ہوجاتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰة و السلام نے حضرت انسؓ کو فرمایا: اے انسؓ اپنی نگاہ اس جگہ رکھو، جہاں تم سجدہ کرتے ہو۔ ایسا کرنے سے حضور قلب اور وساوس سے نجات ملتی ہے۔ انہی آیات میں ایسے نیک لوگوں کی نشاندہی فرماتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ مال کو اپنی ذات کے لئے مخصوص نہیں کرتے، بلکہ انہوں نے اس میں ایک خاص حصہ مقرر کر رکھا ہے جو وہ سائلوں اور محروموں کو دیتے ہیں۔ سائل سے مراد مانگنے والا۔ محروم سے مراد وہ شخص جو ضرورت مند ہونے کے باوجود کسی سے مانگ نہ سکتا ہو اور کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کر سکتا ہو، یعنی ان لوگوں کو ایسے لوگوں کی تلاش رہتی ہے۔ وہ رات کے اندھیروں میں ان کے گھروں میں جاتے ہیں اور لوگوں کی نگاہوں سے چھپ چھپ کر ان کی امداد کرتے ہیں۔ یہ لوگ اس زندگی کو آخری زندگی خیال نہیں کرتے، بلکہ ان کا ایمان ہے کہ قیامت کے روز انہیں دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے اٹھایا جائے گا اور اُن سے ان کے اعمال کے بارے میں باز پُرس ہوگی۔ وہ نیکیاں کرتے ہیں، لیکن اس پر ناز نہیں کرتے۔ ہر وقت اپنی کوتاہیوں کا احساس کر کے اپنے رب کی ناراضی سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے رب کے عذاب کو کوئی دور نہیں کر سکتا۔ جو امانتیں ان کے سپرد کی جاتی ہیں، وہ ان میں خیانت نہیں کرتے۔ ہمارے اعضائ، ہمارے ہوش و حواس، ہماری عقل اور ہماری زندگی سب اللہ کی امانتیں ہیں۔ ان کو ان کے حکم کے مطابق صرف کرنا دیانت داری ہے اور ان کو اس کی نافرمانی میں خرچ کرنا بددیانتی اور خیانت ہے۔ اگر حکومت نے کوئی ذمہ داری کسی کو سونپی ہے تو اس کو اپنی پوری صلاحیتوں کے مطابق انجام دینا بھی اس میں داخل ہے۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرے گا تو وہ خائن ہوگا۔ عہد سے بھی مراد عام وعدہ ہے۔ خواہ بندے کا اپنے رب سے کوئی وعدہ ہو یا کسی دوسرے انسان سے اس کا ایفا بھی از حد ضروری ہے۔ جو گواہیاں ان کے ذمہ ہیں، انہیں بڑی سچائی سے ادا کرتے ہیں۔ کسی کا خوف، کوئی لالچ، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اُنہیں سچی گواہی دینے سے باز نہیں رکھتی۔ ان خوبیوں سے جو لوگ آراستہ ہیں، ان میں وہ فطری کمزوریاں باقی نہیں رہتیں۔ ان کا وجود سب کے لئے باعثِ رحمت و برکت بن جاتا ہے۔ اپنے انہی خصائل حمیدہ کے باعث وہ جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ان کو بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔  ٭

مزید : کالم