مہنگائی اور وزیر خزانہ

مہنگائی اور وزیر خزانہ

  

وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ مہنگائی سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کی وجہ سے بڑھی ہے۔انہوں نے ایک تفصیلی انٹرویو میں بتایا کہ سابقہ حکومت نے جان بوجھ کر ڈالر سستا رکھا اور ان کے بعد جب ڈالر کی قدر بڑھ گئی تو اس کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ وزیر خزانہ کے مطابق قیمتیں بڑھنے کی ایک وجہ غیر ممالک سے ضروری اشیاء کی درآمد بھی ہے۔ اس وقت چالیس لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے۔ملک میں گندم کی کھپت 290 لاکھ ٹن اور پیداوار 270 لاکھ ٹن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک سے5سے8لاکھ ٹن چینی درآمد کی جا رہی ہے۔ کھانے کا تیل، گھی، چائے کی پتی، دالیں اور پٹرول و ڈیزل بھی درآمد کرنا پڑتا ہے۔وزیر خزانہ نے بجلی کی پیداوار اور نرخوں کا سارا بوجھ بھی سابقہ حکومتوں پر منتقل کیا اور تسلیم کیا کہ بجلی کے بل وصول نہیں ہوتے۔کوئٹہ، قبائلی علاقوں اور اندرون سندھ سے بل وصول کرنے کا کام نجی شعبہ کو دیا جا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے بڑی تفصیل سے معاشی صورتِ حال پر روشنی ڈالی اور تمام تر ذمہ داری سابقہ حکومت پر عائد کی، تاہم لوگ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان زرعی ملک ہے، اور یہاں سابق کئی ادوار میں گندم اور چینی فاضل تھی، جو موجودہ حکومت ہی کے دور میں برآمد بھی کی گئیں اور پھر کمی اور قلت کے باعث درآمد شروع کی گئی۔ ایسی پالیسیوں کا بوجھ اپنے سر سے منتقل کرنا تو اچھی روایت نہیں۔ عوام اس عذر کو بھی تسلیم نہیں کرتے کہ پٹرولیم مصنوعات اور اشیاء خوردنی کی درآمد، ان کے مہنگا ہونے کی وجہ ہے یہ سب سابقہ دور میں بھی تھا، لیکن نوبت اس حد تک نہ آئی کہ ڈھائی ماہ میں پانچ بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت خود تو ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف پورا نہیں کر پائی اور بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ہمارا ملک گندم اور چینی میں خود کفیل تھا۔ قلت تب ہوئی جب یہ فاضل قرار دے کر برآمد کی گئیں۔ بہتر ہے کہ الزامات کی بجائے حقائق تسلیم کئے جائیں اور عوام کو آگاہ رکھا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -