ملک میں28 لاکھ ایس ایم ایزکام کر رہی ہیں:گورنر سٹیٹ بینک

ملک میں28 لاکھ ایس ایم ایزکام کر رہی ہیں:گورنر سٹیٹ بینک

بہاول پور (آن لائن)پاکستان میں اس وقت تقریباً28 لاکھ ایس ایم ایزکام کر رہی ہیں اور ہماری مجموعی قومی پیداوار کا30 فیصدحصہ ایس ایم ای شعبہ سے حاصل ہو رہا ہے اور تیار شدہ اشیا ء کی 25 فیصد برآمدات اسی شعبے سے ہو رہی ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے اس شعبے کو مضبوط اور مربوط بنیادوں پر مالی سہولیات مہیا کی جائیں کیونکہ یہ شعبہ نہ صر ف معاشی نمو کا اہم محرک ہے بلکہ روزگارکی فراہمی میں بھی اس شعبے کا کردار بالکل واضح ہے، یہ بات گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان طارق باجوہ نے بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران کہی۔ اس موقع پر بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر ملک محمد اعجاز ناظم ، سینئرنائب صدر حافظ جواد حسن ، سینیٹر چوہدری سعود مجید، ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد،بہاولپور چیمبر کے سابق صدور،اراکین ایگزیکٹو کمیٹی ، سٹیٹ بینک کے اراکینِ سینٹرل بورڈ اور دیگر اراکین چیمبر موجود تھے ۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے ایس ایم ایزپر جاری کردہ مختلف سکیموں کے بارے میں گورنر سٹیٹ بینک نے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ایس ایم ای سیکٹر سے متعلق بنائی گئی مختلف پالیسیوں سے اراکین چیمبر اور دیگر سٹیک ہو لڈرز کو رہنمائی دی جا سکے۔ انہوں نے بتا یا کہ بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایز کو فراہم کیا جانیوالا قرضہ اس وقت 8 فیصدرہ گیا ہے جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کافی کم ہے ہماری کوشش ہوگی کہ آنیوالے 3 سالوں میں اس قرضے کو 17 فیصد تک لایا جا سکے۔

اور تمام بینکوں کو قرض فراہم کرنے کے اہداف دیے جائیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت ملک میں قرض حاصل کرنے والے موجودہ ایس ایم ایز کی تعداد ایک لاکھ 74 ہزار ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس تعداد کو بڑھا کر 5 لاکھ تک کیا جا سکے اور قرض حاصل کرنے والوں کے لیے شرح سود میں بھی آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔ اس سے پہلے بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک محمد اعجاز ناظم نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور چیمبر کی جانب سے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں ، چائینہ کی کرنسی میں باہمی تجارت کی پالیسی بنائی جائے، تمام کمرشل بینکس کو ٹیکس کولیکشن کا پابند بنایا جائے، ٹیکسیشن کے نظام کو سازگار اور آسان بنایا جائے، ایس ایم ای قرضوں کی درخواستوں کے نظام کوسٹیٹ بینک کی رہنمائی میں سینٹرل لائز کیا جائے اور قرضہ جات کے فارمز کو آسان اور تمام بینکوں میں یکساں کیا جائے، چیکوں کی Same Day کلیرنس ،Call Back کنفر میشن کا خاتمہ، اسلامک بینکاری کے علاوہ بزرگ شہریوں کے لیے تمام کمرشل بینکوں میں علیحدہ سے ڈیسک قائم کیے

جائیں ۔ گورنر سٹیٹ بینک نے بہاولپور چیمبر کی جانب سے پیش کی جانیوالی تجاویز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چائینہ کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقا ت مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے اور سٹیٹ بینک نے اس پر کام شروع کر دیا ہے جبکہ سٹاک ایکسچینج نے بھی اس کے لیے انتظامات کر لیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایف بی آر کے ساتھ سٹیٹ بینک کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں تاکہ ایف بی آر ٹیکسیشن سسٹم میں آن لائن کی سہولت کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو آسانیاں حاصل ہوں۔ انہوں نے مزید بتا یا کہ بہاولپور میں سٹیٹ بینک کی اپنی بلڈ نگ کے لیے 12 کنال پر محیط رقبہ حاصل کر لیا گیا ہے اور جلد ہی حکومت پنجاب کے تعاون سے سٹیٹ بینک کی بلڈنگ کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسلامک بینکاری میں Long Term فنانسنگ کو جلد ترجیحی بنیادوں پر متعارف کرایا جائے گا۔ تقریب کے آخر میں گورنر سٹیٹ بینک کے اعزاز میں بہاولپور چیمبر کی یادگاری شیلڈ اور تحائف پیش کیے گئے ۔

#/s#

*****

مزید : کامرس