معلوماتی سفرنامہ۔۔۔بتیسویں قسط

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔بتیسویں قسط
معلوماتی سفرنامہ۔۔۔بتیسویں قسط

  

ظاہر پرستی

مذکورہ بالا چیزوں میں جو پہلو سب سے نمایاں نظر آئے گا وہ یہ ہے کہ لوگ ظاہر ی چیزوں کے پیچھے دوڑ لگاتے ہیں اور اعلیٰ حقائق کی طرف ان کا دھیان نہیں جاتا۔ وہ محض دوسروں کی دیکھا دیکھی اعمال کرنا شروع کردیتے ہیں۔چاہے اس کے نتیجے میں دین کا کوئی دوسرا حکم ذبح ہوجائے۔ وہ اعمال کی حکمتوں اور ترجیحات سے واقف نہیں۔میں اس میں ان لوگوں کا اتناقصور نہیں سمجھتا۔ شاید یہ اس دور میں کیے جانے والے دینی کام کی کمی اور خرابی ہے۔ موجودہ دینی کام میں سارا زور چند ظاہری اعمال پر ہے۔ داڑھی اور پائنچوں سے شروع ہونے والادین نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ پر آکر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد انسان کو جنت کا سرٹیفیکیٹ مل جاتا ہے۔

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔اکتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تاہم دینداری کا یہ طریقہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اور نہ انبیائے بنی اسرائیل کی دعوت کا یہ طریقہ تھا۔ان کا طریقہ لوگوں کی سوچ کو بدلنے کا تھا۔ وہ فکرِ آخرت کی بنیاد پر انسانوں کے مجموعی رویے کو بدلتے تھے۔ وہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ انہیں روزِ قیامت اپنے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا۔ اس لیے صرف عبادات ہی نہیں بلکہ معاشرت، معیشت، اخلاقیات، معاملات غرض زندگی کے ہر شعبے میں انہیں اپنے رب کا فرمانبردار بننا چاہیے۔ گو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ بنیادی احکام ہیں لیکن دین ان سے شروع ہوتا ہے ان پر ختم نہیں ہوتا۔ دین کا ظاہری ڈھانچہ تنہا کوئی نتیجہ پید ا نہیں کرسکتا۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔دین یہ بتاتا ہے کہ ان کے نتائج آخرت میں اگر جنت کی صورت میں نکلیں گے تو دنیا میں بھی ان کے کچھ نتائج نکلتے ہیں۔ مثلاً روزے کا نتیجہ آخرت میں جنت ہے۔ مگر دنیا میں اس کا نتیجہ تقویٰ بیان کیا گیا ہے۔ روزہ رکھ کر دنیا والا نتیجہ نہیں نکلتا تو آخرت والا نتیجہ کیسے نکلے گا؟ اسی طرح دنیا میں نماز اگر فحش اور برے کاموں سے نہیں روک پاتی تو آخرت میں جنت کی کنجی بھی نہیں بن سکتی۔

چینی اور عمرہ

اس دور میں معاملات کو دین کے خانہ سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ تقویٰ ناپنے کا پیمانہ یہ ہے کہ داڑھی کتنی نیچے اور پائنچہ کتنا اوپر ہے۔ حالانکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم جو دین لے کر آئے وہ زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں بھرپور احکامات دیتا ہے۔ جنہیں نظر انداز کرکے اور محض دین کے ظاہری اعمال پر زور دینے سے عجیب و غریب سانحات وجود میں آتے ہیں۔ میں ایسے ہی ایک سانحے کے بیان کے ساتھ اس گفتگو کو ختم کرتا ہوں۔ آپ بھی سنیے اور سر دھنیے۔

اردو نیوز سعودی عرب سے شائع ہونے والا کثیرالاشاعت اردو روزنامہ ہے۔ نیویارک سے جدہ آتے ہوئے اس میں شائع ہونے والا ایک مراسلہ پڑھا۔ مراسلہ نگار کے مطابق ان کے ایک جاننے والے پچھلے سال اپنی والدہ کولے کرعمرہ کرنے آئے۔ مراسلہ نگار نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو عمرہ کرنے کا خیال کیسے آیا۔ کہنے لگے کہ اس سال مارکیٹ میں چینی کی کمی ہوگئی تھی۔ میں نے چینی ذخیرہ کرلی اور بعد میں بیچی جس سے مجھے 2لاکھ روپے کا منافع ہوا۔اس’’منافع‘‘ کے بعد میں اپنی والدہ کو عمرہ کرانے لے آیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

مکہ سے روانگی

میں جمعے کے دن مکہ پہنچا تھا اور اگلے جمعے تک وہاں رکا۔ ایجنٹ نے مجھے فون کرکے بتایا کہ آپ جمعے کی نماز کے بعد تیار رہیں آپ کو گاڑی لینے آجائے گی۔ میں اور اہلیہ جمعے کے بعد تیار ہوگئے۔ انتظار کرتے کرتے پانچ بج گئے مگر کسی نے آنا تھا اور نہ کوئی آیا۔ آخر تھک ہار کر ہم خود نکلے۔اس وقت ہلکی ہلکی پھوار پڑرہی تھی۔ پچھلے ایک ہفتے میں جو پاگل کردینے والی گرمی پڑی تھی اس کے بعد یہ پھوار بڑی غنیمت تھی۔ تاہم موسم ابھی بھی اتنا ہی گرم تھا۔ کیونکہ شام کے وقت تک سورج کے ساتھ ساتھ در ودیوار بھی آگ اگلنے لگتے تھے۔

مجھے ایک دوسرا خوف بھی لاحق تھا۔ میرے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں تھی، اور پاسپورٹ وغیرہ سب ایجنٹ کے پاس تھے۔ اس صورت میں اگر کسی جگہ بھی چیکنگ ہوجاتی، جو یہاں اکثر ہوتی رہتی ہے، تو مجھے سیدھا جیل بھیج دیا جاتا۔ پورے ہفتے کی تھکن کے بعد میں اور اہلیہ نڈھال تھے۔ حرم میں قیام کے دوران نیند لینے کابہت کم موقع ملتا تھا۔ پھر اتنی دور ہوٹل میںآنا جانا۔ مجھے کینیڈا میں رہ کر گرمی برداشت کرنے کی عادت نہیں رہی تھی۔ اس لیے یہ گرمی بالکل ناقابلِ برداشت لگتی تھی۔ جدہ جانے کے لیے میں نے ایک پرائیوٹ گاڑی والے سے بات کی۔ یہ گاڑیاں حرم کے سامنے سے ہی مل جاتی ہیں اور کسی قسم کے کاغذات طلب نہیں کرتیں۔ جبکہ باقاعدہ بس سروس اور ٹیکسیاں سارے کاغذات چیک کرتی ہیں۔ اس گاڑی والے نے ہمارے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ جب ہم ٹیکسی میں بیٹھے تو اس کا اے سی چل رہا تھا مگر حرم سے باہر آتے ہی اس نے یہ کہہ کر اسے بند کردیا کہ گیس ختم ہوگئی۔ اس کے بعد پورے سفر میں صحرا کی گرم لو کے تھپیڑے کھاتے ہوئے ہم جدہ پہنچے۔ جہاں بلد (جدہ کا ڈاؤن ٹاؤن)سے ایک ٹیکسی لے کر رضوان بھائی کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔

جدہ : یادوں کا شہر

جیسے جیسے ٹیکسی رضوان بھائی کے گھر کی طرف بڑھ رہی تھی ذہن پر عجیب سکون و اطمینان طاری ہورہاتھا۔ ایک تو اے سی میں بیٹھ کر جان میں جان آئی۔ دوسرے میرے ماضی کی انتہائی خوشگوار یادیں اس شہر سے وابستہ تھیں۔ ٹیکسی میرے جانے پہچانے راستوں سے گزر کر آگے بڑھتی چلی جارہی تھی۔ جس کے ساتھ میرے ذہن میں ماضی کی پرانی یادیں تازہ ہورہی تھیں۔یہاں قیام کے دوران میرا حال یہ ہوگیا تھا کہ پاکستان مجھے اجنبی لگنے لگا تھا اور جیسے ہی میں چھٹیاں گزار کر واپس آتا تو لگتا تھا کہ عافیت کی دنیا میں لوٹ آیا ہوں۔ نجانے کیا بات تھی کہ اس شہر میں ہر چیز بڑی پرسکون محسوس ہوتی تھی۔ ہر طرف عافیت، ہر طرف امن، ہر طرف سکون، ہر طرف فراوانی۔ خدا نے اس سرزمین پر وہی احسان کیا ہے جو کبھی اس نے سبا والوں پر کیا تھا : ’’کھاؤ اپنے رب کا رزق اور اس کا شکر کرو۔ یہ پاکیزہ شہر تمہارے لیے ہے اور رب معاف کرنے والا ہے‘‘ ، سبا 35: 15۔

جب میں ملازمت کے لیے یہاں آیا تو جدہ ہر اعتبار سے مجھے کراچی جیسا لگا۔ وہی سمندر کے کنارے آباد شہر۔ وہی نمازوں کے اوقات۔ دو بھائیوں کی موجودگی اور ان کی فیملی کی بنا پر گھر سے دوری کا احساس نہ ہوا۔ سماجی زندگی یہاں یقیناًنہیں مگر میں اس مزاج کا شخص نہ تھا۔ مجھے تنہائی اور مطالعہ زیادہ پسند ہے۔ گھر سے آفس اور گھر سے مسجد ، میں اسی میں خوش تھا۔ وہاں کی مساجد میں آئمہ ایسی مسحور کن مگر فطری آواز میں تلاوتِ قرآن کرتے کہ میں خود کو دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں محسوس کرتا۔کبھی کبھی تبدیلی کے لیے رضوان بھائی اور بھابھی کے ساتھ شاپنگ پر چلا جاتا جو وہاں رہنے والوں کی بہت بڑی تفریح ہے۔ بعض اوقات ہم سارے بھائی اور گھر والے ساحل پر چلے جاتے جسے یہاں کورنش کہا جاتا ہے۔سعودی حکومت نے یہاں کافی درخت اگائے ہیں اور بعض پارک وغیرہ بھی بنائے ہیں۔ کبھی کبھار ہم سب مل کر ایسے کسی پارک چلے جاتے۔ اتفاق ہے کہ میری شادی ہوئی تو سسرال والے اور ان کے کئی رشتے دار جدہ میں تھے۔ اس لیے کچھ سماجی مصروفیت بھی پیدا ہوگئی۔ تاہم میری سب سے بڑی تفریح اور مصروفیت مکہ اور مدینے کے چکر لگانا تھا۔ میں اوسطاً ہر دو ہفتے بعد حرم جاتا تھا۔ درمیان میں جب موقع ملا اور اللہ نے اپنے فضل سے یہ موقع بہت عطا کیا تو مدینہ چلا جاتا تھا۔ اللہ نے حرمین جاناہمیشہ آسان کیا۔ میں سعودی عرب سے جاب چھوڑ کر روانہ ہوا تو یہی سوچ دل میں تھی :

جو دن گزرگئے ہیں تیرے التفات میں

میں جوڑلوں انہیں کہ گھٹالوں حیات میں

لبیک اور البیک

میں خیالوں میں تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے ایک بات کی طرف توجہ دلائی۔ اس کا ذکر میں یہاں کے اخلاقی حالات کے ضمن میں کروں گا۔ گاڑی گھر کے قریب پہنچی تو حی الصفا کا علاقہ شروع ہوگیا۔ حی عربی میں محلے یا ضلع کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ اس سے ذرا پہلے حی العزیزیہ کا علاقہ ہے۔ یہاں پاکستان ایمبسی اسکول ہے۔ اسی لیے یہاں پاکستانی بڑی کثرت سے رہتے ہیں۔اس علاقے میں دو جگہوں پر پاکستانیوں کی دکانیں کثرت سے ہیں۔ یہاں جاکر آپ کو محسوس نہ ہوگا کہ آپ وطن سے دور ہیں۔ وطن کی کونسی ایسی چیز ہے جو یہاں دستیاب نہیں۔بالکل نیو یارک کے جیکسن ہائٹ والا معاملہ ہے۔

ٹیکسی ان سب جگہوں سے گزرتی ہوئی رضوان بھائی کے گھر پہنچی۔ وہ سب بڑی بے چینی سے ہمارا انتظار کررہے تھے۔ میرا کمرہ بڑے اہتمام سے سجا ہوا تھا۔ یہ ایک ہفتے سے ایسا ہی تھا کیونکہ اسے میری آمد کے وقت سجایا گیا تھا۔ میں نے اس کمرے میں کئی سال گزارے تھے۔ اس میں جاکر وہ ساری یادیں تازہ ہوگئیں۔ کھانے کے لیے رضوان بھائی البیک لائے تھے۔ قارئین تصحیح کرلیں میں نے لبیک نہیں لکھا ’’البیک ‘‘ لکھا ہے۔ نام کی مناسبت کے علاوہ دونوں میں ایک اور قدرِ مشترک یہ ہے کہ جس طرح آدمی لبیک کہیں اور نہیں پڑھ سکتا ’’البیک ‘‘ بھی کہیں اور نہیں کھاسکتا۔آپ کے ذہن میں تجسس ہوگا کہ یہ البیک کیا بلا ہے۔ یہ ایک خاص قسم کے بروسٹ کا نام ہے۔ دنیا بھر میں KFC کا بڑا شہرہ ہے۔ مگر یہاں حال یہ ہے کہ KFC کی دکان البیک کے ساتھ ہوتی ہے، KFC پر ایک آدمی کھڑا ہوتا ہے اور البیک پر سو۔یہ مقبولیت اس کے غیر معمولی ذائقے کی بنا پر ہے۔ ذائقے کے علاوہ بھی اس کی متعدد خوبیاں ہیں جو دوسروں میں نہیں۔ یہ سستاہے۔ مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ساتھ کھانے کی دیگر چیزیں مثلاََ بریڈ، کیچپ وغیرہ بھی بہت ملتی ہے۔ نیز اس کی لہسن کی چٹنی (Garlic Sauce) ذائقے میں بے مثال ہوتی ہے۔ اگر آپ کا یہاں آنا ہو تو اسے ضرور کھائیے گا۔ حج کے زمانے میں منیٰ کے میدان میں اس کی دو دکانیں دیکھیں جن پر ہزاروں آدمیوں کا رش لگا تھا۔ بقول ہمارے ایک جاننے والے کے جو حج پر آئے تھے، لبیک اور البیک ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

( ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔انہوں نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزید : کھول آنکھ، زمین دیکھ