پرائمری تعلیم میں ناکامی کے بنیادی مسائل

پرائمری تعلیم میں ناکامی کے بنیادی مسائل
پرائمری تعلیم میں ناکامی کے بنیادی مسائل

  


پرائمری تعلیم لازمی بنیادی تعلیم کا پہلا قدم ہے۔ یہ تعلیم چار سال سے دس سال کے بچوں کو دی جاتی ہے۔مگر مختلف علاقوں اور ملکوں میں یہ دورانیہ ایک دو سال کے فرق سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔مثلاً کچھ ممالک یہ تعلیم تین سے نو سال اور کچھ ممالک میں پانچ سے گیارہ سال تک کے بچوں کو دی جا تی ہے۔اس تعلیم کو ایلیمنٹری تعلیم بھی کہا جاتا ہے۔

پرائمری تعلیم کا آغاز 1800ء میں ہوا اور اِس پر عمل زیادہ تر برطانیہ اور دولتِ مشترکہ کے ممالک میں کیا گیا ہے۔جبکہ امریکہ میں اِس تعلیم کا آغاز کنڈر گارڈن سے ہوتا ہے اور گریڈ پانچ تک جاتا ہے۔کنڈر گارڈن سے گریڈ پانچ تک کی تعلیم کو امریکہ میں ایلیمنٹری ایجوکیشن بھی کہا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں چونکہ برطانوی حکومت رہی ہے اِس لئے پاکستان میں بھی پرائمری طرزِ تعلیم ہی رائج ہے۔اور اگر ہم بغور جائزہ لیں تو ہمیں پرائمری سطح تعلیم کئی مسائل کا شکار نظر آتی ہے۔بنیادی طور پر یہاں دو طرح کے معیارِ تعلیم جو کہ سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں نظر آتے ہیں مگر اِس کے ساتھ ساتھ ایک وہ بھی نظامِ تعلیم ہے جو مدرسوں میں رائج ہے۔اور اِس نظامِ تعلیم سے مستفید ہونے والے بچے قومی دھارے میں شامل ہونے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

سرکاری سکولوں کے معیار کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جو لوگ صاحبِ حیثیت نہیں ہیں وہ بھی سرکاری سکولوں کے معیارِ تعلیم کی پستی کی وجہ سے بچوں کو پرائیو یٹ سکولوں میں تعلیم دینے کی خواہش رکھتے ہیں یا پھر مجبوراً اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو پرائیو یٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں۔

پرائمری تعلیم کا مرحلہ کسی بھی بچے کی شخصیت اور شعور کے لئے بہت اہم ہوتا ہے۔ اِس عمر میں بچے بہت متجسس ہوتے ہیں اور اِس مرحلے پر بچوں کے تجسس کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنی چاہئے۔ بد قسمتی سے سرکاری اور غیر سرکاری سکول دونوں ہی میں اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی۔سرکاری معیارِ تعلیم تو ابھی پچھلی صدی ہے ہی باہر نہیں نکل پایااور غیر سرکاری سکول کتابوں ، پڑھائی اور رٹے پر زور دے رہے ہیں۔ پرائمری کی سطح پر دیکھا جائے تو ابتدائی جماعتوں کے بچے اردو الف، ب، انگریزی اے ، بی، اسلامیات، حساب، معاشرتی علوم، سائنس ، کمپیوٹر، آرٹ اور اٹلس جیسی کتابیں پڑھ رہے ہیں اور اکثر والدین یہ شکایت کرتے پائے جاتے ہیں کہ بچے پہلے سکول پڑھتے ہیں اور پھر گھر آکر بھی رات تک ہوم ورک ختم نہیں کرپاتے۔اتنے چھوٹے بچوں کو اتنے بوجھ تلے رکھ کر ہم کس طرح کی تعلیم اور تربیت دے پائیں گے۔

ترقی یافتہ ممالک میں اِس عمر کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے بنیادی پڑھائی ، گنتی کے ساتھ ساتھ بنیادی جغرافیہ ، تاریخ ، سائنس اور سوشل سائنس پڑھائی جاتی ہے اور یہ تعلیم بھی ہمارے ہاں دی جانے والی روایتی تعلیم سے ہٹ کر کھیل کود ، غیر نصابی اور دلچسپ سرگرمیوں کے ذریعے دی جاتی ہے۔ اِس طریقہ تعلیم میں بچے بغیر بوجھ لئے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

اِس سطح پر تعلیم دینے کے لئے ماہر مرد و خواتین اساتذہ کو تعینات کیا جاتا ہے اور ایک استاد کو پورے سال کے لئے اِن بچوں پر مخصوص کر دیاجاتا ہے تاکہ وہ بچوں کو سمجھتے ہوئے ہر ایک بچے کی صلاحیت کے مطابق لے کر چل سکیں اِن اساتذہ کی مدد کے لئے معاون اساتذہ جو کہ اپنے مضمون میں مہارت رکھتے ہوں مختص کئے جاتے ہیں۔ جیساکہ جسمانی تعلیم یاپھر میوزک یا آرٹ کے اساتذہ ہو سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں پرائمری کی سطح پر تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ تعلیم کے طریقہ کار سے لیکر اساتذہ کے چناؤ تک ہر مرحلہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے کی بات ہے کہ انگریز سکولوں کے اساتذہ کا امتحان لیتے ہوئے اُس کی تعلیم کے ساتھ اُس استاد کا خاندانی پسِ منظر بھی دیکھتے تھے۔ مگر آج کل ہمارا معیار رشوت ، اقربا پروری اور سیاسی مصلحت ہے۔

اگر حال ہی کی مثال کو لیا جائے جو کہ برطانیہ کے جنوب مشرقی لندن کے ایک پرائمری سکول کے ہیڈماسٹر مارک المز کی ہے۔ مارک المز نے ٹڈمل پرائمری سکول کا چارج 2001ء میں سنبھالا اُس وقت سکول کا شمار ناکام ترین سکولوں میں ہوتا تھا لیکن چارج سنبھالنے کے بعد سکول میں بہتری پیدا ہوتی گئی اور بہت جلد یہ لندن کے بہترین سکولوں میں شمار ہونے لگا۔مارک المز وہی اُستاد ہے جس کی تنخواہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے زیادہ ہے اور اسی طرح تقریباً سو سے زیادہ پرائمری سکول اساتذہ ہیں جو کہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔

برطانیہ کے ماہر تعلیم سر کین روبنسن نے پرائمری کی سطح پر بچوں کی تعلیم میں تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کے بارے میں زور دیا ہے۔کین روبنسن کے مطابق تعلیم میں تخلیق کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ تعلیم میں خواندگی کی ۔ ہمیں سکولوں میں پرائمری کی سطح سے ہی تخلیق کے عمل کو ابھارنا چاہئے۔ کین وربنسن کہتے ہیں کہ اِس وقت کے نظام تعلیم کے مطابق پڑھائی میں غلطی کرنے کو بدترین چیز سمجھا جا تا ہے جس کے نتیجے میں بچوں میں پائی جانے والی قدرتی صلاحیتوں تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ہمارے تعلیمی اداروں میں ہونے والی پرورش بچوں کی صلاحیتوں سے ہٹ کر ہو رہی ہے۔ہمارے ہاں زیادہ تر نظامِ تعلیم بچوں کی صلاحیتوں کو دبا رہے ہیں اور اس نظام میں انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔

ایک مہذب ،تعلیم یافتہ اور باشعور معاشرے کی نظر میں پرائمری تعلیم کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ حکمتِ عملی اور اصلاحات کے عمل کو جاری رکھتے ہیں۔

بقول علامہ اقبال! خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...