لاہور ہائیکورٹ کاینگ ڈاکٹرز کو دوپہر12 بجے تک ہڑتال ختم کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کاینگ ڈاکٹرز کو دوپہر12 بجے تک ہڑتال ختم کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کاینگ ڈاکٹرز کو دوپہر12 بجے تک ہڑتال ختم کرنے کا حکم

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے ینگ ڈاکٹرز کو دوپہر12 بجے تک ہڑتال ختم کرنے کا حکم دیدیااور تحریری طورپرینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال ختم کرنے کی رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں ڈاکٹرزکی ہڑتال کیخلاف درخواست پرسماعت ہوئی،جسٹس جواد حسن نے درخواست پر سماعت کی،پی ایم ڈی سی ،کالج آف فزیشن اور ینگ ڈاکٹرز کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے،وکیل ڈاکٹر نے دعویٰ کیا کہ اوپی ڈی میں ہڑتال نہیں ،تفصیلی حکم جاری کیا جائے گا عدالت آرڈیننس پری میچورہے ،عدالت نے کہا کہ ہڑتال کیا ہے؟اس کی تعریف اب ضروری ہے ہم نے اسے پکڑلینا ہے ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آئینی طور پر پروفیشنل ہڑتال کر سکتے ہیں؟یہ ہیلتھ سیکرٹری کاقصور ہے کہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہے ،تمام سٹیک ہولڈرز کے بیٹھنے تک مسئلہ حل نہیں ہو گا،عدالت نے کہا کہ فوجداری مقدمہ درج ہو گا ڈیوٹی اوقات میں ہڑتال کرنا جرم ہے ، وکیل ڈاکٹر نے کہا کہ یہ ینگ ڈاکٹرز نہیں بلکہ پوسٹ گریجوایٹ ٹرینی ہیں پروفیشنل ہڑتال نہیں کر سکتے ،عدالت نے کہا کہ وکلا بھی ہڑتال کرتے ہیں لیکن اہم کیسز میں پیش ہوتے ہیں ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جب آپ قانون لے کر آئے تو سب کو اعتماد میں لیا؟،وکیل ڈاکٹر ز نے کہا کہ ہمیں کچھ وقت دیاجائے ہم ابھی طے کر لیتے ہیں ،عدالت نے کہا کہ مشاورت کرلیں قانون سے متعلق کیا کرنا ہے ۔عدالت کاینگ ڈاکٹرزکودوپہر 12بجے تک ہڑتال ختم کرنے کاحکم دیدیا اورتحریری طورپرینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال ختم کرنے کی رپورٹ طلب کرلی۔ وکیل ڈاکٹرز نے کہا کہ عدالتی حکم پرعمل کرتے ہوئے آج ہی ہڑتال ختم کریں گے،جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آج ہی تحریری حکم جاری کریں گے،اونچی آوازمیں ہمیشہ بزدل بولتے ہیں،جسٹس جوادحسن نے کہا کہ قانون کی بات کرتاہوں،قانون پرعمل کراؤں گا،وکیل ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ ہم عدالت کےساتھ کھڑے ہیں،عدالت کاسیکرٹری صحت کوسٹیک ہولڈرزکے ساتھ مشاورت کاحکم دیدیا۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور