شالا کدی کسے دی ماں نہ وچھڑے !!!

شالا کدی کسے دی ماں نہ وچھڑے !!!
شالا کدی کسے دی ماں نہ وچھڑے !!!

  



تدفین کا عمل جاری ہے ،میں اِس وقت کسی بھٹکتی روح کی طرح سرگودھا کی تحصیل “بھلوال “کے گاؤں میں موجود ایک قبرستان میں گھوم رہا ہوں ۔۔۔۔پوری توجہ کےساتھ بےترتیب پرانی ویران قبروں کےکتبےپڑھ رھا ہوں ۔۔گاؤں کے سیدھےسادھےاَن پڑھ دیہاتی لوگوں کےنام بھی کس قدرسادہ تھے۔کوئی علیان ،ایان ،شاہ رخ ،علیزے ،زرتاشہ نہیں تھی بلکہ مرحومہ بھاگ بھری زوجہ خدابخش ۔ اللہ وسائی ۔۔غلام سکینہ ۔ماسٹر اسلم مرحوم ۔شازیہ ۔۔۔ پیراں دتہ ۔ غلام حسین ۔اللہ یار ۔۔۔نورخان ۔۔۔۔زرینہ بی بی ۔۔

اگرچہ درمیان میں کہیں کہیں ماربل لگی ہوئی پختہ قبور اور انکے کتبوں پہ مرحومین کے نام بمعہ القابات اور اقوام کے بھی درج تھے ۔۔۔چوہدری فلاں،ملک فلاں ، شاہ فلاں ۔۔لیکن ماربل لگی پختہ اور بوسیدہ اجاڑ بے نام قبور کے نیچے ایک جیسی زمین کےاندر موجود لاشے اپنے اپنے اعمال کے ساتھ موجود تمام دنیاوی اعزازات سے مبرا ۔اپنے اپنے ’کرموں کا پھل‘ بھگت رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں گھومتے گھومتے تھک گیا ہوں اور ایک پرانے اجاڑ درخت کے نیچے ایک قبر کے کتبے کے ساتھ ٹیک لگا کر کچی زمین پہ بیٹھ گیا ہوں۔اس زمین کی گرد میرے اجلے صاف ستھرے کپڑوں پہ لگ رہی ہے لیکن مجھ میں اسے جھاڑنے کی ہمت نہیں ہو رہی ۔۔۔کیونکہ ابھی تھوڑی دیر میں جیسے ہی تدفین کا عمل مکمل ہو گا اسی زمین کی مٹی میں سے تین مٹھی مٹی میں ایک ماں کی قبر پہ  ڈال کر انہیں الوداع کروں گا،اُس سفر کیلئے جہاں ہم سب کو جلد یا بدیرایک نا ایک دن جانا ہے !!!

نومبر ہمیشہ سےمیرے لیے ناخوشگوار سا احساس لے کر آتا ہے۔عجیب سے اداس موسم کی شروعات ۔پت جھڑ کا عمل ۔درختوں سے پتوں کی جدائی کا موسم ۔جدائی کے کرب میں ڈوبے جاڑے کا آغاز !!!

لمبی اداس تنہا راتیں مجھے تب سے اچھی نہیں لگتیں جب آج سے کئی برس پہلے 7 نومبر 1987 کی ایک ایسی ہی رات میں میری دنیا اجڑ گئی تھی، ایک سات سال کے بچے کو اسکی ماں تنہا چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے موت کی آغوش میں چلی گئی تھی ۔تب سے نومبر مجھے کبھی اچھا نہیں لگتا جیسے ہی موسم بدلتا ہے عجیب سی بے چینی سی محسوس ہوتی ہے۔اس دفعہ بھی کچھ ایسی ہی طبیعت مضمحل اور بوجھل سی تھی رات گئےفون بجا اور سینئر صحافی دوست خالد شہزاد فاروقی صاحب نے اطلاع دی کہ اور آج بروز چھ نومبر کو میرے بھائیوں جیسے دوست نصراللہ ملک کی ماں بھی انہیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر رخصت فرما گئیں ۔۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون

صبح نو بجے بروقت پہنچ گیا ۔جنازہ لاہور میں ہوا جو کہ سراج الحق صاحب نے پڑھایااور پھر اب دوبارہ جنازہ و تدفین کیلئے نصراللہ ملک برادرم قیصر شریف (سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی ) اور سینئر صحافی خالد  شہزادفاروقی صاحب کے ہمراہ ہم ملک صاحب کے آبائی گاوں بھلوال پہنچ چکے ہیں۔گاؤں کے لوگوں کا ایک جم غفیر ہے جنازہ ہو جانے کے بعد لوگوں کی اکثریت واپس چلی گئی جبکہ خاندان کے لوگ اور ملک صاحب کے قریبی دوست اب تدفین کے عمل کیلئے قبرستان میں موجود ہیں۔ لوگ ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں، اینکرز حضرات مسلسل فون پہ مصروف ہیں اور گاوں کے سادہ لوح دیہاتی سفید صافے سر پہ باندھے سفید جھولے نما کھلے کرتوں اور تہبند میں ملبوس چھنگلی انگلیوں میں سگریٹ دبا کر پکے کش لگاتے ہوئے آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ اچانک ایک “ہوکا “بھر کر کسی دیہاتی نے ٹھیٹھ پنجابی لب و لہجے میں ُدکھی آواز میں کہا !’’شالا کدی کسے دی ماں نہ وچھڑے “۔۔۔

یہ آواز مجھے برسوں پیچھے میرے بچپن میں لے گئی اور میں گم سم کسی کی قبر کے کتبے سے ٹیک لگائے چشم تصور میں اپنے بچپن کی حسین یادوں کے منظر میں کھو سا گیا ۔ایک دھندلا سا خاکہ میرے تصور میں ابھر رھا ہے میری ماں کے چہرے کا ۔ایک مشفق رحم دل سراپا محبت ماں کا نورانی چہرہ ۔۔بغیر کسی لالچ بغیر کسی غرض کے بے تحاشا محبت کرنے والی ہستی کا چہرہ ۔۔۔۔۔۔میں چشم تصور میں دیکھ رہا ہوں لاہور سے کوسوں دور ضلع اٹک کے ایک دور افتادہ علاقے میں واقع ایک ریتلے علاقے والے گاؤں پنڈی سرہال میں موجود میرے ننھیالی گھر کے صحن میں لگی ایک گھنی چھاؤں والی بیری کے درخت کے نیچے سیمنٹ سے بنے پختہ کھرے میں ایک چھ سات سال کا ننگ دھڑنگ سا بچہ جسکے جسم اور چہرے پہ صابن لگا ہوا ہے اور ایک ماں اسِے ہاتھ سے گیڑے جانے والے نلکے کے نیچے کھڑا کر کے نہلا رہی ہے اور یہ چھوٹا سا بچہ ڈھیلے لاسٹک والی چڈی پہنے عجیب کشمکش میں مبتلا ہے کیونکہ چڈی پانی سے گیلی ہو کر بار بار سلپ ہو رہی ہے اور آنکھوں میں صابن چلے جانے سے وہ بچہ جب دونوں ہاتھوں سےاپنی آنکھوں کو ملتا ہے تو نکر پھر پھسل جاتی ہے ۔ ماں پکی ہوئی توری (سبزی) کے خول میں سرخ رنگ کے لائف بوائے صابن کی جھاگ بنا کر اس بچے کی گردن اور پیٹھ پہ رگڑتی ہے ۔ بچہ آنکھوں میں صابن کی جلن کی وجہ سے روتا ہے اور ہاتھ چھڑا کر بھاگنے کی کوشش میں ہے لیکن ماں نے اسے سختی سے پکڑا ہوا ہے وہ مل مل کر اسِے نہلاتی ہے اور پھر پانی سے چہرے پہ لگی صابن کی جھاگ کو دھوتی ہے دھلنے کے بعد یہ چہرہ واضح ہوتا ہے ۔۔۔شناسا سا معلوم ہوتا ہے بالکل میرے چہرے جیسا!!! بلکہ میں ہی ہوں ۔

پھر میری ماں سفیداجلے تولیے سے رگڑ کر مجھےخشک کرتی ہے اور سفید کڑھائی والا ململ کا کرتا اور چوڑی دار پاجامہ پہناتی ہے ۔۔۔سرسوں کا تیل اچھے طریقے سے سر میں رگڑ کر لگاتی ہے اور پھر وحید مراد کی طرح سائیڈ سے مانگ نکال کر سرمہ کی دو سلائیاں میری آنکھوں میں پھیر دیتی ہے ۔لمبی لمبی لکیریں آنکھوں سے باہر تک کھینچ جاتیں ہیں ۔۔۔ تبت سنو نام کی ایک کریم میرے دونوں گالوں پہ اچھے سے مل دیتی ہے۔اِس تمام عمل کے دوران میں ایک کمرے سے دوسرے اور پھرے تیسے کمرے اور کبھی وسیع صحن میں بھاگتا پھرتا ہوں اور وہ کبھی ڈانٹ کر کبھی پیار سے میرے پیچھے پیچھے بھاگ کر مجھے پکڑ کر تیار کرتی ہے ۔بڑے پیار سے ۔۔بڑی چاہ سے ۔۔بڑے مان کے ساتھ ۔۔مان اس لیے کیونکہ دوسری شادی کے بعد میرے والد کو نرینہ اولاد کا تحفہ جو اس نے دیا ۔انکی نسل کا وارث !!! پھر مرونڈے، پنیاں اور میٹھی روٹیاں رومال میں باندھ کر مجھے دیتی ہے اورمیرے ماتھےپہ پیار کرتےہوئے مجھےدیگربچوں کےہمراہ باہر جا کرکھیلنے کی اجازت دیتی ہے ۔کیبل،ٹی وی اورانٹرنیٹ سےدوراس زمانے میں گاؤں میں تفریح کا واحد سہارا گاؤں کے دوسری طرف موجود ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور مونگ پھلی کے کھیت ہوتے تھے ۔۔میں ان بڑے بڑے ٹیلوں پہ چڑھتا ہوں ۔سب دیہاتی بچے ایک دوسرے پہ مٹھیاں بھر بھر کر ریت پھینکتے ہیں ۔ پکڑن پکڑائی کھیلتے ہیں ۔مٹی اور ریت کے گھروندے بناتے ہیں ۔میرے تیل لگے بال اور کپڑے مٹی اور ریت میں اَٹ جاتے ہیں ۔ماں کی سب محنت اکارت ہو جاتی ہے،پورا دن کبھی ایک جگہ کبھی دوسری جگہ گھومتا پھرتا سارے گاؤں کا منظور نظر لاڈلہ اور گول مٹول سا بچہ !!اور میں سورج ڈھلنے پہ واپسی کا رخ کرتا ہوں ۔گاؤں کی گلیوں میں اس وقت اچھی خاص چہل پہل ہوتی ہے ۔تڑکے تڑکے جانے والے چرواہے اور کسان اپنے سروں پہ ایندھن کیلئے خشک لکڑی کےاورسبز چارے کے گھٹے اٹھائے اپنے مویشیوں کے ہمراہ گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔مٹی سے لیپی گئی دیواروں اورکچے گھروندوں کی چمنیوں سے دھوئیں کی لکیریں نمودار ہونی شروع ہو گئی ہیں رات کے کھانے کی تیاریاں شروع ہیں ۔

اکثر چرواہے اپنی بے ہنگم آواز میں عطاءاللہ کے دوہڑے گا رہے ہیں ۔ڈھور ڈنگروں کی ہلتی گردنیں اور انکی گردنوں میں بندھی چھوٹی بڑی ٹلیاں ایک ردھم کے ساتھ عجیب سی موسیقی پیش کر رہی ہیں ۔۔واپسی پہ گاؤں میں موجود واحد ’ہٹی‘ سے میں اپنی پسندیدہ مکھن ٹافی اور مالٹا ٹافی خریدتا ہوں ان دو روپوں سے جو روزانہ صبح میری نانی اَماں قرآن پڑھنے کے دوران اپنے دوپٹے کے پلو میں بندھے روپوں میں سے نکال کر مجھے دیتی ہیں ۔۔۔۔اب اندھیرا ہونے کو ہے میں ڈرا ڈرا سہما سہما صبح کا گیا سارے دن کی آوارہ گردی کے بعد شام کو گھر لوٹتا ہوں تو میری ماں کو سخت غصہ آتا ہے ۔مجھے مارنے کو ہاتھ میں پھونکنی (لکڑی والے چولہے کی آگ دھکانے والا پائپ ) پکڑ کر میری طرف لپکتی ہیں، میں آگے آگے دوڑتا ہوں اور بھاگتے بھاگتے آؤٹ ڈور اوپن ائیر کچن میں چھوٹی سی دیوار کی اوٹ میں مٹی کے چولہوں کے پاس پیڑھے پہ بیٹھی سرخ مہندی لگےسر والی جھریوں بھرے شفیق چہرے والی نانی کی آغوش میں چھپ جاتا ہوں ۔وہ مجھے بچا لیتی ہیں اور میری ماں میری نانی سے اس بات کا شکوہ کرتی ہے کہ انکے بے جا لاڈ پیار نے مجھے سر پہ چڑھا رکھا ہے ۔میں نانی کی گود میں ہی اپنے آپ کو کیموفلاج تصور کر کے با آوازِ بلند معافی اور آئندہ غلطی نہ کرنے کا جھوٹا وعدہ کرتا ہوں اور میری پڑھی لکھی بی اے پاس سادہ لوح ماں میرے جھوٹے وعدے پہ ہمیشہ کی طرح اعتبار کر لیتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں کل دوبارہ یہی حرکت کروں گا ۔

غصہ ٹھنڈا ہو جانے پہ میری ماں ایک بار پھر نیم گرم پانی سے نہلا کر اجلے کپڑے پہنا کر دیسی گھی میں چوپڑی موٹی سی روٹی کے اوپر مکھن ڈال کر اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر مجھے کھانا کھلاتی ہے اور پھر میری ننھی سی رنگین پنگھوڑا نما چارپائی پہ مجھے لٹا دیتی ہے، میں جو سارا دن اچھل کود کر کے تھک جاتا ہوں اور درد سے کراہتا ہوں تو میرے ننھے ننھے پاتھ پاؤں دباتی ہے ۔تیل سے مالش کرتی ہے اورکہتی ہے کہ کیڈا جھلا اے،توں میں نہیں ہوساں تے توں وَت کیہہ کرسیں ؟ جھلیا اپنا خیال چا کریا کر ۔ وہ میرے ماتھے پہ بوسہ دیتی ہوئے میرے بالوں کو سہلاتی ہے ۔مجھ پہ دعائیں دم کر کے پھونکتی ہے اور میں تمام دنیا سے بے پروا ہو کر اپنی ماں کے لمس کو اپنے چہرے اپنے بالوں میں محسوس کر رہا ہوں ۔ اچانک کسی کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی “آؤ جی دعا کا وقت ہو گیا ہے “ اور میں جیسے اچانک کسی خواب سے جاگ گیا ہوں ۔۔۔ کاش ابھی اس نے یہ آواز نہ دی ہوتی اور میں کچھ دیر اور ماں کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر سکتا ۔۔۔۔۔بوجھل قدموں کے ساتھ قبر کی جانب چل دیا اور کپکپاتے ہاتھوں سے قبر پہ تین مٹھیاں مٹی کی پھینکی، میں نے بھی اور میرے دوست نصراللہ نے بھی اپنی اس ماں کی قبر پہ جو اپنی ساری زندگی اجلے کپڑے پہناتی رہی اور دست دعا اللہ کریم کی بارگاہ میں بلند کر دئیے۔

’’اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا ۔ اللہ کریم آپ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں ۔ہماری عزیز ترین ہستیاں آپکے حوالے !!! اے اللہ ہمارے مرحومین والدین کے گناہ معاف فرمائیے اور انکےدرجات بلند فرما دیں اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں کیونکہ معاف کر دینا آپ ہی کا وصف ہے،بےشک آپ کی رحمت آپکے غصے پہ غالب ہے ‘‘۔

آج بوقت رخصت جب میں نصراللہ ملک کے گلے لگا تو اسکے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا ۔جابر حکمران کے سامنے ببانگ دھل کلمہ حق کہنے والے اس دلیر، نڈر  اور بیباک صحافی کی آنکھوں سے ڈھلکتے آنسو دیکھ کر مجھے قطعاً حیرت نہ ہوئی کیونکہ اولاد جو مرضی بن جائے؟چاہے جتنی عمر ہو جائے لیکن وہ ایک ماں کیلئے تو ہمیشہ بیٹا ہی رہے گا اور یہ کمی اسے ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی کیونکہ یہ خلا کبھی پر نہیں ہو سکتا۔۔۔۔اب اسکے لئیے ہمیشہ بے لوث خلوص دل سے دعائیں کرنے والا ایک در ہمیشہ کیلئے بند جو ہو گیا ۔اس سے بڑا نقصان اور کیا ہو گا ؟۔اس نقصان کی کوئی تلافی کوئی ازالہ ممکن نہیں ۔ جب کسی کی ماں مرتی ہے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں اے بندے !!! “جس کی وجہ سے میں تیرا خیال کرتا تھا وہ مر گئی “ “اب تو اپنے عمل کو ٹھیک کر تاکہ تیرے عمل کی وجہ سے میں تیرا خیال کرتا رہوں “ اللہ کریم میرے یار کو صبر جمیل عطا فرمائیں ۔(آمین )

ہم جگنو تھے،ہم تتلی تھے

ہم رنگ برنگے پنچھی تھے

کچھ ماہ و سال کی جنت میں

ماں!ہم دونوں بھی سانجھی تھے

میں چھوٹا سا اِک بچہ تھا

تیری انگلی تھام کے چلتا تھا

تو دور نظر سے ہوتی تھی

میں آنسو آنسو روتا تھا

اِک خوابوں کا روشن بستہ

تو روز مجھے پہناتی تھی

جب ڈرتا تھا میں راتوں میں

تو اپنے ساتھ سلاتی تھی

میں تیرے ہاتھ کے تکیے پر

اَب بھی رات کو سوتا ہوں

ماں میں چھوٹا سا اِک بچہ

تیری یاد میں اب بھی روتا ہوں

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...