ریاست بہاولپور کے پاکستان سے الحاق کا یادگار دن

ریاست بہاولپور کے پاکستان سے الحاق کا یادگار دن
 ریاست بہاولپور کے پاکستان سے الحاق کا یادگار دن

  

3اکتوبر 1947 وہ دن جب برصغیر کی دوسری خوشحال ترین ریاست بہاولپور نوزائیدہ مملکت پاکستان میں شامل ہوئی اس دن کی یاد میں ریاست کی طرف سے یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا گیا. ریاست بہاولپور کا کل رقبہ45588 مربع کلو میٹر تھا   اس وقت صوبہ پنجاب کا رقبہ 150344 مربع کلو میٹر یعنی صوبہ پنجاب کے تیسرے حصے کے برابر رقبے پر مشتمل ریاست بہاولپور کی آبادی18لاکھ نفوس پر مشتمل تھی ستلج ویلی پراجیکٹ کی بدولت ریاست بہاولپور خوشحال اور زرخیز سرزمین کی حامل تھی جس کی خوشحالی کی کشش ہی دوسرے علاقوں کے لوگوں کو یہاں آنے پر مجبور کرتی تھی اگرچہ یہ بات بھی اظہرمن الشمس ہے کہ بیرون ریاست سے آئے آبادکاروں نے ستلج ویلی پراجیکٹ کی بدولت نہری پانی کی مدد سے اس کی زمینوں کو آباد کیا اور اپنا خون پسینہ بہایا ریاست کی خوشحالی کا انداذہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے برصغیر کا بڑا نہری نظام بھی یہیں تھا اور برصغیر کے تمام بڑے تعلیمی اداروں کو یہاں سے عطیات بھی بھیجے جاتے تھے جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،ایچی سن کالج لاہور ،پنجاب یونیورسٹی لاہور جیسے ادارےبھی شامل تھے صرف تعلیمی ادارےہی نہیں ہسپتال ، لائبریریاں اور اہم شخصیات بھی ان عطیات کی حقدار قرار پاتی تھیں ریاست کے اندر بہاول وکٹوریہ ہسپتال اس وقت برصغیر کے چند بڑے ہسپتالوں میں شمار ہوتا تھا صادق پبلک سکول کا نام آج بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ریاست کے ہر علاقے میں کالونی سکول ، تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ، سٹیڈیم ، بجلی کا نظام ریلوے لائن ، جیل ، تھانے ، بہاولپور بینک ، غرض نظام ہائے مملکت کا ہر ضروری جزو بھی موجود تھا اور صنعتی حوالے سے اس دور میں بھی بڑے بڑے کارخانے یہاں موجود تھے نواب آف بہاولپور کے وژن کا انداذہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج سے سوا سو سال پہلے یہاں سے ریلوے لائن گزاری گئی تو کچھ عرصے بعد ہی خانپور سے ایک ریلوے لائن چاچڑاں تک بھی بچھا دی گئی جو دریائے سندھ کے کنارے واقع قصبہ ہے منصوبہ تو یہ تھا کہ جب دریا پر پل بنے گا تو یہ ریلوے لائن دریائے سندھ کے پار کے علاقوں راجن پور ، ڈیرہ غاذی خان وغیرہ کو مین سٹریم میں لانے کا باعث بنے گی اور کے پی کے اور بلوچستان تک آسان رسائی کا سبب بنے گی لیکن ہمارے نون لیگی حکمرانوں کے سابقہ دور میں یہ ریلوے لائن اکھاڑ دی گئی .

جب پاکستان بنا تو قائداعظم کو آزادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے رولز رائس کار بھی ریاست بہاولپور کی طرف سے دی گئی اس مقصد کے     لیے اس کی چھت کو بھی کاٹنا پڑا ، کار کا نمبر BWP 72تھا، قائداعظم کو گارڈ آف آنرپیش کرنے کے لیے بھی ریاست بہاولپور کا دستہ ہی پہنچا تھا بہاولپور فرسٹ انفینٹری بٹالین کو آزاد مملکت کے بانی کو پہلی  سلامی دینے کا اعزاز حاصل ہوا تھا .

مملکت پاکستان کے سرکاری ملازمین کو پہلی تنخواہ دینے کا شرف بھی بہاولپور کے حصے میں آیا تھا اس موقع پر 70لاکھ روپے کی نقد امداد کا تحفہ بھی اسی ریاست نے دیا تھا اپنے پورے نظام مملکت کے ساتھ یہ ریاست پاکستان میں شامل ہوئی تھی جہاں بھارت سے ہجرت کرکے آنے والوں کی بڑی تعداد پہنچی تھی اس کی سرحدیں پنجاب اور سندھ کے علاوہ بھارتی ریاست جیسلمیر اور بیکانیر موجودہ صوبہ راجھستان اور پنجاب  کے ضلع فیروز پور سے بھی جاملتی تھیں جب مہاجرین کی بڑی تعداد ریاست بہاولپور پہنچی تو امیر  آف بہاولپور نواب صادق  نے وزارت بحالیات بھی قائم کی اور مقامی لوگوں پر پابندی عائد کر دی کہ وہ مہاجرین کے ساتھ شادی نہیں کر سکتے اس کی وجہ یہ تھی کہ کہیں مقامی لوگوں مہاجرین کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کرشادیاں نہ کر لیں.

ریاست بہاولپور 1955تک بطور ریاستی اکائی وفاق پاکستان میں شامل رہی لیکن پھر جب مغربی پاکستان کا ون یونٹ بنایا گیا تو یہ ریاست بھی اس ون یونٹ میں شامل کردی گئی لیکن جب ون یونٹ بحال ہوا تو دیگر صوبوں کیطرح بحال کرنے کے بجائے اسے صوبہ پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا جس کے خلاف چلنے تحریک میں لوگوں نے جانوں کے نذرانے بھی دیے اور گولیاں بھی کھائیں ریاست بہاولپور سے بہاولپور صوبہ محاذ کے امیدواروں کی بڑی تعداد نے کامیابی حاصل لیکن ریاست بہاولپور بطور صوبہ بحال نہ ہو سکی صرف یہی نہیں ریاست کو سیراب کرنے والا دریا ستلج بھی سندھ طاس معاہدے میں بھارت کو دے دیا گیا جس کانتیجہ آج بھی یہاں کی نسلیں بھگت رہی ہیں کہ زیر زمین میٹھے پانی کی سطح  بھی انتہائی حد تک گر چکی اور آرسینک ملاپانی لوگوں کی ذندگیوں سے کھیل رہا یہاں کی نہری جو پانی کی وافر مقدار لے کر چلتی تھیں اب یہاں ضرورت کے مطابق نہری پانی بھی دستیاب نہیں یہاں کی فوج جو بہاولپور رجمنٹ کے نام سے پاک فوج کا حصہ بنی تھی وہ بہاولپور رجمنٹ نہ جانے کہاں کھو گئی یہ ریاست جو تعلیم یافتہ آبادی کے حوالے سے مشہور تھی اب شرح خواندگی بڑھنے کے بجائے پہلے سے بھی کم ہے ستم تو یہ ہے کہ یہاں کے نوجوان اعلی تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کرنے پر مجبور ہیں یہاں موجود اسلامیہ یونیورسٹی جو ریاست کے دور سے ہے اس کے بعد کوئی ایک یونیورسٹی بھی نہیں بن سکی اور یہاں کے جو نوجوان  پڑھے لکھے ہیں وہ  بھی ترقی  کے لیے لاہور کا رخ کرنے پر مجبور ہیں  نہری پانی میں  فی کیوسک کھیتوں کے لیے سب سے کم حصہ اسی علاقے کا ہےقیام پاکستان کے وقت باقی پنجاب کے 16 اضلاع تھے اور ریاست بہاولپور کے 3 اضلاع تھے باقی پنجاب میں تو اضلاع کی تعداد 16 سے بڑھ کر 33ہو چکی لیکن ریاست بہاولپور کے دور میں بھی یہاں 3اضلاع تھے اور آج بھی 3ہی اضلاع ہیں حالانکہ رقبے کے لحاظ سے پنجاب کا چوتھا حصہ ہونے کی بناء پر اس ڈویژن کے 11اضلاع تو بننے چاہیئں تھے لیکن ایک بھی نیا ضلع نہیں بن سکا اس کے اضلاع پنجاب کے سب سے بڑے اضلاع اور اس کی تحصیلیں سب سے بڑی تحصیلیں ہیں۔

واہگہ بارڈر ، کھوکھرا پار کے راستے تو تجارت کے لیے کھلے ہیں لیکن انگریز دور کا سب سے بڑا تجارتی راستہ بہاولنگر امروکہ ریلوے لائن بند ہے اور یوں پاکستان کا بڑا ریلوے سٹیشن بہاولنگر اجڑ چکا ، بہاول وکٹوریہ ہسپتال جو ریاست کے دور کا ہے اس کے بعد اس سطح کا کوئی بڑا ہسپتال بھی نہیں بن سکا حالانکہ پنجاب کے دیگر اضلاع بالخصوص لاہو رمیں اس سے بڑے کئی ہسپتال بن چکے ہیں ظلم کی بات تو یہ ہے کہ سب سے ذیادہ شوگر ملز تو اس علاقے میں ہیں لیکن ان کے ہیڈ آفس لاہور میں ہیں اور ریونیو لاہور کے کھاتے میں جاتا ہے یونی لیور تو یہاں ہے لیکن ہیڈ آفس کراچی میں ہونے کی وجہ سے ریونیوکراچی کی پیداوار میں جاتا ہے کپاس یہاں پیدا ہوتی ہے کاٹن جننگ کے کارخانے پنجاب کے سب اضلاع کی نسبت یہاں ذیادہ ہیں لیکن ٹیکسٹائیل مصنوعات کے کارخانے فیصل آباد میں ہیں  سرکاری نوکریوں میں اس ریاست کے باشندوں کا تناسب سب سے کم ہے ترقیاتی بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف بھی نہیں ہے حیرت تو اس بات پر ہے کہ وہ ریاست جو بجا طور پر محسن پاکستان تھی اس کے ساتھ اس قدر امتیازی سلوک کیوں روا رکھا گیا اور جان بوجھ کر پسماندگی کی نذر کیوں کیا گیا ریاست کے کنارے کنارے گزرنے والے دریائے سندھ پر ہیڈ پنجند سے گدو بیراج تک تقریبا180کلو میٹر طویل راستے پر ایک پل تک تعمیر نہ ہو سکا جس کی وجہ سے ضلع راجن پور اور ضلع رحیم یارخان کے 60لاکھ لوگ کئی گھنٹوں تک طویل سفر کرکے دوسرے ضلع میں پہنچنے پر مجبور ہیں حالنی دونوں اضلاع کے درمیان فاصلہ صرف 20کلومیٹر کا ہے ریاست کے دور کے قلعے اور محلات تباہ ہو رہے ہیں لیکن لاہور میں آثار قدیمہ پر اربوں روپے خرچ کرنے والے حکمرانوں کے پاس ریاست کے آثار قدیمہ کے لیے رقم نہیں  اب وقت آن پہنچا ہے کہ حکمران اپنی آنکھیں کھولیں ترجیحی بنیادوں پر اس علاقے کے لیے وسائل مختص کیے جائیں سابقہ ریاست کے باشندوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ مخصوص کیا جائے یہاں جدید ترین تعلیمی ادرے اور 3ئی یونیورسٹیاں بنائی جائیں لاہور اسلام آباد اور دیگر بڑی یوینورسٹیوں میں یہاں کے نوجوانوں کے لیے بلوچستان کی طرح نشستیں مخصوص کی جائیں خصوصی صنعتی زون بنائے جائیں تاکہ نوکریوں کے وسیع مواقع پیدا ہو سکیں اور سب سے بڑھ کر اس علاقے کو نہری پانی میں سے جائز حصہ دیا جائے کیونکہ ذندہ قومیں اپنے محسنوں کی قدر کرتی ہیں ۔

مزید : بلاگ