سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 21

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 21
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 21

  

وہ تاریک جنگل جن کی ناقابلِ عبور ویرانی شیخ الجبال کے سپرد تھی جلا کر خاک کر دیئے۔ وہ آبادیاں جو فدائیوں کا اسلحہ خانہ اور رسد گاہ تھیں تہ وبالا کر دیں۔ وہ فلک بوس قلعے جن تک پہنچتے پہنچتے عقاب تھک جاتے تھے اور جن کے برج میں بیٹھ کر شیخ الجبال مصر سے خوارزم تک اور افریقہ سے یمن تک کے بادشاہوں کو احکام لکھا کرتا تھا، زیرو زبر کر ڈالے۔ مصیاف کے قلعے کی طرف جنبش کر رہا تھا جس کا نام آشیانہ عقاب تھا اور جو اسم بامسمیٰ تھا۔ سطح زمین سے آسمان کے تارے کی طرح نظر آتا تھا کہ راستے میں شیخ کے سفیر آئے اور گلے میں چادریں ڈال کر اور خالی نیام پہن کر اور دن میں چراغ جلا کر آئے اور پچھلے گناہوں کی معافی کے خواستگار ہوئے۔جواب دیا گیا کہ ’’مصیاف ‘‘ کے دربار میں برج پر بیٹھ کر تم سے ملاقات کریں گے۔ اس قلعہ کا محاصرہ کر لیا جس کے نیچے سے بڑے بڑے مغرور بادشاہ ایک ایک لاکھ کا لشکر لے کر ناکام پھرے تھے منجنیقیں اور دبابے لادے ہوئے دس ہزار خچر سیدھی چڑھائی پر چڑھتے ہوئے ٹڈی دل کی طرح فصیل کے چاروں طرف پھیل گئے اور ایک ہی رات میں پانچ سودبابے اور دوسو منجنیقیں پتھروں کی بارش کرنے لگیں۔ شیخ الجبال چوہے کی طرح اپنے بل سے بلبلا کر نکلا اور بغیر کسی شرط کے حضوری کی گزارش کی۔ وہمی امیروں کی کانپتی زبانوں کی گڑ گڑاتی وکالت سے عاجز ہو کر باریابی کا شرف بخشا گیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 20 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

آدھی رات اِدھر تھی اور آدھی رات اُدھر ۔ وہ لکڑی کے تختے پر شیر کی کھال بچھائے کھجور کی چھال کا تکیہ لگائے طربوش اور بکتر پنے قد آدم شمعوں کی روشنی بیٹھا تھا۔طغرل اور طفتگین کے آہن پوش ہاتھ ایک بوڑھے کا بازو پکڑ کر لائے اور تخت کے سامنے سرخ نمدے پر کھڑا کر دیا اور اس کی پشت پر ننگی تلواریں ٹیک کر کھڑے ہو گئے۔

وہ بھاری بدن پر ڈھیلا ڈھالا اطلسیں چغہ پہنے تھا۔ سفید مخروطی ریشمی داڑھی ناف تک چلی گئی تھی۔ شانوں پر دودھ میں دھلے گھونگھریالے گیسو پڑے تھے۔ اس بڑھاپے میں بھی چہرے سے خون ٹپک رہا تھا۔ سر پر سفید اصفہانی پگڑی تھی جس کا شملہ کمر کے نیچے پڑا تھا۔ داہنے ہاتھ کی بیچ کی انگلی میں گول نیلم کی بڑی سی انگوٹھی تھی اور پیروں میں مخمل کی پاپوش اور آنکھوں میں بے خونی چمک رہی تھی۔

’’تو تم ہو وہ شیخ الجبال۔۔۔جس نے سارے عالمِ اسلام میں بزدلانہ خونریزیوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ ‘‘

’’سلطانوں کے سلطان !میری ایک گزارش۔‘‘

’’شیخ الجبال تمہاری پیشانی پر سجدوں کا نشان ہے اور دامن پر خون کے داغ۔ تم کو دیکھ کر قرب قیامت کا یقین ہو گیا۔ تم اس قبیلے سے ہو جس کے سینے میں قرآن ہوتا ہے اور زبان غلاظت میں لت پت ہوتی ہے۔ تمہاری بند آنکھوں کے سامنے عیسائی لشکر آتے ہیں۔مسجدوں میں گھوڑے باندھ کر قرآن پاک پھونک دیتے ہیں۔ مردوں کو قتل کر دیتے ہیں اور عورتوں کو ہانک لے جاتے ہیں اور تم شداد کی جنت میں بیٹھے ہوئے اپنے بڑھاپے کی عورتوں سے بہلایا کرتے ہو اور چھرے چمکایا کرتے ہو۔‘‘

’’سلطان اعظم ۔‘‘

’’تم کرک کے ریجینا لڈ، طرابلس کے ریمنڈ اور یروشلم کے بالدون کے حلیف ہو تم نے اپنی اس خونیں تنظیم میں جکڑے ہوئے سرفروشوں کو بیت المقدس پر چڑھا دیا ہوتا تو رب العالمین کی قسم ہم تمہارے ہاتھ پر بیعت کر لیتے۔ تمہارے لشکر کے آگے آگے لڑ کر مرجانے والے پہلے سپاہی کا نام ’’صلاح الدین ‘‘ ہوتا لیکن تم نے کچھ کیا تو یہ کہ جب ملت اسلامیہ کے ہاتھوں میں کوئی تلوار چمکی تو تم نے اپنے خفیہ خنجر سے اس کو تراش لیا۔ تم صلیبیوں کے ہاتھ میں وہ پوشیدہ خنجر ہو جس کے خوف سے مسلمان تاج دار اپنے قلعوں سے نکلتے ڈرتے ہیں اور افرنجی مکہ معظمہ تک فوجیں چڑھا لاتے ہیں۔ ‘‘

’’سلطان اعظم میری عرضد اشت۔‘‘

’’تم کو معلوم ہے کہ ہماری نظر میں تمہاری جنت کی کیا وقعت ہے ؟ قصر الکبیر کی بے نظیر عمارتوں میں ہمارے غلام رہتے ہیں۔ وہ خزانے جو قارونوں اور فرعونوں کو خرید لیتے ہم نے اپنے لشکر میں بانٹ دیئے ہیں۔ ہماری نظر میں آفتاب و ماہتاب سی عورتیں کھال کھینچے ہوئے دنبوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں ۔ ہم نے تین سو برس سے قائم عظیم الشان سلطنت کو اس طرح معزول کر دیا جیسے سپاہی اپنا گھوڑا بدلتا ہے ۔ ہمارے بکتر کے نیچے وہ کفن ہے جو ہم نے وزارتِ عظمیٰ کی قبولیت کے دن پہنا تھا اور یہ کفن اس دن اترے گا جس دن بیت المقدس پر محمدی جھنڈا لہرانے لگا ۔ رہا فاطمیوں اور عباسیوں کا مسئلہ تو فاطمی اس لئے نابود کئے گئے کہ وہ بیت المقدس کے راستے میں پہاڑ کی طرح حائل تھے اور اگر عباسیوں نے بھی یہ جسارت کی تو پروردگار کی قسم بغداد کی گلیاں ہمارے لشکر سے چھلک اٹھیں گی۔ بارگاہِ خلافت میں ہمارے گھوڑے نزول فرمائیں گے اور امیر المومنین کو نبیذ کے قرابوں میں دفن کر دیا جائے گا۔ شیخ الجبال ہم نہیں چاہتے کہ مسلمانوں پر چڑھ کر اپنا وقت اور ان کی قوت غارت کریں۔ ہم تمہارے دیار کا بھی رخ نہ کرتے۔ اس لئے نہیں کہ ہم تم سے خائف تھے بلکہ اس لئے کہ ہم میدانوں کے شیر ہیں۔ چوہوں کو ان کے بلوں سے نکال کر مارنا شجاعت کی توہین سمجھتے ہیں۔ ہماری آرزو ہے کہ ہم جہاد کرتے ہوئے شہید ہوں لیکن اگر یہ مقدر ہو چکا ہے کہ ہم کسی بزدل فدائی کے چور خنجر کا نشانہ بنیں تو ہم کو یہ موت بھی قبول ہے ۔ لیکن یاد رکھو کہ صلاح الدین کے بعد ایک ایک سپاہی صلاح الدین بن کر کھڑا ہو جائے گا اور تم پر زمین تنگ ہو جائے گی اور تم سے نسبت رکھنے والے گدھے اور گھوڑے تک ذبح کر دیئے جائیں گے۔ ‘‘

تھوڑی دیر تک خاموشی رہی۔ شیخ الجبال نے آگے بڑھ کر تخت کے پائے کو بوسہ دیا۔اور اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ولیوں کی سی آواز میں بولا۔

’’خون حسین کی قسم میں نے سلطان اعظم کے قہرمان لشکروں کی حرکت کو شوقِ جہانبانی پر محمول کیا تھا اور مقابلے پر کھڑا ہو ا تھا۔ لیکن آپ نے آنکھوں کے پردے ہٹا دیئے۔ عہد کرتا ہوں کہ میرے خنجر سلطان اعظم اور اس کے فرمان کی حفاظت کو ایمان سمجھیں گے۔اگر حکم ہو تو مصیاف کا قلعہ مہمان داری کے آداب بجا لائے۔‘‘

’’نہیں مصیاف کی نعمتیں تمہیں مبار ک ہوں، ہمارے لئے افرنجیوں کی تلواریں کافی ہیں۔ ‘‘

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

’’طغرل !‘‘

’’عالی جاہ ۔‘‘

’’سپہ سالار کو محاصرہ اٹھا لینے کا حکم دو اور شیخ الجبال کو حفاظت سے رخصت کر دو۔ ‘‘

مصیاف سے حلب تک تمام بے ادب اور گستاخ قلعوں اور شہروں کو فزاک نیاز مندی میں باندھتا ہوا وادی جناں کے سبزہ زار میں داخل ہو گیا جہاں سے حلب کے باغوں کی سبز قبائیں اور قلعے کے سفید گنبدوں کے عمامے نظر آنے لگتے ہیں ۔ گمشتگین کے قاصدوں نے اس کے پہلو میں چلتے ہوئے طغرل کی رکاب چوم کر صلح کی شرائط پیش کیں۔ طغرل نے صلح نامہ کو حقارت سے زمین پر ڈال کر گھوڑے کی ٹاپوں سے رونددیا۔ اور قاصد وں نے سنا ۔

’’ہم حلب کے بادشاہ برج میں دربار قائم کر کے فاتح امیروں کو خلعتیں پہنا کر گمشتگین کی شرطیں سماعت فرمائیں گے۔‘‘

ابھی لشکر اتر رہا تھا کہ خبر آئی۔

’’حلب کے دروازے خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ ‘‘

ایک پہر آرام کر کے نامی گرامی مملوکوں کو جلو میں لے کر قلعے پر چڑھا ۔ باب الداخلہ پرزرد پرچم لہرا رہا تھا اور فولادی دروازے کی اندرونی محراب میں اس کے مرحوم آقا سلطان نور الدین محمود زنگی کا خُرد سال بیٹا جواہرات سے منڈھا تاج اور موتیوں سے سنڈھی پاپوش پہنے، حبشی ہاتھوں میں سیدھے چھتر سلطانی کے سائے میں تنہا کھڑا تھا۔ آقا زادے کی نگاہ اٹھتے ہی گھوڑے سے اتر پڑا ۔ عبا کے دامن پر بوسہ اور رکاب تھام کر چلا اور سلطان نورالدین محمود زنگی کے عالی شان محل میں اتر پڑا۔(جاری ہے)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 22 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس