ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو ہائی انرجی کاسٹ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے

ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو ہائی انرجی کاسٹ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے

(فیصل آباد(بیورورپورٹ) پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ میں اضافہ کرنے کے لئے ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو خصوصی مراعات دیناناگزیر ہیں۔ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو ہائی انرجی کاسٹ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے اگر گیس اور RLNGکی Weighted Averageقیمت پورے ملک میں بجلی اور پٹرول کی طرح یکساں طور پر نافذ نہ کی گئی تو پنجاب میں ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری دم توڑ جائے گی۔گورنمنٹ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو ون ونڈو آپریشن کے تحت Operate کرے۔ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کے مذکورہ بالا مسائل حل نہیں کئے تویہ انڈسٹری مسائل کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے آہستہ آہستہ بند ہوجائے گی۔ ان باتوں کا اظہار انجینئرحافظ احتشام جاوید چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن(اپٹپما ) فیصل آباد نے ٹیکسٹائل پروسیسنگ ڈویلپمنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کی ترقی پر حکومت کو خصوصی توجہ دیتے ہوئے فوری طورپر ایک بزنس فرینڈلی ٹیکسٹائل پالیسی مرتب کرنی چاہیے اورویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو فی الحال تما م ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور مکمل طور پر زیرو ریٹڈ کیا جائے تاوقتیکہ ٹیکسٹائل ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی ایکسپورٹ 30بلین ڈالر سالانہ کا ہدف پار نہیں کر لیتی ۔ حکومت نے حالیہ قومی بجٹ 2017-2018میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری پر ٹیکسوں کا بوجھ اور بڑھا دیا ہے جیسے کہ TurnOverکا 1 فیصدسے بڑھا کر 1.25فیصدکر دیا ہے ۔اسے فوری طور پر کم کر کے0.50 فیصدکیا جائے۔

حالیہ بجٹ 2017-2018میں ٹیکسٹائل پر جو مزید بوجھ ڈال دیئے گئے ہیں اُن کو ختم کرنے کے لئے وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر برائے خزانہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کے وفد سے ملا قات کا وقت فوری طور پر طے کریں۔تاکہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو درپیش مسائل فوری حل کر نے اور اس اہم انڈسٹری کو ترقی کی راہوں پر گامزن کر کے ملکی معیشت میں استحکام لایا جائے۔

مزید : کامرس