قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 84

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 84
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 84

  


میں اس زمانے میں ہری پور میں تھا اور میرے مالی حالات کچھ بگڑتے جارہے تھے۔ کچھ تو مکانوں کا کرایہ آجاتا تھا اور کچھ نظموں میں قیمتاً لکھ کر بیچا کرتا تھا۔ اس سے آمدن ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹی سی سروس بھی کی تھی جس سے کچھ پیسے آتے تھے مگر ان چیزوں کے باوجود اخراجات زیادہ تھے کیونکہ گھریلو اخراجات کے علاوہ میرا بہت سا خرچ مشاعروں پر آنے جانے میں ہو جاتا تھا۔ چنانچہ میں نے آمدنی کی مختلف تدابیر سوچنی شروع کیں۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 83 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مجھے آمدنی کی ایک عجیب ترکیب روزنامہ ’’شہباز ‘‘ کو دیکھ کر سوجھی ۔ میں نے یہ پرچہ دیکھا تو اس کی ضخامت بہت تھی ۔ میں نے اسے تلوا کر دیکھا تو اس کی ردی ایک آنے کی تھی۔ میں نے اس پرچے کی ایجنسی کے لیے کوشش کی تو وہ مل گئی۔ ادارے نے مجھ سے جتنی زر ضمانت مانگی وہ میں نے بھیج دی۔ پہلے میں نے بیس پرچے منگوائے ۔ اس کے بعد تقریباً ایک ہفتہ گزرا تو میں نے انہیں لکھا کہ ہری پور میں یہ پرچہ بہت پاپولر ہوا ہے اس لیے اس کی تعداد ایک سو کر دیجئے۔ انہوں نے پرچے میں میرا خط بھی چھاپا اور ہری پور میں ایک سو پرچہ بھی بھیجنا شروع کر دیا ۔ میں اس سو پرچے کا یوں کرتا تھا کہ اس سے جو پانچ دس پرچے بکنے والے ہوتے تھے انہیں بیچ دیا کرتا تھا اور یہ پرچے میرا ایک دوست پرتھوی چند کوہلی جو اخباروں کا ایجنٹ تھا وہ بیچ دیا کرتا تھا۔ میں نے یہ سب کچھ اسے اعتماد میں لے کر ہی کیا تھا۔ اس کے سٹال سے جو پانچ دس پرچے بک جاتے اور باقی جو پرچے بچتے انہیں میں ردی میں فروخت کر دیتا تھا۔ کیونکہ سٹال پر بھی وہ پرچہ ایک آنے کا بکتا تھا اور ردی میں بھی وہ ایک آنہ فی پرچہ ہی بکتا تھا۔ اس طرح مجھے ردی بیچ کر کوئی دیڑھ روپیہ روزانہ کے حساب سے بچت ہو جاتی تھی۔ اگر اس طرح ہونے والی ماہانہ آمدن کا حساب کیا جائے تو مجھے ایک کلرک کی آمدن سے اڑھائی گنا زیادہ آمدن گھر بیٹھے ہوئے ہی ہو رہی تھی ۔ یہ سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا۔ حتیٰ کہ کوئی آدمی سروسے کے لیے ہر پور آیا تو اسے پتہ چلا کہ حضرت قتیل شفائی ان کے پرچے سے ہاتھ کر رہے ہیں ورنہ پرچہ سو تو کیا دس کی تعداد میں بھی نہیں بک رہا تھا۔ تو انہوں نے پرچہ بند کر دیا جس سے میری آمدن کا یہ ذریعہ بھی ختم ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیر پھیر کے سلسلے

کمانے کے ڈھنگ بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں جیسے میں نے روزنامہ ’’شہباز‘‘ سے ناجائز آمدنی اپنے لیے مناسب سمجھی ۔ کچھ لوگ اور طرح کی بددیانتی بھی کر لیتے ہیں جیسے ایک معزز شخص نے میرے ساتھ روا رکھی۔ میں ہری پور میں اپنے گھر کی بالائی منزل میں بیٹھا لکھ رہا تھا۔ گھنٹی ہوئی ۔ نیچے گیا تو ایک انتہائی سفید پوش آدمی جو آنکھوں سے اندھا تھا وہاں کھڑا تھا۔ اس نے مجھے اپنی داستان سنائی کہ میں پانچ بیٹیوں کا باپ ہوَں ایک حادثے میں میری آنکھیں پھوٹ گئی تھیں اور اب میں بالکل نہیں دیکھ سکتا۔ مگر سر پر بیٹیوں کا بوجھ ہے۔ سنا ہے کہ آپ اللہ والے ہیں اور میری مدد کریں گے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میرے والد صاحب فوت ہو چکے تھے اور گھر میں کافی پیسہ موجود تھا۔ اس نے اپنی داستان کچھ اس درد ناک انداز سے سنائی کہ میں والدہ کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے پچاس روپے دے دیجئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ۔ میں نے بات بتائی تو وہ بھی بہت متاثر ہوئیں۔ اور مجھے انہوں نے پچاس روپے دے دیئے۔

اس زمانے میں جب فقیر کو ایک پیسہ دیا جاتا تھا ، اور اگر کوئی اس سے بہت متاثر بھی ہوتا تو ایک روپیہ دے دیتا لیکن میں نے اس خضر صورت آدمی کو پچاس روپے دے دیئے۔ وہ دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔

اس واقعہ کے چھ مہینے بعد میں راولپنڈی والے مکان میں تھا کہ دستک ہوئی۔ باہر نکلا تو وہی بزرگ کھڑا تھا اور اس نے بالکل وہی داستان مجھے سنائی۔ میرا جی چاہا کہ اس شخص کو داڑھی سے پکڑوں اور پٹائی کر وں یا پھر جوتا اٹھا کر خود اپنے سر میں ماروں کیونکہ دھوکا تو میں نے کھایا ہے۔ مجھے چاہیے کہ پچاس روپے جو آج کے کم از کم دو ہزار روپے ہوں گے، دینے سے پہلے اسے پرکھ لیا ہوتا۔ میں یوں بھی کر سکتا تھا کہ اس سے کہتا کہ آپ اپنا ایڈریس لکھوا دیکھئے اور میں منی آرڈر کر دوں گا۔ بہرحال میں نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بوڑھے آدمی سے صرف یہی کہا کہ مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا اور پھر میں نے اسے بتایا کہ وہ ہری پور میں بھی میرے پاس آیا تھا اور یہی داستان سنائی تھی۔ پہلے تو چونکا لیکن پھر کہنے لگا کہ بیٹے دیکھو نا پانچ بیٹیوں کا معاملہ تھا۔ دو کی تو میں نے شادی کر دی ہے لیکن ابھی تین بیٹیاں باقی ہیں ۔ میں نے کہا اس وقت آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کی بیٹیاں ایبٹ آباد میں ہیں، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی بیٹیاں گوجرانوالہ میں ہیں۔ کہنے لگے کہ جی میری دونوں جگہ ہی رشتہ داریاں ہیں، کبھی وہاں چھوڑ آتا ہوں اور کبھی وہاں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو یہاں بیٹھیں میں پولیس کو بلا لاؤں ۔ اگر آپ کی بات سچ ہوئی تو یقین کریں کہ میں آپ کی کم از کم ایک بیٹی کی شادی کا پورا خرچ اٹھا لوں گا ورنہ آپ جیل چلے جائیں گے ۔ پہلے تو وہ شخص بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ آپ بے شک تصدیق کر لیں۔ لیکن جب میں نے ایک دوست کو کہا کہ تم جا کر پولیس کو بلا لاؤ، تو اس کے جانے کے پندرہ بیس منٹ بعدتک بھی یہ بزرگ بڑے حوصلے سے بیٹھا رہا۔ اس کے بعد میرے پاؤں پکڑ لیے اور کہنے لگا کہ میں سچا تو ہوں مگر پولیس سے بہت ڈرتا ہوں۔ خدا کیلئے مجھے جانے دیجئے۔ ویسے بھی اگر میرے عزیزوں کو پتہ چل گیا۔ تو میری بیٹیوں کی شادیاں متاثر ہوں گی۔ میں نے کہا کہ تم بڑے ملعون آدمی ہو۔ اب بھی سچ نہیں بول رہے ہو جب پولیس والے ایک تھپڑ ماریں گے تو تم خود ہی سچ بول دو گے لیکن پھر بھی میں تمہاری عمر کا لحا ظ کرتے ہوئے تمہیں چھوڑ دیتا ہو اور خدا کیلئے اب اس کام سے باز آجاؤ۔ کیوں اپنی قبر بھاری کر رہے ہو۔ اس طرح وہ شخص وہاں سے چلا گیا اور میں نے سوچا کہ میں نے تو پھر بھی اخبار کی ناجائز کمائی ردی بیچ کر ہی کمائی تھی مگر یہ شخص تو خدا کا نام بیچتا ہے اور بیٹیوں کی مظلومیت کا مفروضہ بھی گھڑتا ہے ۔ اللہ مجھ پر بھی رحم کرے اور اس پر بھی رحم کرے۔

ہیر پھیر کے سلسلے تو عجیب طرح سے ہوتے ہیں۔ اب ان چیکوں کا معاملہ لے لیجئے جو کوئی شخص جان چھڑا نے کے لیے بعد کی تاریخ کے دے دیتا ہے ۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ ایسے POST DATED چیک عام طور پر ڈس آنر ہو جاتے ہیں۔ 1950 ء کے لگ بھگ کی بات ہے کہ ایک پروڈیوسر جعفر شاہ صاحب نے فلم ’’بھروسہ ‘‘ بنائی جس کا ایک گیت مجھ سے لیا۔ یہ ایک ایسی ماں کی اپنے بچے کے لیے لوری تھی جس کا بچہ حقیقی شوہر سے نہیں تھا ۔ دوسرے معنوں میں وہ حرامی بچے کی ماں تھی ۔ یہ لوری والا گیت اس زمانے میں بہت مشہور ہوا ۔ اس کا ایک مصرح تھا:

سو جا میری جوانی کی بھول

انہوں نے مجھے دو سو روپے کا پوسٹ ڈیٹڈ چیک دے دیا۔ اس زمانے میں اچھے گیت نگار کا معاوضہ دو سو روپے ہوتا تھا۔ پندرہ دن کے بعد میں مقررہ تاریخ کو بینک گیا تو یہ چیک ڈس آنر ہو گیا ۔ میں نے ان سے جاکر کہا کہ آپ کا چیک تو ڈس آنر ہو گیا ہے تو وہ کہنے لگے کہ اصل میں مجھے جو چیک ملا تھا اور جو میں نے جمع کروایا تھا وہ ڈس آنر ہو گیا تھا۔ پھر کہنے لگے کہ ایک دوسرا چیک جمع کروایا ہے۔ آپ دس دن کے بعد جا کر بینک سے پیسے لے لیں۔ جب میں پھر بینک گیا تو چیک دوبارہ ڈس آنر ہو گیا۔ بینک کا کلرک میرے اشعار پڑھنے والا تھا۔ وہ مجھے کہنے لگا کہ قتیل صاحب آپ کب تک اس چیک کے ساتھ یوں ہی چکر لگاتے رہیں گے۔ اس شخص کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جسے پیسے دینے ہوتے ہیں اسے چیک دے کر مقررہ تاریخ سے ایک دن پہلے اتنے پیسے جمع کروا دیتا ہے اور پیسے بھی اس وقت جمع کرواتا ہے جب بینک بند ہونے والا ہوتا ہے ۔ پھر کہنے لگا کہ اب یہ جس دن آکر پیسے جمع کروائے گا تو میں آپ کو فون کردوں گا۔ چنانچہ ایک دن دو بجے کے بعد مجھے فون آیا کہ اس نے آج پانچ سو روپیہ جمع کروایا ہے ۔ اس کلرک نے مجھے کہا کہ آپ صبح بینک کھلتے ہی یہاں پہنچ جائیں۔ چیک کیش ہو جائے گا۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا اور چیک کیش کروا کے دو سو روپے وصول کر لیے۔ پیسے لینے کے بعد میں بینک کے اندر ہی بیٹھ کر اب پانچ سو روپے والے چیک والے آدمی کا انتظار کرنے لگا ۔ میں نے دیکھا کہ جب وہ آیا تو اس کا چیک ڈس آنر ہو گیا کیونکہ اس کے اکاؤنٹ میں صرف تین سو روپے تھے۔

ایک اور پروڈیوسر صاحب نے ایک بار مجھے ایک ہزار روپے کا پوسٹ ڈیٹڈ چیک دیا تو وہ ڈس آنر ہو گیا۔ میں نے بینک کے کیش کلرک کو اعتماد میں لے کر پوچھا کہ بات کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ان کے اکاؤنٹ میں اس وقت بھی ساڑھے آٹھ سو روپے ہیں مگر آپ کا چیک ایک ہزار روپے کا ہے ۔ میں نے وہیں سے ایک آدمی سے ڈیڑھ سو روپے لے کر اس کے اکاؤنٹ میں جمع کروائے اور جب پتہ چل گیا کہ وہ ڈیڑھ سو روپیہ ان کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہو گیا ہے تو اسی دن دوپہر کے قریب میں نے وہ چیک پھر پیش کر دیا۔ اب وہ چیک کیش ہو گیا ۔ گویا میں نے ساڑھے آٹھ سو روپے تو لے لیے لیکن ڈیڑھ سو روپے کی قربانی دے کر ہی لیے۔ وصولیاں کبھی اس طرح بھی کرنی پڑ جاتی ہیں۔(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 85 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے


loading...