پیر پگارو کی انگشتری!

پیر پگارو کی انگشتری!
پیر پگارو کی انگشتری!

  

چند دن ہوتے ہیں میں ایک مختلف محفل میں بیٹھا ہوا تھا دوران گفتگو سوال سامنے آیا کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہے؟دیکھنے میں کہیں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی لوگ وزیراعظم عمران خان سے بھی مایوس ہوتے جاتے ہیں،بلکہ ہو چکے ہیں اس ماحول میں کیا ہونے جا رہا ہے؟گھٹا ٹوپ اندھیرے میں آخر کوئی جگنو ٹمٹمائے گا بھی کہ نہیں؟ہمیں ان حالات میں کیا کرنا ہو گا؟ملک و قوم کی قسمت کب اور کیسے بدلے گی؟؟ایک از حد منفرد،دلچسپ اور قابل توجہ جواب سننے کو میسر آیا بالکل غیر روایتی!کہاکسی بھی قوم یا ملک کا مستقبل تو در حقیقت خود ان کے اپنے ہاتھ میں ہوا کرتا ہے اگر ان کے اپنے ہاتھ ہی مفلوج یا ناکارہ ہوجائیں تو ایک طویل عرصہ تک اندھیروں کا تسلط نصیب ٹھہرتا ہے ویسے ستارے تاریکی میں ہی طلوع ہوتے ہیں چرخ کہن کے تیور ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں اور بدلتے رہیں گے پاکستان میں بھی یکسانیت اور جمود ٹوٹنے کو ہے، لیکن سنبھلنے میں وقت لگے گا اور فی الواقع تبدیلی کے آرزو مند ہر ایک فرد اور طبقے کو اس کی بھاری قیمت دینا پڑے گی از حد کچھ نہیں ہونے والا معمول کی رفتا یہی رہی تو حالات بدتر سے بدترین آیا چاہتے ہیں ان کی حیران بلکہ پریشان کن گفتگو کا سلسلہ جاری تھااگر بالفرض اگلے پچاس سال عمران خان کی حکومت رہے،یا ان کی جگہ پھر سے پاکستان مسلم لیگ،پیپلز پارٹی یا ”پیپلز مسلم لیگ“آ جائے تو بھی حسب سابق کچھ نہیں ہو گا حتی کہ زمام اختیار جماعت اسلامی یا مولانا فضل الرحمن کے ہاتھ میں تھما دیں تو بھی سب کچھ ایسا ہی رہے گا ایسا؟نہیں،

ایسا ویسا!مزید ابتری اور برتری سر عام ناچے گی!انہوں نے دن کے وقت جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے کی ایک سیاسی ترکیب یا تدبیر تجویز کی پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم)اور مسلم لیگ (فنکشنل) ایک دوسرے میں مد غم ہو جائیں مرکزی سطح پر پیر صاحب پگارو اور پنجاب کے درجہ میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سیاسی دھاگے میں پرو لیے جائیں نیز پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک صاحبزادہ سعد رضوی کی تحریک لبیک ذرا سی ترمیم و تنسیخ کیساتھ اس کا باقاعدہ حصہ ہو اور مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم  کے بکھرے موتی اور مولانا سمیع الحق مرحوم سے جڑی روایت کسی طور اپنائی جائے تو پاکستان کو آگے بہت آگے لیکر جایا جاسکتا ہے پاکستان مسلم (ق) کے پاس وفاقی قیادت موجود نہیں جبکہ فنکشنل مسلم لیگ میں ایک قد آور شخصیت تو موجود ہے،لیکن سندھ سے باہر پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں خالی!پھر ان دونوں کے پاس فکری و تحریکی محرومی کا سامان علامہ طاہر القادری اور علامہ سعد رضوی کی صورت میں کافی سے زیادہ اثاثہ ہوگامولانا شاہ احمد نورانی مرحوم اپنی خوبصورتی،بے لوثی،

عظمت، فکروکردار کی جہت سے بطور ایک بے مثال حوالہ ناقابل فراموش ہیں مولانا سمیع الحق مرحوم کی رعایت سے صوبہ خیبر پختونواہ ایک گلگت  بلتستان میں بڑے اثرات و ثمرات سمیٹے جا سکتے ہیں وہ شخص درویشانہ لہجے میں بڑے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا تھا ایک الگ الگ رہ کر یہ قیامت تک کچھ نہیں کر پائیں گے،مگر ایک ساتھ یہ خود قیامت سے کم نہیں سچ بالکل سچ!کارزار سیاست میں مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم جیسا نایاب ہیرا ہم سے یوں ہی کھو گیا مولانا سمیع الحق مرحوم رائیگاں گئے علامہ خادم حسین رضوی مرحوم کی قدر جانی و پہچانی نہ جا سکی علامہ سعد رضوی بھی لمحہ بہ لمحہ تیز ہوا میں پگھل رہے ہیں  علامہ طاہر القادری لازوال صلاحیتوں کے مالک ہیں یہ سارے پھول ایک گلدستے میں سج جائیں تو یقینا بہار آجائے- یہ واقع جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے والا عمل ہے میں نے سوچا کہ خواب کبھی سچ بھی تو ہوجاتے ہیں اپنی اپنی جگہ ہر قیمتی نگین!انگشتری بہرحال ایک ہی ہے -

مزید :

رائے -کالم -