تحریک ختم نبوت 1974ء کا آغاز رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے فیصلے سے ہوا تھا(2)

تحریک ختم نبوت 1974ء کا آغاز رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے فیصلے سے ہوا تھا(2)
 تحریک ختم نبوت 1974ء کا آغاز رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے فیصلے سے ہوا تھا(2)

  

اس تاریخی اجلاس میں شرکت کے لئے روانگی کے وقت میں نے ان سے رابطے کی کارروائی فراہم کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے ہی بتایا تھا کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے تاکید کی ہے کہ اجلاس میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز آئے تو پاکستان کی طرف سے اس کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کیا جائے، چنانچہ رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے اجلاس کی کارروائی ہفت روزہ چٹان لاہور کے شمارہ 6 مئی 1974ء کو ’’قادیانی امت کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیا گیا‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوئی تھی، جس کی کارروائی کا اقتباس درج ذیل ہے:

بدھ 26 اپریل۔۔۔ پچھلے دنوں 8اپریل کو مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام دنیا بھر کی ایک سو سے زائد مقتدر اسلامی تنظیموں کی مشترکہ مؤتمر منعقد ہوئی،جس میں دوسری اہم قراردادوں کے علاوہ ایک بنیادی قرار داد نمبر 9 قادیانی امت کے متعلق منظور کی گئی، اس قرار داد کا متن روزنامہ الندوہ (سعودی عرب) 14 اپریل کے حوالے سے درج ذیل ہے: اس قرارداد کے حق میں تمام اسلامی ممالک کے شرکاء نے، جن میں حکومتوں کے وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسر شامل تھے، ووٹ دیا۔ تجمل حسین ہاشمی سکرٹری مذہبی امور نے صرف یہ کہا کہ قادیانیوں کی مذہبی حیثیت سے مجھے اتفاق ہے، لیکن انہیں اسلامی ممالک میں ملازمتیں نہ دیئے جانے کی تجویز سے اتفاق نہیں۔ قرارداد کا متن حسب ذیل ہے:’’قادیانیت وہ باطل مذہب ہے جو اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے:

(الف) اس کے بانی کا دعویٰ نبوت کرنا

(ب) قرآنی نصوص میں تحریف کرنا

(ج) جہاد کے باطل ہونے کا فتویٰ دینا۔

اس سے آگے قادیانیوں کی مکر وہ سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے قرار داد کی شق نمبر 2 میں مطالبہ ہے کہ اس گروہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے کا اعلان کیا جائے اور شق نمبر 4 میں ہے کہ کانفرنس تمام اسلامی ملکوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، نیز ان کے لئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔۔۔ (چٹان لاہور 6 مئی 1974ء۔

جہاں تک رابطہ عالم اسلامی کی مفصل کارروائی کا تعلق ہے، خوفِ طوالت کے پیش نظر درج نہیں کی گئی۔ رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس منعقدہ مکہ معظمہ مورخہ 8 اپریل 1974ء میں حکومت پاکستان کے سیکرٹری مذہبی امور جناب تجمل حسین ہاشمی نے پہلی مرتبہ حکومت پاکستان کی مذہبی پالیسی واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومتِ پاکستان قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے کی تائید کرتی ہے، گویا حکومتِ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں اُمت مسلمہ کے اجتماعی فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ اب صرف داخلہ پالیسی کا اعلان باقی ہے۔ باقی رہا قادیانیوں سمیت غیر مسلم اقلیتوں کو سرکاری ملازمتیں دینے کا مسئلہ، تو انہیں ان کے استحقاق کے مطابق ملازمتیں دی جائیں گی، لیکن انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کلیدی عہدوں پر فاائز نہ کیا جائے گا، جیسا کہ دُنیا کے غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو بڑے عہدوں پر( مثلاً وزیراعظم) نہیں مقرر کیا جاتا۔

اس سلسلے میں یہ بات خصوصاً قابلِ ذکر ہے کہ راقم الحروف(مجاہد الحسینی) نے جب مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی خدمت میں رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ کے اجلاس اپریل 1974ء کی قراردادوں اور فیصلے کی نقل حاصل کرنے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رابطہ عالم اسلامی کے فقہی اجتماع میں قادیانیوں کی بابت قرارداد میں نے پیش کی تھی، چنانچہ عمرہ کی سعادت پانے والے مفتی محمد سعید خطیب مسجد الامین فیصل آباد رابطہ عالمی اسلامی مکہ معظمہ کے فیصلوں کی نقول لے کر آ گئے جو اس حقیقت کا واضح ثبوت پر مشتمل ہیں کہ 1974ء میں تحریک ختم نبوت کا آغاز 29مئی کو فیصل آباد سے نہیں، بلکہ مکہ معظمہ میں شاہ فیصل شہید کے حکم پر اپریل 1974ء کی ابتدائی تاریخوں میں ہوا تھا، جس کا اعلان پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے تمام مکاتب فکر اور مسالک کے علماء و مشائخ سے مذاکرے اور قادیانی جماعت کے سربراہ کا موقف سننے کے بعد7ستمبر 1974ء کو اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ:میں فیصلے کا اعلان صرف پاکستانی قومی اسمبلی یا پاکستانی علماء و مفتیان کرام کا نہیں، بلکہ دُنیائے اسلام کے نامور اور جید علماء و مفتی صاحبان کے متفقہ شرعی فیصلے کے مطابق کر رہا ہوں۔ اُمت مسلمہ کا یہ وہ فیصلہ ہے ، جس کے لئے علامہ اقبالؒ ، پیر سید مہر علی شاہ آف گولڑہ شریف اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری جدوجہد کرتے رہے ہیں‘‘۔

7ستمبر1974ء کو اس تاریخی فیصلے کے صحیح پس منظر سے ناواقف حضرات محض سنی سنائی معلومات کے مطابق تحریک ختم نبوت کا آغاز29 مئی 1974ء کو فیصل آباد سے بیان کرتے ہیں، اگر اسے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو مکہ معظمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے ڈیڑھ سو سے زیادہ علماء و مفتیان کرام کے اس اجتماعی فیصلے اور قراردادوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے جو اپریل 1974ء میں منعقد ہوا تھا اور6مئی 1974ء کے ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ لاہور میں8اپریل کے شمارہ الندوہ مکہ معظمہ کے حوالے سے اس کی مفصل کارروائی شائع ہوئی تھی۔ختم نبوت کے نام سے قائم مختلف گروپوں کو چاہئے کہ وہ اخبارات میں مصدقہ اور صحیح معلومات فراہم کریں اور محض اپنی ذاتی شہرت کی خاطر اسلامی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کیا کریں۔ یاد رہے کہ سید محمد رسول اللہؐ کی نبوت اور رسالت کے بعد جھوٹی نبوت کے دعویداروں اور ان پر ایمان لانے والوں کو غیر مسلم صرف پاکستان کی قومی اسمبلی نے ہی قرار نہیں دیا، بلکہ سعودی عرب، مصر، شام، الجزائر، لیبیا، افغانستان، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائیجیریا، ایران وغیرہ تمام اسلامی ممالک میں قادیانی غیر مسلم قرار دیئے گئے ہیں۔ ایران نے تو بہاء اللہ اور محمد علی باب کی جھوٹی نبوت کو ماننے والوں کو مُلک بدر کر دیا تھا۔ پاکستان میں منکرین عقیدۂ ختم نبوت قادیانیوں کو مرتد قرار دینے کے بجائے غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے ساتھ نرم سلوک کیا گیا ہے، اسے تسلیم کر لینا چاہئے۔ انہیں توبہ کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو کر عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان لانا چاہئے۔ کسی بھی جھوٹے نبی پر ایمان لانے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور سیدنا محمد رسول اللہؐ،اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔(ختم شد)

مزید : کالم