پاکستان تباہ کرنے کے لیے ہمارے خلاف بم استعمال کررہا ہے،قندھارپولیس چیف

پاکستان تباہ کرنے کے لیے ہمارے خلاف بم استعمال کررہا ہے،قندھارپولیس چیف

قندھار(این این آئی) افغانستان کی سب سے زیادہ طاقت ور تصور کی جانے والی شخصیت نے ملک کے جنوبی صوبے قندھار میں پاکستانی روپے کے استعمال پر پابندی لگادی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صوبہ قندھار کے پولیس چیف جنرل عبدالرزاق نے کہا کہ انھوں نے پاکستانی روپے میں تجارت کو جرم قرار دے دیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تاحال اس جرم کی سزا کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا۔خیال رہے کہ پاکستان سے متصل افغانستان کے شمالی اور جنوبی صوبوں میں پاکستانی کرنسی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے جبکہ افغانستان کے مغربی صوبوں میں ایرانی کرنسی استعمال کی جاتی ہے۔عبدالرزاق کا کہنا تھا کہ میں تجارت کے خلاف نہیں ہوں لیکن میں اپنے ملک میں کسی اور ملک کی کرنسی کا استعمال نہیں چاہتا، خاص طور پر پاکستانی اور ایرانی کرنسی کا بلکل نہیں۔انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان نہ صرف ہمارے خلاف بم استعمال کررہا ہے بلکہ ہمیں تباہ کرنے کیلئے ہر قسم کے طریقے استعمال کررہا ہے جس میں ہماری تجارت بھی شامل ہے۔عبدالرزاق نے پاکستانی حکام پر الزام لگایا کہ وہ افغان اشیا، جس میں تازہ پیداوار بھی شامل ہے سرحدوں پر روک لیتے ہیں، جب تک کہ وہ سڑ نہیں جاتیں۔دوسری جانب افغانستان کی خوراک کی ضروریات پاکستان کی منڈیوں سے پوری ہوتی ہے۔

، امریکی محکمہ زراعت کے مطابق گذشتہ سال 24 لاکھ ٹن گندم افغانستان منتقل کی گئی تھی جو روایتی طور پر پاکستان سے لائی گئی۔تاہم پاکستانی مصنوعات پر افغان حکام کی جانب سے لگائی جانے والی کسٹم ڈیوٹی کے باعث، بیشتر تجارت وسطی ایشیا کے ممالک کی جانب منتقل ہوگئی ہے۔یاد رہے کہ قندھار کے پولیس چیف عبدالرزاق کی جانب سے پاکستانی کرنسی پر پابندی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہے۔واضح رہے کہ یہ پابندی عبدالرزاق کی جانب سے گذشتہ ہفتے لگائی گئی تھی، تاجروں نے اس پابندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ فیصلے سے افغان کرنسی کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔قندھارسے تعلق رکھنے والے قبائلی بزرگ رہنما اور تاجر احمد شاہ خان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھی خبر ہے جیسا کہ عوام کو مشکلات کا سامنا تھا کہ وہ کس ملک کی کرنسی کا استعمال کریں اور کسے اپنے پاس رکھیں۔انھوں نے کہا کہ مذکورہ پابندی کے بعد صوبے میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں افغان کرنسی کو استحکام ملا ہے جبکہ افغان کرنسی، امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھی مضبوط ہوئی ہے۔ادھر افغان چیمبر آف کامرس کی بین الاقوامی تعلقات کمیٹی کے سربراہ آذرخش حفیظی نے مذکورہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکام پر زور دیا کہ اس پابندی پر ملک بھر میں عمل درآمد کرایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کابل سمیت ملک بھر میں امریکی ڈالر کے استعمال پر بھی پابندی لگائی جانی چاہیے۔صوبہ قندھار کے پولیس چیف عبدالرزاق کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر طالبان کی حمایت جاری رکھنے کے خلاف اقدام اٹھاتے ہوئے پاکستانی کرنسی پر پابندی لگائی گئی ہے، تاہم پاکستان ان الزامات کو کئی مرتبہ مسترد کرچکا ہے۔

مزید : عالمی منظر