طلبہ اتحاد کا خوف کس کو ؟؟؟

طلبہ اتحاد کا خوف کس کو ؟؟؟
طلبہ اتحاد کا خوف کس کو ؟؟؟

  

طلبہ اتحاد کیا ہے؟ ، طلبہ سیاست کیا ہے؟ ،  طلبہ یونین کی بحالی سے کس کو نقصان پہنچ رہا؟  آئیے آپکو اوائل سے پس منظرسمجھاتے ہیں سب سے پہلے ہمیں جاننا ہوگا کہ طلبہ یونینز ہیں کیا؟یونین سازی اکٹھ کو کہتے ہیں،اسکی مثال تاریخ کے اوراق سے یوں ملتی ہے کہ جو جانور یوڑ سے الگ ہوجائے وہ شکار ہوجاتا ہے جبکہ جو اکٹھ یا اتحاد کی رسی میں بندھا رہتا ہے وہ طاقتور وتوانا رہتا ہے اور اسکا ریوڑ اسکی عزت اور تحفظ کا ظامن ہوتا ہے، جیسا ریوڑہوگا ویسی ہی تربیت ہوگی لہذا اکٹھ کے ساتھ ساتھ بہتر ریوڑ کا انتخاب بھی عقل ودانش کی مثال ہوتا۔

اب جبکہ  طلبہ اکٹھ کی بات ہورہی ہے تو میں آپکو بتلاتا ہوں کہ''طلبہ یونین کسی بھی تعلیمی ادارے کے اندر طالب علموں کی منتخب کردہ اس قانونی تنظیم کو کہا جاتا ہےجو تعلیمی  اورسیاسی معاملات میں مختلف فورمز پرطلباء کی نمائندگی کرتی اور مختلف قسم کے ہم نصابی اور فلاحی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہے۔اس تعریف سے یہ واضح ہو جاتاہے کہ طلبہ یونینز باقاعدہ انتخابی عمل کے ذریعے سے منتخب کی جاتی ہیں۔ مختلف پینل اپنے امیدواران کی نامزدگیاں کرکے بھرپور مہم چلاتے ہیں۔ اس انتخابی عمل کے دوران متعلقہ ادارے کے تمام طلباء و طالبات ووٹ کے ذریعے پورے سال کے لئے اپنی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس طرح تشکیل پانے والی کابینہ کی قانونی و آئینی حیثیت کو ہر جگہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

ادارے کی قیادت، انتظامیہ اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ طلباء کی اس قانونی یونین کوایک وقعت و اہمیت دیتے ہیں۔ یوں طلبہ یونین اپنے مقصد وجود کے حصول کے لئے موثر طور پر سرگرم عمل ہوتا ہے  اور ہر سطح پر طلباء کے حقوق اورمفادات کے حصول کے لئے موثر کردار ادا کرتے ہیں لیکن ایک بڑا مسئلہ یہ ہم طلبہ یونین اور طلبہ تنظیم میں فرق نہیں جانتے تو یہ جان لیں کہ تین عشروں کی پابندی کی وجہ سے طلبہ یونین پاکستانیوں کے لئے بالکل اجنبی چیز بن گئی ہے۔

یہاں پر طلبہ،اساتذہ،صحافی یہاں تک کہ قانون دان بھی طلباءیونین اورطلباءتنظیم میں فرق نہیں کر پاتے،جیسا کہ اوپر بتا دیا گیا طلباء یونین  کسی کالج یا یونیورسٹی میں طلبہ کی متفقہ اور قانونی منتخب تنظیم ہوتی ہے جبکہ ایک طلباء تنظیم کسی مخصوص نظریے، علاقے، نسل یا زبان  سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کی نمائندگی کرتی ہے جیسے اسلامی جمعیت طلبہ، انجمن طلباء اسلام،انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن،پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن۔  

پاکستان میں طلبہ یونین کی تاریخ کا احوال کچھ اس طرح ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے یہاں کے تعلیمی اداروں میں طلبہ  یونینزکے انتخابات باقاعدگی سے ہونے لگے۔ شروع شروع میں یہاں پر تحریک پاکستان میں کلیدی کردار ادا کرنے والی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ہی یونین کے الیکشن جیتتی رہی لیکن مسلم لیگ کی  اندرونی اختلافات کی وجہ سے چند سالوں کے اندرہی غیر فعال ہو گئی البتہ یونین کے انتخابات برابر ہوتے رہے۔ مسلم سٹوڈنٹس  فیڈریشن  کی جگہ بائیں بازو نظریات کے حامل طلباء کی تنظیم،نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے لے لی جو کہ کمیونسٹ پارٹی پاکستان کی ذیلی تنظیم تھی جبکہ بائیں بازو کے اکثر طلبہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے قریب آتے گئے۔

ایوب آمریت کے دنوں میں طلباء تنظیموں پر پابندی لگی رہی لیکن طلبہ یونینز کی انتخابات پھر بھی ہوتے رہے۔  پابندی کے اٹھ جانے پر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کے انتخابات پر اسلامی جمعیت طلبہ چھانے لگی۔ جبکہ بائیں بازو اپنی وفاقی تنظیم کو ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہونے سے نہیں بچا سکے تاہم وہ مختلف قوم پرست اور علاقائی تنظیموں کا سہارا لیتے رہے۔یوں  ساٹھ کی دہائی کے آخر سے لیکر 1984ء میں طلبہ یونینز پر پابندی لگنے تک  طلبہ انتخابات میں دو ہی فریقوں میں مقابلہ رہا۔ ایک طرف جمعیت تھی اور دوسری طرف بائیں بازو سے متعلق مختلف تنظیمیں تھیں جو مختلف جگہوں اور مختلف وقتوں میں مختلف ناموں کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ سے مقابلہ کرتی رہی۔ ا ن میں قابل ذکرانجمن طلبہ اسلام، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن،  پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن، آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن ہیں۔

1970ء سے 1985ء تک کا دور پاکستان میں طلبہ یونینز کے عروج کا دور تھا۔ اس دوران پاکستان کے تمام کالجز اور جامعات کے اندر  یونینز کے الیکشن  بڑی باقاعدگی سے ہوتے رہے۔جمہوری عمل کے نتیجے میں ہر سال پرانی قیادت انتظامیہ کی سر پرستی میں نئی قیادت کو اختیارات حوالہ کرتی تھی۔اسی طرح تعلیمی ادارے معاشرے کے لئے نظریاتی، تربیت یافتہ اور سیاسی طور پر بالغ قیادت فراہم کرتی رہی۔ شدید نظریاتی اختلافات کے باوجودطلبہ یونینز کے انتخابات کا عمل بڑی خوش اسلوبی  اور تسلسل سے ہونا ایک مستحکم جمہوری پاکستان کی نوید تھا۔ نتیجے میں سامنے آنے والی طلبہ قیادت مختلف تعلیمی اور قومی مسائل کے حوالے سے بھی بھر پور کردار ادا کرتی رہی۔ ایوبی آمریت، بھٹو کی تحکمانہ کردار اور ضیاء  کی آمریت کے خاتمے میں طلبہ کی منتخب قیادت کا کردار مسلمہ  ہے۔

اسی طرح تحریک ختم نبوتﷺ  اور بنگلہ دیش نامنظور تحریک   میں بھی طلبہ نے بھر پور کردار ادا کیا۔ طلبہ یونین کے چونکہ ہرسال نئے الیکشن ہوتے تھے اور ہر سال قیادت کو ووٹ لینے کے لیے طلباء کے پاس جانا ہوتا تھا، اس لئے وہ بڑی  محتاط طرز عمل اختیار کرتی تھی اور ہمہ تن طلبہ کی خدمت میں مصروف رہتی تھی۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر طلباء کے چھوٹے بڑے مسائل کے لئے بہترین ترجمانی کی۔ طلبہ یونین نے 1984ء سے قبل 37سالہ تاریخ میں تعلیمی اداروں کے اندر جن رجحانات کو پروان چڑھایا،جو سرگرمیاں متعارف کرائیں،طلبہ برادری پر جو اثرات مرتب کئے اور تعلیم کے حوالےسے کیا جو کامیابیاں حاصل کیں،ان کا ایک طائرانہ جائزہ از حد ضروری ہے۔ جن کی جھلک آج بھی تعلیمی اداروں میں دکھائی دیتی ہے اور یونین کے تابندہ دور کی یاد دلاتی ہے۔

طلبہ یونین نے جو شعبے اور ادارے متعارف کرائے ان میں ادبی کونسل، ڈیبیٹنگ سوسائٹی، سپورٹس کلب، سٹوڈنٹس ایڈ کلب،سٹوڈنٹس مشاورتی بورڈ،پرائس اینڈ پیس کنٹرول کمیٹی،ڈسپلن کمیٹی شامل ہے۔ان کو قائم کرنے کا مقصد کام کو منظم انداز میں سرانجام دینا تھا۔ آج بھی چند تعلیمی اداروں میں ان میں سے کچھ ادارے قائم ہیں لیکن چونکہ یہ ادارے یونیورسٹی انتظامیہ کے تحت ہیں۔ ان کے لئے نہ تو باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور نہ صحیح انداز سے ذمہ داران کا تقرر کیا جاتا ہے نتیجتاً یہ بے قاعدگی کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ طلبہ یونین ان اداروں کے لئے باقاعدہ ذمہ داران کا تقررکرتی تھی اوراس مقصد کے لئے کمیٹیاں بنائی جاتی تھیں جو خالصتاََ اسی ادارے کے لئے کام کرتیں اوریوں کام میں باقاعدگی ہوتی۔

تعلیمی اداروں میں کتاب میلے کی روایت،ہفتہ طلبہ،ادبی سرگرمیاں،ٹرانسپورٹ کی فراہمی،میڈیکل سہولیات کی فراہمی،فرسٹ ائیر فولنگ کا خاتمہ،فوجی تربیت برائے طلبہ کا اجراء،بلڈڈونرز سوسائٹی کا قیام،بک بینک، مساجد کا قیام طلبہ یونین ہی کی مرہونِ منت ہے۔طلبہ یونینز کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں 1962ء میں ایوب خان نے ”تین سالہ ڈگری پروگرام“ کامتنازعہ آرڈیننس واپس لیا۔کراچی کے انٹر کالجز کو ڈگری کالجز کا درجہ دلوایاگیا۔ حیدرآباد میں ڈگری سطح پر سائنس کالجز کا قیام کروایا اور بعد میں پنڈی میں گورڈن کالج میں آرٹس کلاسز کا اجراء کرایا گیا۔

1966ء میں پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر سید رعارف نے خواتین یونیورسٹی کے قیام کے مطالبہ کیا جو بعد ازاں پورا ہوا۔1968ء میں میڈیکل کالجز سے فارغ ہونے والے طلبہ کی دو سالہ جبری ملازمت کے خلاف صدائے احتجاج بار آور ثابت ہوئی۔1973ء میں طلبہ یونینز کے مطالبے پر حکومت نے طلبہ کے لئے بسوں کا کرایہ نصف کرنے کا اعلان کیا۔ 1973ء میں پنجاب یونیورسٹی نے یونین کے مطالبے پر اردو میں ایل ایل بی شروع کی۔ 1975ء میں پنجاب یونیورسٹی کے اکثر شعبہ جات میں سالانہ سیشن کی بجائے سمسٹر سسٹم کا آغاز ہوا۔ اس سلسلے میں فضا کی تیاری سے عملی احکامات کی منظوری تک تمام مراحل طلبہ یونین کی مرہونِ منت ہیں۔

اکتوبر 1977ء میں پنجاب یونیورسٹی یونین کے صدر لیاقت بلوچ نے صدرِ پاکستان ضیاء الحق کو تعلیمی میمورنڈم پیش کیا جس کے بعد حکومت نے دس نکاتی پالیسی کا اعلان کیا جس میں عربی زبان کو چھٹی سے لازمی قرار دیا گیا۔ کراچی یونیورسٹی میں طلبہ یونین نے 105بسوں پر مشتمل ٹرانسپورٹ کا وسیع ترین نظام بحسن و خوبی چلا کر دکھایا۔اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو ڈگری تک لازمی مضامین بنایا گیا اور پاکستان میں ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا عزم کیا گیا۔اسکے علاوہ اور ایسے ان گنت عنوانات ہیں جو اگر بیان کئے جائیں تو ایک طویل کتاب مرتب کی جا سکتی ہے۔

نو فروری1984ء میں یکے بعد دیگرے تمام صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں طلبہ کے جمہوری حقوق پر شب خون مارتے ہوئے طلبہ یونین کے انتخابات پر پابندی عائدکر دی گئی۔ضیاء حکومت  نے طلبہ یونینز پر پابندی لگا کر ایک تیر سے دو شکار کھیلے۔ ایک طرف تعلیمی میدان مین اپنی نا اہلی کی ذمہ داری کو طلبہ یونین کے اوپرتھونپ دیا اور دوسری طرف طلبہ کی اس قوت کو روک دیا جو ان کے پیش رو حکمرانوں کے استبدادی رویوں کے بساط لپیٹ دیا تھا۔  پابندی کے بعد کا دور بھی یہ ثابت کر دیا کہ جن وجوہات کے بل بوتے پر طلبہ یونین پر پابندی لگائی گئی تھی ان کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔

طلبہ آج یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ طلبہ یونین پر پابندی کے بعد کیا ہم نے معیارِ تعلیم کا مقررہ ہدف حاصل کر لیا ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی اداروں میں ہونےوالےلڑائی جھگڑوں،ہلاکتوں میں کوئی کمی آئی ہے؟ کیا سیاسی جماعتوں نے تعلیمی اداروں میں مداخلت ترک کر دی ہے؟اگر ان سب کا جواب نفی میں ہے تو طلبہ یونین پر پابندی بلاجواز ہی نہیں بلکہ اسے برقرار رکھ کر حکمران قومی مفادات کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں اور جمہوری رویوں سے بھی روگردانی کر رہے ہیں۔

اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر تعلیمی اداروں نے طلبہ میں سیاسی ذہن پیدا نہیں کرنا تو یہ سیاسی ذہن کہاں سے پیدا ہو گا؟جب طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی تو الزام لگایا گیا تھا کہ سیاسی جماعتیں طلبہ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہیں،تعلیمی ماحول خراب اور طلبہ میں تشدد کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے۔ میں کسی دلیل کا سہارا لئے بغیر اُسی دور حکومت میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر افضل کی زیرِ سربراہی وائس چانسلرز کمیٹی کی رپورٹ پیش کر رہا ہوں جو کہ طلبہ یونین پر پابندی کے جائزہ لینے کے لئے بنائی گئی تھی۔

اس کمیٹی نے 1985ء میں 14ماہ کے بعد رپورٹ کا اجراء کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ”جن مقاصد کی خاطر طلبہ یونین پر پابندی عائد کی گئی تھی وہ حاصل ہونے کی بجائےالٹانقصان ہو رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں گھٹن کاماحول ہےاور غنڈہ گردی،تشدد اور جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں طلبہ قیادت کےبجائےقبضہ مافیاقابض ہو چکا ہے“ صرف یہی نہیں بلکہ 10مارچ1993ء کو سپریم کورٹ کے فل بینچ نے جسٹس نسیم حسن شاہ کی قیادت میں 40 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ”ہم یونینوں کی سرگرمیوں پر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔یہ یونین تعلیمی ضروریات کے عین مطابق اور کیمپس سے براہ راست متعلقہ ہیں لہٰذاِن کو کام کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین کی سرگرمی اس وضاحت کے ساتھ بحال کی جا رہی ہے کہ اسے نظریاتی راستے سے نہیں ہٹایا جائے گا اور طلبہ اپنی تعلیم و تربیت اس راستے پر کر سکیں گے۔ان کے والدین، اساتذہ اور اداروں کی طرف سے انہیں معاونت اور راہنمائی حاصل ہو گی“۔

2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے اولین کابینہ اجلاس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے  بذات خود طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کرنے کے باوجود انتخابات کا انعقاد نہیں کروا سکےجبکہ نواز شریف حکومت نےاس حوالےسےکوئی دلچسپی ہی نہیں لی۔ موجودہ حکومت جب برسراقتدار آئی تھی تو طلبہ کو امید تھی کہ ملک میں جمہوری کلچر پھلے پھولے گا اور سابقہ آمرانہ دور میں انسانی حقوق اور بنیادی شہری آزادیوں کا جس طرح گلا گھونٹا گیا تھا انہیں ختم کر کے برداشت اور تحمل کا کلچر فروغ پائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے جس طرح انتخابات سے سو روز کے منصوبے میں یونین کے انتخابات کو اہمیت دی تھی لیکن بدقسمتی سے حکومت کئی دیگر وااعدوں کی طرح طلبہ سے کئے گئے اس واحد وعدے کو عملی شکل نہیں دے سکی اور طلبہ یونین کے مطالبے کو اپنے منصوبے سے نکال کر یوٹرن لیکر ایک بار پھر لیڈر بننے کی کوشش کی۔

اختتام کی جانب جانے پر میں عرض کروں گا کہ طلبہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا سب سے اہم حصہ ہوتے ہیں بلکہ تعلیمی ادارے کا قیام  تدریسی اور غیر تدریسی عملے کاتقرراور پورےتعلیمی ماحول کےقیام کا اصل مقصد طلباء کی بہترین تعلیم اور تربیت کے لئے کی جاتی ہے،اس لئے ادارے کے اندر تمام اہم معاملات اور فیصلہ سازی میں طلبہ کی رائے کو شامل کرنا ان کا بنیادی حق  بھی ہے اور قومی ضرورت بھی۔ طلباء یونینز پر پابندی کے نتیجے میں پاکستان کی قومی سیاست میں درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے نظریاتی قیادت کا داخلہ بند ہو گیا۔ نتیجے  میں پاکستانی سیاست پر جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور ٹھیکہ داروں کے پنجے اور مضبوط ہو تے گئے اوروطن عزیز بدعنوانی اور اقربہ پروری کے دلدل میں دھنستا گیا۔ 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -