مولانا شیرانی کا طویل سیاسی دور ختم ہو گیا

مولانا شیرانی کا طویل سیاسی دور ختم ہو گیا
مولانا شیرانی کا طویل سیاسی دور ختم ہو گیا

  



مولانا محمد خان شیرانی سے پہلی بار اس وقت متعارف ہوا ،جب جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءکے دور میں کچھ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی تو کوئٹہ کے ٹاﺅن ہال میں ایم آر ڈی کا جلسہ عام تھا۔ لوگوں کی تعداد بہت کم تھی، یحییٰ بختیار کی تقریر تھی ، اس کے بعدمولانا محمدخان شیرانی کا نام پکارا گیا۔ وہ جوان تھے ،ان کی داڑھی سیاہ تھی۔ ان کی تقریر بڑے غور سے سنی۔ اس لئے کہ ان کی اردوبڑی اچھی تھی۔یہ ان سے میر ا پہلا سیاسی تعارف تھا۔ ان سے کوئی قربت نہیں تھی ،پھر ایک دن ان سے کوئٹہ کے خانہ فرہنگ ایران میں ملاقات ہوگئی۔ وہ آیت اللہ باقر صدر کی کتاب کی تلاش میں تھے اور وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھی۔ وہ مجھے جانتے تھے، اس لئے کہ وہ میرے کالم پڑھتے تھے۔ اس لئے وہاں ان سے سلام دعا ہوئی اور پھر ہم دونوں خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر ذاکری سے ملے۔ مولانا شیرانی کی فارسی اتنی اچھی نہیں تھی۔ اس لئے ترجمانی کے فرائض ادا کئے۔ مولانا شیرانی انقلاب ایران سے متاثر تھے، لیکن وہ اس وقت دیوبندیت کے حصار میں تھے ،اس لئے گفتگو بھی اسی دائرے میں ہورہی تھی۔

سال یا دو سال کے بعد ایران میں اسلامی انقلاب کی تقریبات ماہ فروری میں شروع ہونے والی تھیں۔ ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران جناب ذاکری نے مجھے بلایا اور کہاکہ ہم چند علماءکو ایران بھیجنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ اسلامی انقلاب کو قریب سے دیکھیں اور خود جائزہ لیں ۔ان سے کہاکہ محمدخان شیرانی کو دعوت دیں تو وہ بڑے حیران ہوئے اور مجھ سے کہاکہ جناب شادیزئی صاحب کوئی اور نام بتائیں۔ میرا اصرار تھا کہ انہی کو بھیجیں۔ یہ ان کاسب سے کھلے ذہن کامولوی ہے، وہ خوب ہنسا اور حیران ہوا ۔میرے اصرار پر انہوں نے اسلامی انقلاب کی تقریبات میں دعوت دے ڈالی۔ آقائے ذاکری نے کہاکہ یہ مولوی ہے اور عام مولویوں کے مقابل سیاسی ذہن رکھتا ہے اور انقلاب سے متاثر ہوگا۔ اس لئے کہ ایران میں انقلاب مولویوں کی قیادت میں برپا ہوا ہے اور یہ ان سے متاثر ہوگا اور پھر جب مولانا محمد شیرانی نے انقلاب کو دیکھااور انقلابی علماءسے ملاقات کی تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ،پھر انہوں نے انقلاب کی کھل کر حمایت کی۔

مولانا محمدخان شیرانی سے میری بعض ملاقاتیں ہوائی سفر کے دوران ہوئی ہیں، آمنے سامنے بہت کم ہوئی ہیں ،ان سے کبھی بھی کھل کر انقلاب اور سیاست پر گفتگو نہیں ہوئی ، یہ بھی حسن اتفاق ہے۔ جمعیت علمائے اسلام میں انہوں نے مجھے متاثر کیاہے۔ وہ ایک روشن فکر اور کھلے ذہن کے انسان ہیں۔ ان کی سیاسی روش اور ان کی جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف رہا ہے۔ وہ جنرل پرویز مشرف کے بہت قریب چلے گئے تھے۔ یوں تو مولانا فضل الرحمان بھی جنرل پرویز مشرف کے بہت قریب رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن محترمہ بے نظیر مرحومہ کے بھی قریب رہے۔ آصف علی زرداری کے بھی بہت قریب تھے اور اب انہیں نواز شریف کی حکومت میں وزیر کا درجہ حاصل ہوگیا ہے اور جناب مولانا عبدالغفور حیدری بھی وزیر بن گئے ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی بھی جنرل پرویز مشرف کے قریب رہے ہیں اور انہیں اپنے خاص مشوروں سے نوازتے رہے ہیں۔ مولانا محمدخان شیرانی طویل ترین عرصے تک جماعت کے عہدہ ¿صدارت پر فائز رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی ان کی صدارت میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔ وہ صوبہ بلوچستان میں جمعیت کے ایک لحاظ سے آمر تھے ،ان کا طوطی بولتا تھا۔

32سال تک انہوں نے کسی کوقریب پھٹکنے نہیں دیا۔ ان کی صدارت کو کوئی چیلنج نہیں تھا۔ وہ فیصلے کرنے میں ایک طرح سے فوجی جنرل کا روپ اختیار کرچکے تھے۔ وہ بہت سے معاملات میں بہت زیادہ بااختیار ہوگئے تھے اور انہوں نے پارٹی میں ایک لحاظ سے آمریت قائم کرلی تھی۔ ان کے رویے کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام کے اندر بغاوت پھوٹی اور انہوں نے اس ردعمل کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی ، پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور مولانا عصمت اللہ نے بغاوت کی اور ان کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام کے اندر سے تضاد پھوٹا اور پارٹی تقسیم ہوگئی۔ مولانا محمدخان شیرانی اس تقسیم کو قبول ہی نہیں کرتے تھے اور ان کی سیاسی حیثیت کو تسلیم بھی نہیں کرتے ہیں، بلکہ مولانا کے نزدیک یہ باغی اور خارجی تھے، لیکن مولانا کی 32سالہ سیاسی آمریت نے پارٹی کے اندرسے ایک اور بغاوت کو جنم دیا اور خضدار کے ممتاز عالم دین مولانا فیض محمد نے انتخاب میں انہیں بُری طرح شکست سے دوچار کیا اور مولانا محمد خان شیرانی بہت زیادہ ووٹوں سے ہار گئے اور ان کے ساتھ دانشور ایڈووکیٹ ملک سکندر خان نے بھی جنرل سیکرٹری کی نشست جیت لی اور ضلع کوئٹہ سے حافظ حمداللہ بھی ہار گئے۔ اس لئے وہ مولانا محمد خان شیرانی کے سیاسی سائے میں آگے آگئے تھے۔ حالیہ ملکی انتخابات میں انہیں قومی اسمبلی کی نشست پر محمود خان سے زبردست شکست کاسامنا کرنا پڑا ،ان کا سیاسی دور ختم ہوگیا۔ وہ سینیٹر نہ ہوتے تو گوشہ گمنامی میں چلے جاتے، اب ان کے سر سے محمدخان شیرانی کا سایہ اٹھ گیا ہے تو پارٹی کے اندر ان کا وہ وزن نہیں رہا، جو کل تک تھا ،وہ بھی کوئٹہ کی ضلعی صدارت پر بُری طرح ہار گئے ہیں۔

قارئین محترم! مولانا محمد خان شیرانی ان معنوں میں عالم دین نہیں تھے، جن معنوں میں مولانا فیض محمد یا مولانا عصمت اللہ یا حافظ فضل محمد تھے یا مولانا عبدالقادر لونی تھے۔ جمعیت علمائے اسلام تقسیم ہوتی رہی ہے۔ مولانا سمیع الحق بھی جمعیت کا حصہ تھے۔ اب مولانا عصمت اللہ نظریاتی کے قائد ہیں، نظریاتی کی اٹھان زبردست تھی، مگر وہ اپنے اس سفر کواس طرح جاری نہ رکھ سکے ،جس طرح ابتداءمیں تھا۔ حافظ فضل محمد کی موت بہت بڑا خلا پیدا کرگئی ہے۔ اس کا پورا ہونا مشکل نظر آرہا ہے۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی تو ان سے پوچھتا تھا کہ مولانا آپ کی پارٹی دوبارہ اپنے سابقہ وجود میں تحلیل تو نہیں ہوجائے گی تو وہ بڑے پُرعزم ہوکر کہتے تھے کہ ہمارا اختلاف مولانا شیرانی سے کوئی ذاتی نہیں ہے ،بلکہ مولانا فضل الرحمن سے ہے۔

انہوں نے جمعیت کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا ہے۔یہ ملا عمر کی جدوجہدکے مخالف ہیں اور یہ مدارس کے خلاف محاذ آرائی کررہے ہیں اور دینی مدارس کو مولانا شیرانی دہشت گردوں کی آماجگاہ قرار دیتے ہیں ۔ یہ امریکن نواز پالیسی کے زبردست حامی ہیں اور کشمیر کے جہاد کو نہیں مانتے ہیں ۔ حافظ صاحب کہتے کہ ہمارا ان سے اختلاف بنیادی اصولوں پر ہے۔ ہم ان کے ساتھ کبھی بھی نہیں مل سکتے ۔ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہم ان سے ملنے والے ہیں ۔ ان کا راستہ اور ہمارا راستہ اب جدا ہوگیا ہے۔ یہ پروپیگنڈہ کے ذریعے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ،ایسا ہی موقف جناب مولانا عصمت اللہ کا ہے ،ان سے جب بھی ملاقات ہوتی تو وہ بھی انہی خیالات کااظہار کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہمارا دامن صاف ہے۔ ہم نے اپنے دامن کو آلودہ نہیں کیا اور اپنے وقار کو بحال رکھا ہے ،نہ کرپشن کی ہے ،نہ کروڑوں کمائے ہیں۔

قارئین محترم! اب جمعیت اپنی صف بندی کی طرف متوجہ ہو گئی ہے۔انتخابات میں جمعیت کے بعض لوگ یہ رائے رکھتے تھے کہ اس انتخاب میں تبدیلی آئی ہے، اس لئے نظریاتی کے ضم ہونے کی وجوہات پیدا ہوگئی ہیں۔ ان کے بعض حضرات یہ کہتے تھے کہ مولانا محمدخان شیرانی اب صدر نہیں رہے ، اس لئے اب نظریاتی پارٹی ضم ہوسکتی ہے، لیکن انتخاب کے حوالے سے جمعیت نظریاتی کے ممتاز شعلہ بیان مقرر اور مرکزی نائب امیر مولانا عبدالقادر لونی اور مرکزی پریس سیکرٹری سید عبدالستار شاہ چشتی نے مشترکہ بیان میں ان خبروں کی تردید کی ہے کہ پارٹی ضم ہورہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ہمارا اختلاف اصولوں پر مبنی ہے اور پالیسی پر اختلاف تھا۔ ان کی کرپشن اور پالیسی انحرافات کئی گنا بڑھ گئے ہےں۔ وہ تمام وجوہات ،جن کی بنیاد پر ہم علیحدہ ہوئے تھے ،اب ان میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ اتحاد کے حوالے سے نہ کوئی ملاقات ہوئی ہے اور نہ کوئی نشست ہوئی ہے۔ ہمارا تعلق کسی ہارنے اور جیتنے والے سے نہیں ہے۔ جمعیت(ف ) کے انتخابات ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے کارکن ان کے پروپیگنڈہ کا شکار نہ ہوں اور نہ افواہ ساز کمپنی پر کان دھریں گے۔

قارئین محترم! مولانا محمدخان شیرانی نے 32 سال تک جمعیت پر حکمرانی کی ہے ۔وہ بلوچستان جمعیت کے بادشاہ تھے ،بلکہ بادشاہ گر تھے اور ان کی پالیسیوں میں مرکزی قیادت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت کو ہمیشہ بلوچستان جمعیت نے سہارا دیا ہے اور مولانا محمد خان شیرانی نے ہمیشہ جمعیت کو بلوچستان حکومت کا حصہ بنایا ہے ۔ اب جمعیت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ مولانا محمدخان شیرانی کی سیاست نے بلوچ پشتون سیاست سے زبردست مات کھائی ہے اور ان کی پارٹی کے ممبر بلوچستان حکومت میں بغیر وزارت کے سیاسی یتیم لگ رہے ہیں ،انہیں یقین نہیں آرہا کہ پشتونخوا حکومت میں ہے اور مولانا شیرانی کے حمایت یافتہ ممبران اسمبلی وزارتوں سے باہر کھڑے ہیں ۔پشتونخوا کی سیاست نے جمعیت کو تاریخی صدمہ سے دوچار کردیا ہے ۔سکون اور قرار چھن گیا ہے۔ بقول شاعر ....”قرار لوٹنے والے تُو قرار کو ترسے“....والی کیفیت ہے۔

قارئین محترم! مولانا محمد خان شیرانی سے تمام تر اختلافات کے باوجود مَیں ان کا مداح ہوں۔ وہ دیوبندیت کے حصار میں ہونے کے باوجود کچھ کچھ روشن فکر ہیں۔ کچھ عرصہ پیشتر وہ کسی ردعمل کا شکار ہوکر سعودی عرب اور ایران کے خلاف بیانات دیناشروع ہوگئے تھے۔   ٭

                                                                                                                                                                              

مزید : کالم


loading...