قومی ادارے قیمتی اثاثہ ہیں ،تنگ نظری کی بجائے مثبت سوچ کو وسعت دی جائے ،نواز شریف

قومی ادارے قیمتی اثاثہ ہیں ،تنگ نظری کی بجائے مثبت سوچ کو وسعت دی جائے ،نواز ...

  

 لاہور(آن لائن ،اے این این ) وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے قومی ادارے ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں مگر ہمیں تنگ نظری کی بجائے اپنی مثبت سوچ کو وسعت دینی چاہئے،ہم نے 1991ء میں جب موٹر وے کی بنیاد رکھی تو کئی لوگوں نے بلا جواز اعتراضات کئے کہ اس کی کیا ضرورت ہے،اس رقم سے تمام چھوٹی سڑکیں بنائی جاسکتی ہیں لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہی لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ موٹر وے بنانے کا فیصلہ اچھا تھا اور آج کل ہر جگہ سے موٹر وے بنانے کی ڈیمانڈز آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موٹر وے کی 10 سال کی وارنٹی تھی لیکن 20 سال گزرنے کے بعد بھی کسی نے اس پر توجہ نہ دی جس کے باعث موٹر وے پردراڑیں پڑ چکی ہیں اور اب ہم نے آکر اس کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کیاہے۔ وہ گزشتہ روز علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اے ایس ایف کنٹرول روم کے افتتاح کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ایئر پورٹ کے بارے میں دی جانیوالی بریفنگ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف‘ وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی شجاعت عظیم‘ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی ایئر مارشل محمد یوسف ‘ڈائریکٹر جنرل اے ایس ایف میجر جنرل سہیل احمد خان، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹفک کمیشن آف پاکستان (نیکاپ) ایئر وائس مارشل ارشد خان، سول ایوی ایشن کے حکام سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ وعوام کا معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی، پاک چین اقتصادی راہداری کے بعد پروازوں کا سارا بوجھ قومی ایئر لائن پر ہوگا، چین کیلئے روزانہ پروازیں چلائی جائیں ، زیادہ تر پروازیں اسلام آباد اور لاہور سے چلائی جائیں، پی آئی اے ہمارا قومی ادارہ ہے جس کی بحالی میں ہمیں کنجوسی سے کام نہیں لینا چاہئے‘ لاہور ایئر پورٹ کی توسیع‘ جہازوں کی خریداری اور مسافروں کو عالمی معیار کے مطابق سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے‘ لاہور ایئر پورٹ کی توسیع کیلئے موجودہ عمارت کے اطراف خوبصورت و دیدہ زیب عمارتیں تعمیر کی جائیںِ، ان عمارات کی تیاری میں معیاری میٹریل استعمال کیاجائے تاکہ ہم سب اس پر فخر محسوس کریں‘ فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے لاہور ایئر پورٹ پر چار دیواری تعمیر کی جائے۔ وزیر اعظم نے سول ایوی ایشن حکام کی بریفنگ کے دوران کہا کہ وہ پی آئی اے کی بحالی کیلئے چار سے پانچ مختلف تجاویز دیں جبکہ اس کیلئے مزید کچھ وقت لے لیں تاکہ ہم کچھ نیا بن کر دکھانے کی پوزیشن میں آسکیں۔ انہوں نے دبئی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دبئی نے دنوں میں ترقی کی اور بین الاقوامی سطح کا ایئر پورٹ بنالیا‘ دبئی جس طرح پھیل رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ دبئی ایئر پورٹ بھی چھوٹا پڑ جائیگا۔ اس لئے ہمیں اپنے ایئر پورٹس کو توسیع دینے کیلئے آنے والے برسوں کی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تجاویز پیش نہ کی جائیں کہ اگلے دس سالوں میں ایئرپورٹ کی موجودہ عمارت بھی کم پڑ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ادارے روز روز نہیں بنتے‘ پاکستان کی آبادی تقریبا 20 کروڑ ہو چکی ہے جبکہ مسافروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور ایئر پورٹ تعمیر کرتے ہوئے عالمی معیار کو مد نظر رکھنا چاہئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب کراچی ایئرپورٹ بنا تو سارک ممالک کے سربراہان نے اپنے دورے کے دوران اسے بے حد پسند کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایئر پورٹ پر مسافروں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے میں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ سول ایوی ایشن کے حکام نے وزیر اعظم کو ایئر پورٹ کی توسیع کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں جن میں ڈومیسٹک ٹرمینل کی نئی عمارت کے ساتھ ساتھ نئے جہازوں کی خریداری اور ایئر پورٹ پر مسافروں کی سہولت کیلئے جدید ترین بسوں کی خریداری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈومیسٹک ٹرمینل کی تعمیر کیلئے 15 ایکڑ زمین درکار ہے جس پر ڈیڑھ ارب روپے لاگت آئے گی۔لاہور ایئر پورٹ کی عمارت کو اصل نقشے کے مطابق بنا لیا جائے تو آئندہ 15 سے 20 سال تک مسافروں کی ضروریات کو بآسانی پورا کیا جا سکتا ہے جس پر وزیر اعظم نے سول ایوی ایشن کو ہدایت کی کہ ایئر پورٹ کی تعمیر و توسیع کے معاملے پر ماضی کو نظر انداز کیا جائے کیونکہ پچھلے دس برسوں میں اندرون و بیرون ملک سفر کرنیوالے مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور آنے والے سالوں میں اس تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک صحیح طرح چلتا رہتا تو آج دس گنا زیادہ ایئر ٹریفکنگ ہوتی۔ محمد نواز شریف نے ہدایت کی کہ جہازوں میں مسافروں کیلئے تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کو بیک وقت یقینی بنایا جائے اور جہازوں کی سیٹوں کے ساتھ ساتھ ٹوائلٹس بہتر کئے جائیں تاکہ مسافروں کو کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے علاوہ ازیں جہازوں کی مرمت ‘تزئین و آرائش کا کام بھی بہتر طریقے سے کیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک جہاز کی آپریشنل میعاد 14 سال کی بجائے 9 سال ہونی چاہئے۔

مزید :

صفحہ اول -