فرید احمد پراچہ کی ”عمرِ رواں“ 

فرید احمد پراچہ کی ”عمرِ رواں“ 
فرید احمد پراچہ کی ”عمرِ رواں“ 

  

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی عمرِ گزشتہ کی کتاب ”عمرِ رواں“کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ فرید احمد پراچہ کی عمر 71 سال سے کچھ زیادہ ہو گی۔ انہوں نے بڑی بھرپور سیاسی زندگی بسر کی ہے۔ 1973ء میں وہ صرف 23 سال کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہو گئے تھے۔ غالباً ان سے پہلے معروف سیاست دان جاوید ہاشمی پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی صدارت کا زمانہ اس اعتبار سے بہت اہم تھا کہ ان کے ہی دور میں بنگلہ دیش نا منظور تحریک اور تحریک ختم نبوت شروع ہوئی تھیں۔ عقیدہئ ختم نبوت سے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا رشتہ شعور کی آنکھ کھلتے ہی بہت مضبوطی کے ساتھ استوار ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ایک راست فکر مسلمان کے طور پر عقیدہئ ختم نبوت کو اپنا جزو ایمان ہی نہیں بلکہ اصل ایمان سمجھتے ہیں۔ 1974ء میں تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو منکرینِ ختم نبوت ہونے پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا تھا۔ تحریک ختم نبوت میں طلباء نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔

بلکہ یہ تحریک شروع ہی طلباء کی قربانیوں سے ہوئی تھی۔ تحریک ختم نبوت میں طلباء کے محاذ پر جاوید ہاشمی اور ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اہم ترین لیڈر تھے۔ اس لئے تحریک ختم نبوت کے حوالے سے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے بڑی تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب زیست کے ایک اہم ترین باب کی صورت میں تحریر کیا ہے۔

”عمرِ رواں“ میں میری ذاتی دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں جِن تحریکوں میں پراچہ صاحب مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ ان تحریکوں میں کسی سطح پر میں نے بھی حصہ لیا ہے۔ڈاکٹر فرید احمد پراچہ سے میری ذاتی سطح پر ملاقاتیں نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن مَیں انہیں 1973ء سے جانتا ہوں۔ جب وہ مختلف کالجوں میں مباحثوں میں شرکت کے لئے آتے تھے۔ ان کے ساتھی مقرر محمد اکرم شیخ ہوتے تھے۔ یہ وہی محمد اکرم شیخ ہیں جن کا شمار اب پاکستان کے ممتاز ترین اور مہنگے ترین وکلا میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اپنے دور طالب علمی میں بھی بہترین مقرر تھے اور ہر مباحثے میں ان کا پرائز ضرور ہوتا تھا۔ ایک مقرر کے طور پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی اعلیٰ پائے کی صلاحیتیں آج ایک ادیب کے طور پر بھی ان کی معاون و مدد گار ثابت ہوئی ہیں۔ میں نے ”عمرِ رواں“ کو پڑھتے ہوئے ان کی تحریر میں بھی وہی روانی محسوس کی ہے جو ان کی تقریروں میں ہوتی تھی۔

وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر مشکل الفاظ اپنی تحریر میں شامل نہیں کرتے بلکہ بڑی سادگی کے ساتھ اپنے تجربات اور خیالات کو اپنے قلم سے قرطاس پر منتقل کر دیتے ہیں۔ لیکن ان کی سادگی میں بھی ایسا حُسن ہے کہ قاری ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی کتاب پڑھتے ہوئے ان کی تحریر کے جادو کا اسیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر ہیں۔ ظاہر ہے کہ جماعت اسلامی کا اپنا ایک مخصوص زاویہئ نظر ہے۔ سیاست کو دیکھنے اور قومی سیاست میں کس وقت کس مقام پر کھڑا ہونا ہے۔ اس کے بارے میں جماعت اسلامی کے جو فیصلے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ بھی ان ہی فیصلوں کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن ”عمر رواں“ میں اپنے حالات زندگی کے ورق پلٹتے ہوئے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہیں جماعتی تعصب نہیں برتا۔ اپنے عہد کی زندہ تاریخ بیان کرتے ہوئے کسی بھی مقام پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔ مصلحت کا شکار ہونے والا شخص ہی جھوٹ بولتا ہے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے پاکستان کی سیاسی تاریخ بیان کرتے ہوئے اپنے قلم کو جھوٹ سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔ جس کی میں یہاں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔

جنرل ضیاء الحق نے دسمبر 1984ء میں خود کو چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے صدر منتخب کروانے کے لئے جو ریفرنڈم کروایا تھا۔ جماعت اسلامی نے اپنی مجلس شوریٰ میں کثرت رائے سے  ریفرنڈم کی حمایت میں فیصلہ کیا تھا۔ میں نے خود لاہور میں اس وقت کے امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد کی یہ تقریر سنی تھی کہ عوام جوق در جوق یعنی جتھے بنا کر اپنے گھروں سے نکلیں اور جنرل ضیاء الحق کو ووٹ دیں۔  ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اپنی کتاب میں جنرل ضیاء الحق کے ریفرنڈم کا احوال اس طرح سے بیان کیا ہے کہ اس ریفرنڈم کے فراڈ ہونے کی اصلیت ظاہر ہو جاتی ہے۔ پولنگ سٹیشنوں پر نہ ووٹ دینے والوں پر عمر کی پابندی تھی اور نہ ہی ووٹ درج ہونے کی۔ کوئی آٹھ سال کا بچہ بھی ووٹ ڈال سکتا تھا اور جس کا ووٹ کہیں بھی درج نہیں وہ بھی ووٹ دے سکتا تھا۔ ریفرنڈم والے دن پولنگ سٹیشنوں پر ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ اس ریفرنڈم کو دیکھ کر جماعت اسلامی کے ہی ایک اصول پسند لیڈر چودھری غلام جیلانی نے میری موجودگی میں نوابزادہ نصراللہ خان کو غالب کا یہ شعر سنایا تھا۔

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے جنرل ضیاء الحق کے ریفرنڈم کے حوالے سے وہی حقائق بیان کئے ہیں جو غیر جانبدار مؤرخ کی رائے ہو سکتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اپنی کتاب میں جو بھی لکھا وہ کسی مخصوص زاویہئ نظر سے نہیں لکھا۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اپنی طویل ترین سیاسی زندگی میں کئی بار پابند سلاسل بھی ہوئے۔ جب وہ ایک مرتبہ کوٹ لکھپت جیل میں تھے تو ان کی ملاقات مشہورِ زمانہ جنرل رانی سے بھی ہوئی۔ جنرل یحییٰ خاں کے دور میں جنرل رانی کو سیاہ و سفید کی مالک سمجھا جاتا تھا۔ اس دور کے کئی رنگین قصے اور کہانیاں مشہور ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ رانی جنرل یحییٰ خان کے ساتھ قربت کے باعث بعض ایسے قومی رازوں سے واقف تھیں کہ اگر وہ راز ظاہر ہو جاتے تو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار تک خطرے میں پڑ سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل رانی کو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کسی فرضی اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ جنرل رانی نے جیل میں ڈاکٹر فرید احمد پراچہ سے ہونے والی گفتگو میں یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے اصل ذمہ دار جنرل یحییٰ خاں اور شیخ مجیب نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی خود نوشت ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ اس کتاب میں ہماری قومی زندگی کے انتہائی اہم 50 برسوں  کے واقعات ہیں۔ یہ داستان ہم سب کی ہے۔ ہمارا ملک اور قوم گزشتہ 50 سالوں میں جن کٹھن حالات سے گزرے۔ وہ حادثات اور سانحات جو اجتماعی طور پر ہماری قومی زندگی پر بیت گئے۔ جن کے مطالعہ سے ہم مستقبل میں ایسی کوتاہیوں اور لغزشوں سے بچ سکتے ہیں جو ماضی میں ہم سے سرزد ہوئیں۔ اس طرح ہم ایک روشن پاکستان کے خواب کی تعبیر دیکھ سکتے ہیں۔

آخر میں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کے جو معروف اور ممتاز سیاست دان ہیں۔ انہیں ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی تقلید کرتے ہوئے اپنے تجربات اور مشاہدات کو ضرور سپرد قلم کرنا چاہئے۔ اس سے ہمیں اپنے مستقبل کے لئے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ جو لوگ یا قومیں اپنے ماضی کو فراموش کر دیتی ہیں۔ وہ کبھی اپنے مستقبل کے لئے بہتر منصوبہ بندی نہیں کر سکتیں۔

مزید :

رائے -کالم -