گھروں، دکانوں اور پراپرٹی دفاتر میں قائم پٹوار خانے غیر قانونی ہیں: وکلاء 

    گھروں، دکانوں اور پراپرٹی دفاتر میں قائم پٹوار خانے غیر قانونی ہیں: ...

  

 لاہور(عامر بٹ سے) صوبائی دارالحکومت کی پانچواں تحصیلوں میں 80 فیصد سے زائد پٹوار خانے کرایہ کی عمارتوں، گھروں، پراپرٹی کے دفاتروں، ہاؤسنگ سکیموں، دوکانوں، میں قائم ہیں جن کو سینئر ایڈوکیٹ گلفام علی بھنڈر، چوہدری عامر زکی، شہراز علی نے بھی غیرقانونی قرار دیدیا وکلا حضرات کا کہنا تھا کہ سرکاری عمارات، اور بلڈنگ میں سرکاری ریکارڈ رکھنے کی باضابطہ ڈپٹی کمشنر لاہور سے اجازت لی جاتی ہے پھر اس کے بعد ہی ْاسے پٹوار خانے کا درجہ دیا جاتا ہے مگر یہاں پر قانون کی کھلم کھلا نا صرف دھجیاں اڑائی جارہی ہیں بلکہ محکمہ مال کے اعلی افسران کی عدم توجہی کے باعث ضلع بھر کے شہریوں کا ریکارڈ اس وقت پراپرٹی ڈیلرز، فیکٹری ْاونر، پلازہ مالکان، اور ویثقہ نویسوں کے دفاتروں میں رکھا جارہا ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ متعدد ڈیلروں اور اشٹام فروشوں نے باقدعدہ کرایہ پر پٹوار خانے قائم کروانے میں پٹواری کی مدد بھی کی ہے اور کرایہ کی ادائیگی بھی کر رہے ہیں۔ محکمہ ریونیو کے ریٹائر تحصیلداروں نے بھی اپنی قانونی رائے دیتے ہوئے آگاہی دی ہے کہ لینڈ ریونیو مینول کی شق نمبر تین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ریونیو ریکارڈ سرکاری عمارت سے باہر نہیں رکھا جاسکتا،نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ریونیو سٹاف نے آگاہی دی کہ اعلی افسران کے رویہ، اور ناراضگی کے سبب آج تک کسی پٹواری نے ڈر کے مارے یہ جرات نہیں کی کہ وہ لکھ کر کہے کہ ہمیں بھی سرکاری طور پر ریونیو ریکارڈ کو رکھنے کیلئے جگہ دی جائے بلکہ خاموشی سے سر جھکا کر ہم بھی اس سسٹم کا حصہ بن چکے ہیں 

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -