برطانوی فوجی نے ایک زندگی کیلئے 10سال قربان کردیئے

برطانوی فوجی نے ایک زندگی کیلئے 10سال قربان کردیئے
برطانوی فوجی نے ایک زندگی کیلئے 10سال قربان کردیئے

  

لندن (نیوزڈیسک) عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ فوجیوں کا کام گولیاں برسانا، لوگوں کو مارنا اور معذور کرنا ہوتا ہے لیکن ایک برطانوی فوجی نے سالہا سال کی محنت سے ایک ایسا قابل رشک کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ جو انسان دوستی اور ہمدردی کی مثال بن گیا ہے۔ برطانوی فوج کے سابقہ سٹاف سارجنٹ وائن انگرم کی بوسینا میں امن مشن کے دوران ایک چھوٹے بچے سے ملاقات ہوئی جو کہ چہرے کی ایک عجیب و غریب پیدائشی طور پر بگاڑ کا شکار تھا۔ آنکھوں کے درمیان فاصلہ نارمل سے بہت زیادہ تھا اور اس کی ناک بھی بناوٹ کے مسائل کا شکار تھی۔ اس فوجی نے بچے سے وعدہ کیا کہ وہ اس کا علاج کرائے گا اور پھر اپنے وعدے کو پورا کرنے کیلئے دس سال تک فنڈز جمع کئے اور بالآخر ایک لاکھ پاﺅنڈ جمع کرواکے اس بچے کا علاج کروایا۔ آج اس بچے کا چہرہ تقریباً ٹھیک ہوچکا ہے اور علاج کا صرف آخری مرحلہ باقی بچا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سٹیفن نامی بچے کے پہلے آپریشن کے بعد جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ دوسرا آپریشن کرنا پڑے گا تو وائن انگرم نے ہمت نہیں ہاری بلکہ نئے سرے سے فنڈ جمع کرنے نکل کھڑا ہوا اور بالآخر دوسرا آپریشن بھی کامیاب ہوا۔ سٹیفن نے کہا کہ اس علاج نے اس کی زندگی بدل دی ہے۔

مزید : انسانی حقوق