پاکستان کا دائمی بحران

پاکستان کا دائمی بحران
 پاکستان کا دائمی بحران

  



پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کو کہیں گہری بے چینی کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ اگرچہ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں،کمزور جمہوری حکومت کی حمایت میں اکٹھی ہوچکی ہیں ، لیکن اب بھی ایسی طاقتور قوتیں موجود ہیں جو جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان کی طاقتور فوج پاکستانی سیاست سے الگ ہونے کے لئے تیار نہیں اور فوجی بغاوت کے لئے صرف مناسب موقع کی تلاش میں ہے۔ کسی بھی دوسری جمہوریت میں انتخابات کے چودہ ماہ بعد انتخابات میں دھاندلی کے الزامات قابل نفرت انداز میں رد کردیئے جاتے لیکن عمران خان ، چند ہزار احتجاجی مظاہرین کے ساتھ دھرنا دینے کے قابل ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ جس پارلیمان کا وہ حصہ ہیں ، وہ قانونی اور جائز نہیں ۔ مذہبی رہنما طاہرالقادری جو کینیڈا سے پاکستان آئے ہیں، وہ بھی نواز شریف کے استعفا کے مطالبے کے علاوہ انقلاب کا دعویٰ کررہے ہیں۔ دنیا کی کسی بھی دوسری جمہوریت میں احتجاجی مظاہرین اپنے نقطہ نظر کو واضح کرتے ہیں، پھر اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں اور پھر آئندہ انتخابات کی تیاری کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں یہ احتجاجی مظاہرین کئی دنوں سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور ان کے قائدین کنٹینروں میں بیٹھے ہوئے ٹی وی کی لائیو کوریج کے باعث اپنے مطالبات دہرا رہے ہیں۔

جب مظاہرین نے تشدد اختیار کرنے کا عندیہ دیا، فوج نے اہم عمارتوں کی حفاظت کے لئے پیشکش کی لیکن پولیس اور نہ ہی فوج نے دھرنے کو زبردستی اٹھانے کی کوشش کی۔ پنجاب پولیس ، جونواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے احکامات پر عمل کرتی ہے، نے اس سے پہلے طاہر القادری کے گھر پر ہلا بولا جس کے دوران 14افراد ہلاک ہوگئے۔ 1977ءکے دھاندلی شدہ انتخابات کے دوران چند درجن ہلاکتوں کو ضیاءالحق نے بہانہ بنایا اور ملک میں مارشل لاءنافذ کر دیا اور پھر وزیراعظم کو سزائے موت دینے کے بعد ملک پر گیارہ برس حکومت کی۔ نواز شریف نے اس صورت حال سے محفوظ رہنے کے لئے عمران اور قادری کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کی اجازت دے دی ، انہوں نے طاقت استعمال نہیں کی اور ان دونوں کو ”شہید “ تخلیق کرنے کی اجازت نہیں دی۔ عمران خان اور قادری ، آئندہ انتخابات کا انتظار کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ اس طرح، وہ نواز شریف کے نقش قدم پر چل رہے ہیںجنہوں نے 1988ءکے بعد بے نظیر بھتو کو مدت اقتدار مکمل نہیں کرنے دی۔ پھر پاکستانی آئین جس میں جنرل ضیاءنے ترمیم کردی تھی، نے صدر کو بدعنوانی یا نااہلیت کی بنیاد پر وزیراعظم کی حکومت ختم کرنے کی اجازت دی ۔ اب آئین اپنی اصلی حالت میں بحال ہوچکا ہے اور اس میں اس قسم کی کوئی شق موجود نہیں۔ اس وقت جبکہ نواز شریف کو اقتدار سنبھالے محض چودہ ماہ ہی ہوئے ہیں اور ابھی ان کی مدت اقتدار کے اختتام میں ساڑھے تین برس باقی ہیں تو پھر عمران اور قادری ، نواز شریف کو چند ہزار احتجاجی مظاہرین کی مددسے کس طرح اقتدار سے باہر نکال سکتے ہیں ؟ کرکت کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے عمران خان نے بار بار ”تھرڈ امپائر“ کا حوالہ دیا جو فوج کی طرف واضح اشارہ تھا ۔ پاکستان کی تاریخ فوج کی طرف سے براہ راست اور بالواسطہ ،سیاست میں مداخلت سے بھری پڑی ہے اور اس ضمن میں ہمیشہ سڑکوں پر موجود مظاہرین اور ان پر تشدد کا بہانہ بنایا جاتا ۔1969ءمیں ایوب خان کے خلاف پانچ ماہ پر مشتمل مظاہروں کے بعد ےحییٰ خان نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ اس ضمن میں ایک مشہور مبصر ہربرٹ فیلڈ مین نے پاکستانی فوج کی ڈاکٹرائن بیان کرتے ہوئے کہا ”جب جنرل ہیڈکوارٹر میں حالات ان کی تسلی کے مطابق نہیں، تو پھر مسلح افواج (درحقیقت، صرف بری فوج) کو قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی حکومت پر قبضہ کرلینا چاہئے“۔ ملک میں کشیدہ حالات پیدا ہونے کے باعث فوج نے 1977ءاور 1999ءمیں سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹا۔ 1988ءاور 1999ءکے درمیان ، کچھ سیاستدانوں کی مددسے فوج ، صدارتی چھتری سے کام لیتے ہوئے سیاسی حکومتوں کو اقتدار سے دور رکھنے میں کامیاب رہی۔ یہی تو پاکستان کا المیہ ہے کہ یہ طے پاگیا کہ پاکستان میں اقتدار کا راستہ فوجی ہیڈکوارٹر میں سے ہوکر جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں کچھ حالات بدل گئے ہیں۔ اب پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں ، اپنے مخالفین کی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لئے فوج کے ساتھ چلنے کے لئے تیار نہیں، نیز ملک کا آزاد اور بے باک میڈیا بھی ماضی کے مانند فوجی بغاوتوں کی سازش کو نظرانداز کرنے پر تیار نہیں ۔ مزید برآں اب فوج کا اصرار ہے کہ اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں لیکن فوجی جرنیلوں کے سائے ابھی تک لہراتے محسوس ہوتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ،عمران خان کے بااعتماد ساتھی جاوید ہاشمی نے بھی عمران خان پر الزام عائد کردیا ہے کہ انہیں فوج کی حمایت حاصل ہے۔ کچھ لوگوں کا بھی یہ خیال ہے کہ موجودہ بحران کا تعلق، آئی ایس آئی کے سربراہ سمیت فوج کے اعلیٰ پانچ کمانڈروں کی ریٹائرمنٹ سے ہے۔

موجودہ عدم استحکام کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشی اصلاحات اور بھارت کے ساتھ امن کا جو ایجنڈا نواز شریف لے کر آئے تھے ، اس کو شدید ٹھیس پہنچی ہے ۔ لیکن اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو پھر پاکستان کو اس بحران سے باہر نکلنا ہوگا۔ اس وقت پاکستان کی معاشی حالت دگرگوں ہے جبکہ ملک جوہری طاقت کا حامل بھی ہے ۔ موجودہ بحران جیسی کشیدگی کے باعث پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کم شرح خواندگی ، غیرمعیاری تعلیم کے علاوہ حفظان صحت کی سہولتوں جیسے مسائل ، پاکستانی قیادت کی نظروں سے ہٹ چکے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے متوسط طبقے کی نظریں کشمیر اور بھارت کے علاوہ منتخب قائدین کی بدعنوانی کی مخالفت کی طرف مرکوز ہوچکی ہیں۔ اس وقت دنیا، پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ سمجھ رہی ہے لیکن پاکستانی حقیقی خطرے کا احساس کئے بغیر باہم دست وگریباں ہورہے ہیں۔

مزید : کالم