عبدالغفور حیدری نے سعودی عرب کو پاکستانیوں کا دوسرا گھر قراردیدیا

عبدالغفور حیدری نے سعودی عرب کو پاکستانیوں کا دوسرا گھر قراردیدیا
عبدالغفور حیدری نے سعودی عرب کو پاکستانیوں کا دوسرا گھر قراردیدیا

  



جدہ (محمد اکرم اسد) جمیعت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے یہاں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہمارا دوسرا گھر ہے۔ جس طرح سعودی حکومت اور عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اسی طرح پاکستان کی پوری قوم سعودی عرب سے کرتے ہیں سعودی عرب کو ہم اسلام کا مرکز سمجھتے ہیں کیونکہ یہاں جرمنی شریفوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان دو لخت ہوا تھا تو بنگلہ دیش کو دنیا نے تسلیم کیا لیکن مرحوم شاہ فیصل نے اس کو قبول نہیں کیا وہ اس کو باکستان الشرقیہ ہی کہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے جو اب ہمیں منظور نہیں۔ ہمارے آپس میں اندرونی اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن پاکستان کی حفاظت کے لیے ہم سب متحد ہو کر ایک قوم بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برما میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ ان کو روکنے کے لیے جمیعت علمائے اسلام نے آج پاکستان میں مظاہرے کئے ہیں۔ برما۔ کشمیر اور فلسطین میں جو ہو رہا یا دنیا کہی ھی انسانیت پر ظلم ہو رہا ہو اس کے لیے جمیعت علمائے اسلام نے ہمیشہ پارلیمنٹ میں آواز بلند کی ہے۔

اگر پاکستان میں روزگار کے مواقع ہوتے تو آپ یہاں نہ ہوتے۔ ہماری معاشی بدحالی کی وجہ سے آپ یہاں ہیں۔ سیپیک روٹ جب مکمل ہو جائے گا تو پاکستان کی معیشت ترقی کرے گی اور ہم چلے ہی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔ یہ منصوبہ سب کو کھٹک رہا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ جب پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو گا تو وہ ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہو گا۔ دیگر مقررین میں قاری رفیع اللہ اور مولانا عبد الکریم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جنرل سیکرٹری قاری ذاکر جذبی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت قاری محمد سلیم نی کی

مزید : عرب دنیا


loading...