لاچار حاکمِ وقت !!!

لاچار حاکمِ وقت !!!
لاچار حاکمِ وقت !!!

  


وزیراعظم عمران خان " تبدیلی کا نعرہ " بلند کرکےبرسراقتدارآئے تھے۔ ایک برس بیت گیا مگرکوئی تبدیلی کہیں بھی نظرنہیں آئی۔ ہم مانتےہیں کہ ہمارا وزیراعظم بدعنوان نہیں ہے مگرہمیں یہ بھی مانناہوگا کہ عمران خان اپنے منشورپرعملدرآمدنہیں کرپارہےہیں ۔ اس کی وجوہات کوسمجھنے کےلیے ماضی قریب کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ جس زمانے میں عمران خان حزبِ اختلاف کا کردار اداکررہےتھے اورسابقہ حکمرانوں کےخلاف زورداراحتجاجی دھرنے اسلام آبادکے ڈی چوک میں ہوئےتووہاں عمران خان کےعلاوہ ڈاکٹرطاہرالقادری کا دھرنا "انقلاب مارچ " بھی آپ کو یاد ہی ہوگا , زیادہ پرانی بات نہیں ہے !!! ڈاکٹرطاہرالقادری کا مئوقف تھا کہ موجودہ فرسودہ نظام کا خاتمہ کیےبغیر اصلاح احوال ممکن نہیں جبکہ عمران خان کہتے رہے کہ نظام بدلنےکی کیاضرورت ہے ؟؟؟ عمران خان کا دعویٰ تھا کہ وہ موجودہ نظام کوہی ٹھیک کرکے دکھائیں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان شہدائےماڈل ٹاون کےورثاء سے اظہارِیکجہتی کرتےپائےگئےاور وعدے کیےکہ شہدائےماڈل ٹاون کے ورثاء کوانصاف ضروردلائیں گے۔ مگروہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے؟؟؟ ڈاکٹرطاہرالقادری توعمران خان کے برسراقتدارآنےکےبعد عملاً سیاست سےکنارہ کش ہوگئےمگر آپ کی کہی ہوئی اکثروبیشتر باتیں عمران خان کے دورِحکومت میں جلد ہی حقیقت کا روپ دھار گئیں ۔ وزیراعظم عمران خان کو اس فرسودہ نظام نےاپنےشکنجےمیں ایسا جکڑا کہ کپتان بےبسی کی تصویربن گیا۔ ہمارا کپتان نامعلوم وجوہات کی بنا پر شہدائے ماڈل ٹاون کے لواحقین سے کیےگئے وعدے بھول گیا ۔ پھریوں ہوا کہ سانحہ ساہیوال وقوع پذیرہوگیا مگرہمارا کپتان برسراقتدار ہونےکے باوجود سانحہ ساہیوال کے ذمہ داران کوکیفرکردار تک نہ پہنچا جاسکا ۔ اور تحریک اانصاف کی حکومت میں متاثرین سانحہ ساہیوال کو انصاف نہ مل سکا۔ اور تواور ہمارا کپتان پنجاب پولیس کی اصلاح احوال کےلیے " تھانہ کلچر" بدلنےمیں بھی تاحال کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ آخر ہو کیا گیا ہے ہمارے کپتان کو ؟؟؟ ہمارے کپتان کو اصلاحات نافذکرکےاس نظام کوٹھیک کرنا تھا , مثالی نظام عدل قائم کرنا تھا , معیشت بھی ٹھیک کرنی تھی ۔ کون لوگ اوتسی , جووزیراعظم کی ٹیم میں شامل ہیں اورالٹے سیدھے مشورے ہمارےکپتان کودیتے ہو ۔ کبھی معیشت ٹھیک کرنےکےلیے " انڈہ مرغی " پلان جیسے منصوبے بناکردیتےہیں توکبھی IMF کا پروگرام لینےکےفضائل بیان کرتے ہیں مگر لوٹی ہوئی دولت واپس لانےکےلیے کڑےاحتساب کےلیے نیب قوانین میں نقائص دورکرنےکےلیےکوئی خاطرخواہ پیش رفت نہ ہوسکی ۔ البتہ " پلی بارگین " اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جیسےناقص اقدامات اٹھالیےگئے ۔ لوگ آٹےمیں نمک برابرپلی بارگین کرکے بچ نکلتے دیکھےجاسکتےہیں ۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سےکالا دھن بھی سفید ہوتانظرآرہاہے ۔

پھرایک ذہنی مریض ATM چور " صلاح الدین " پنجاب پولیس کےبیہمانہ تشدد کی بھینٹ چڑھتا بھی دیکھا گیا ۔ " صلاح الدین " ان درندوں سے پوچھتا رہا کہ " انہوں نے مارنا کہاں سےسیکھاہے ؟؟؟ " ۔ ہمارےکپتان نےتوریاست مدینہ بنانے کے دعوے کررکھےہیں۔ " صلاح الدین " کی تشددزدہ نعش ریاست مدینہ کےدعویداروں کےلیے سوالیہ نشان چھوڑگئ ہے ۔ " صلاح الدین " منہ چڑایا کرتا تھا نا !!! تووہ منہ چڑا کرگیا ہے میرے دیس کے اندھےقانون اور گونگے بہرے اپاہج فرسودہ نظام کو !!! اورتواور راتوں رات ایک صدارتی آرڈیننس کےذریعے بڑی مچھلیوں کوواجب الادا 208 ارب روپے معاف کردئیے گئےمگرہمارےکپتان کو اگلے روزٹی وی سےپتا چلتا ہےتو ہمارا کپتان ایک اور نوٹس لےلیتاہے۔ ہمارےکپتان نےسانحہ ساہیوال بھی نوٹس لیاتھانا !!! پھرکیا نتیجہ نکلا؟؟؟ ہمارا کپتان فرسودہ نظام کے ہاتھوں اتنابےبس اورلاچارہوچکا ہےکہ وہ ٹی وی پرخبر دیکھ کرنوٹس لینےسے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا ۔ ایسا بےبس اورلاچارحکمران تصور ریاست مدینہ پر عمل پیرا نہیں ہوسکتا ۔ یہ بےبس اورلاچارحکمران جواپنے ملک میں غریبوں کو انصاف نہیں پارہا , اس سے جارحانہ کشمیرپالیسی کی توقع رکھنا بےکار ہے۔ ہمارا کپتان مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کےخلاف احتجاج ہی کرسکتا ہے !!! لوگ کہتےہیں کہ احتجاج تو بےبس اور لاچارلوگ کرتےہیں , وہ واقعی بالکل ٹھیک کہتےہیں ۔ ایک ماہ گزرچکا اور ہمارا کپتان عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگرکرنےمیں لگاہے۔ تووہ پوچھنا تھا کہ ابھی ٹھیک سے اجاگر ہوا کہ نہیں؟؟؟ عالمی ضمیر بیدارہوا کہ نہیں ؟؟؟ اگر یہ سب ہوگیا ہو توہمارےکپتان کو بہت بہت مبارکباد مگرٹھہرئیے جناب آپ ابھی تک مقبوضہ کشمیر سےکرفیوتک نہیں اٹھواسکے تو مبارکباد کیسی؟؟؟ آپ رواں ماہ کے اواخر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیرکا مقدمہ لڑنا چاہتےہیں۔ مگریادرہےکہ وہ صرف ایک سیاسی فورم ہے, وہاں دھواں دارتقاریر سےکچھ حاصل نہیں ہونےوالا ہے, باقی آپ کی مرضی !!! آپ کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیےتھی کہ بھارت کوکرفیواٹھانے کےلیے آمادہ کرتے۔ اب بھی وقت ہے , اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا انتظارکرنے کی بجائے اگرہوسکے توکوئی عملی اقدامات اٹھائیں۔ آپ وہاں سےکیا توقع رکھ سکتےہیں جبکہ خود آپ بھارتی فضائی حدود بندش میں پس وپیش سےکام لیتےرہےہیں ۔ اور آپ افغان ہند تجارتی راہداری بھی نہ بندکرسکے !!! سچ تویہ ہےکہ کپتان سے اپنا گھر بھی ٹھیک سےسنبھالا نہیں جارہا ہے۔ آپ کیسے عالمی سطح پر کشمیرکا مقدمہ لڑیں گےجبکہ آپ کی اپنی پنجاب پولیس غریبوں کےخلاف ریاستی جبرواستبداد کی بدترین مثال بن چکی ہے۔ معیشت آپ سےسنبھل نہیں پائی , وہ تو آپ نے IMF کی جھولی میں ڈال دی ہے۔ جس کا خمیازہ پاکستان کے غریب مہنگائی کی صورت میں بھگت رہےہیں ۔ وقت اور حالات نےثابت کردیا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا مئوقف درست تھا کہ "فرسودہ نظام اور دھاندلی زدہ انتخابات کےرہتے آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے" ۔ لہذاٰ ہمارے کپتان کو اپنےسیاسی نظریات پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔ لہٰذا نظرثانی کیجئے ,اور اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیجئے جنابِ وزیراعظم ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...