نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ تیسویں قسط

نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ تیسویں قسط
نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ تیسویں قسط

  

تحریر: شاہدنذیرچودھری

وسیم اکرم پر دوسرے الزام کے مطابق انہوں نے1994ء میں ٹورنٹو میں صحارا کپ کے دوران بری کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے خلاف میچ ہارا۔سلیم ملک پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے16مارچ1994ء کو کراس چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں وسیم اکرم،اعجاز احمد دوسرے نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر سازش کی جس سے پاکستان میچ ہار گیا۔اس پر دوسرے الزام کے مطابق اس نے1994-95ء میں ساؤتھ افریقہ کے دورہ کے دوران ساؤتھ افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں ہونے والا دوسرا سکینڈ فائنل جان بوجھ کر ہارا۔انکوائری رپورٹ میں وسیم اکرم،سلیم ملک اور اعجاز پر مشترکہ الزامات بھی لگائے گئے جن کے مطابق اہوں نے مل کر شارجہ کے نامور بک کیپر چوتانی اور ظفر جو جو کے ساتھ میچ ہارنے کی سازش تیار کی جس کے تحت پاکستان1994ء میں بھارت کے خلاف میچ ہارا۔

نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ انتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

تحقیقاتی کمیٹی نے وسیم اکرم،سلیم ملک، اعجاز احمد،معین خان،انضمام الحق ،مشتاق احمد،وقار یونس اور ثقلین مشتاق کے خلاف الزامات عائد کئے اور وسیم اکرم،سلیم ملک اور اعجاز کو پاکستان کرکٹ ٹیم میں مزید شامل نہ رکھنے کی سفارش بھی کی پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے جوئے اور میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے احتساب بیورو کو قومی کرکٹ کے ان کھلاڑیوں کے نام بتا دیئے جو جوئے او میچ فکسنگ میں ملوث رہے تھے۔سابق کپتان نے رضاکارانہ طور احتساب بیورو کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وسیم اکرم، سلیم ملک اور اعجاز احمد قومی کرکٹ ٹیم کے وہ اصل کھلاڑی ہیں جن کے نہ صرف بک میکروں کے ساتھ ہمیشہ قریبی روابط رہے بلکہ بیرون ملک دوروں کے وقت بھی بک میکر ان کھلاڑیوں کے ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ایک بک میکر وسیم اکرم کے قریبی دوست ہیں جو ہمیشہ دوروں پر وہیں ٹھہرتا ہے جن ہوٹلوں میں پاکستانی ٹیم ٹھہرتی ہے۔عامر سہیل نے انکوائری آفیسر کو بتایا کہ ہر کھلاڑی مختلف اشاروں سے بک میکروں کو گراؤنڈ کے اندر سے معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں۔عامر سہیل نے احتساب بیورو کو کھلاڑیوں کی جائیدادوں اور اثاثوں کے بارے میں اگلے ہفتے آگاہ کرنے کا وعدہ کیا جو کہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے چھپی ہوئی تھیں مگر وہ یہ تفصیلات پیش نہ کر سکے۔

جسٹس قیوم کی سربراہی میں ایک رکنی عدالتی کمیشن کی کارروائی میں قومی کرکٹ کے منتظمین و ماہرین اور سپورٹس صحافیوں کے علاوہ مبینہ بکیوں کو بھی طلب کیا گیا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو عارف علی خان عباسی سابق منیجر یاور سعید ان کے روبرو نے کہا کہ ان کے دور میں قومی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث نہیں رہی۔تاہم کھلاڑیوں پر الزامات آتے رہے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔

16ستمبر1998ء کے روز جاوید برکی نے انکشاف کیا کہ پاکستان ٹیم کے ارکان جوئے میں ملوث رہے ہیں اور سلیم ملک براہ راست میچ فکسنگ میں ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ عارف عباسی کا یہ بیان درست ہے کہ کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت یا شہادت موجود نہیں ہے کیونکہ جوئے کے سو فیصدی ثبوت نہیں ہوتے مگر متعدد واقعات اور شہادتیں ضرور موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ میچز فکس کئے گئے تھے۔

جاوید برکی نے سلیم ملک پر الزام عائد کیا کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث تھے جس کی وجہ سے انہیں کہا گیا تھا کہ وہ نہ کھیلیں اور ان کی وجہ سے وسیم اکرم اور اعجاز احمد پر بھی الزامات عائد کئے گئے تھے مگر وسیم اکرم کو اس وقت صرف وارننگ دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بورڈ صرف یہی کر سکتا ہے کہ جو کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث ہوا سے ٹیم سے نکال دیا۔اسی طرح سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید، باسط علی اور روزنامہ دی نیوز لاہور کی ایڈیٹر کاملہ حیات نے کمیشن کے سامنے بیانات قلمبند کرائے۔ہارون رشید نے کسی کھلاڑی کو براہ راست میچ فکسنگ میں ملوث نہیں کیا مگر بعض میچوں کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آسانی سے جیتا جا سکتا تھا۔تاہم سلیم ملک ،وسیم اکرم اور اعجاز احمد کے غیر ذمہ دارانہ کھیل کی وجہ سے پاکستان کو شکست ہوئی۔

اگرچہ کہ پاکستان کرکٹر برڈ کے حکام کا یہ کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ میں پاکستان کے کسی کھلاڑی کو سٹے بازی میں ملوث نہیں بتایا گیا تھا مگر یہ خفیہ رپورٹ کامن ویلتھ گیمز کے دوران کوالالمپور میں صحافیوں میں تقسیم کی گئی تاہم یہ علم نہیں ہو سکا کہ یہ رپورٹس کس طرح منظر عام پر آئی اور کس طرح اس کی فوٹو کاپیاں غیر ملکی اخبار نویسوں کے پاس بھی پہنچ گئیں جس میں تین کھلاڑیوں وسیم اکرم، سلیم ملک اور اعجاز احمد کے علاوہ بعض دوسرے کھلاڑیوں پر سٹے بازی میں ملوث ہونے کا شک ظاہر کیا گیا۔ آسٹریلیا سے تعلق ر کھنے والے صحافیوں نے اس رپورٹ میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی تھی۔

26ستمبر1998ء کے روز لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس ملک محمد قیوم پر مشتمل ایک رکنی کمیشن نے وسیم اکرم، عامر سہیل،راشد لطیف ،عطاء الرحمن، سینیٹر اقبال حیدر، ڈاکٹر ڈین کیسل، ظفر الطاف اور عاقب جاوید کے دوست نعیم گلزار کو طلب کرلیا جبکہ کمیشن کے روبرو سلیم ملک، اعجاز احمد،عاقب جاوید،رمیز راجہ اور صحافی امتیاز سپرا نے سٹے بازی سے متعلق اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔سلیم ملک نے کہا کہ میں تمام الزامات کی تردید کرتا ہوں۔ریکارڈ گواہ ہے کہ میری کپتانی کے دور میں ٹیم نے76فیصدی کامیابیاں حاصل کیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ سری لنکا کے دورے کے دوران میں ایک روز کے لئے لاہور نہیں اسلام آباد آیا تھا جہاں میرے بیٹے کو گر جانے کے سبب شدید چوٹیں آئی تھیں جس کی وجہ سے وہ آج تک بولنے سے قاصر ہے۔میں راشد لطیف کے ساتھ پاکستان آیا اور کراچی سے سیدھا اسلام آباد گیا اور اگلے روز کراچی واپس آگیا اور پھر سری لنکا چلا گیا، اس بارے میں پی آئی اے کا ریکارڈ موجود ہے۔

فاضل جج نے کہا کہ انکوائری کی زیادہ ضرورت آپ کو اور وسیم اکرم کو ہے،اگر آپ پر لگائے ا لزامات غلط ہیں تو کوشش ہو گی کہ آپ دونوں کا نام اس فہرست سے ہمیشہ کیلئے خارج کر دیا جائے۔باسط علی کی آپ سے لڑائی ہے مگر اس نے آپ پر کوئی الزام نہیں لگایا تاہم چیمبر میں باسط نے جوبیان دیا ہے وہ منظر عام پر آجائے تو کھلبلی مچ جائے گی۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔

مزید :

سٹریٹ فائٹروسیم اکرم -