ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 62

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 62
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 62

  

کینگرو سے ملاقات

آسٹریلیا دنیا میں اپنے مخصوص جانور کینگرو کی وجہ سے مشہور ہے جو کہیں اور نہیں پایا جاتا۔ کینبرا میں اسے دور سے پارکوں میں اچھلتے کودتے دیکھا تھا۔ مگر ابھی تک قریب سے نہیں دیکھا تھا اور اب روانگی کا مرحلہ آ رہا تھا۔ ایڈیلیڈ او ول کا پروگرام تو کینسل ہو چکا تھا۔ چنانچہ اگلی صبح طے پایا کہ ایک مقامی چڑ یا گھرمیں جایا جائے تاکہ کینگرو سے براہ راست ملاقات ہو سکے ۔ یہ چڑ یا گھر شہر سے باہر پہاڑ یوں پر واقع تھا۔تین بجے کی فلائٹ تھی اور اس سے قبل ہمیں یہ مرحلہ طے کرنا تھا۔

اس دفعہ ہمارے ساتھ آصف صاحب اور عامر کے چھوٹے بھائی شاہد بھی موجود تھے ۔ ان کے ساتھ ہونے کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک جگہ راستہ بند ملا تو ان کی رہنمائی میں ہم دوسری جگہ سے اپنی منزل پر پہنچ گئے ۔ اس پہاڑ ی راستے پر بھی ہر جگہ فطرت کے حسین مناظر بکھرے ہوئے تھے ۔ ان مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور گفتگو کرتے ہوئے ہم لوگ چڑ یا گھر جاپہنچے ۔

یہ ایک پرائیوٹ زو تھا جس کی فیس تھی۔اندر ایک فطری ماحول میں بہت سے جانور موجود تھے ۔ ان میں سے جو قابل ذکر ہیں ان میں ایک تو کوالہ(Koala) آیا۔یہ دو تین فٹ لمبا کچھ بندر اور کچھ بن مانس سے ملتا جلتا بہت معصوم ساجانور ہے ۔یہ جانور سفیدے یا یوکلپٹس کے ان درختوں پر رہتا ہے جن کے جنگلات میں آسٹریلیا میں ہر جگہ دیکھ چکا تھا۔ یہ جنگلات یہاں نیشنل پارک کہلاتے ہیں ۔

عام طور پر یہاں وہ بڑ ے جانور نہیں تھے جن کے لیے لوگ ہمارے ہاں چڑ یا گھر جاتے ہیں جیسے ہاتھی شیر چیتا۔ یہ غالباًیہاں پائے ہی نہیں جاتے ۔جو جانور تھے ان میں چمگادڑ وں کا منظر بڑ ا دلچسپ تھا جو الٹی لٹکی ہوئی آرام فرما رہی تھیں ۔پنکھ پھیلائے موربھی لوگوں کے لیے باعث توجہ تھے ۔ شاہد نے مو ر کی خوبصورتی کو دیکھ کر اسے مورنی کہا تھا میں نے ان کی غلط فہمی دور کی اور بتایا کہ یہ صرف انسان ہوتے ہیں جن میں مادہ خوبصورت ہوتی ہے ۔ باقی سارے جانوروں میں نر زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں ۔

آخر میں ہم کینگرو کے پاس پہنچے ۔ یہ ہرن جیسا ہی لگا۔ صرف فرق یہ تھا کہ اگلی دو ٹانگیں بہت چھوٹی تھیں جن کو یہ ہاتھوں کی طرح استعمال کرتا ہے ۔جبکہ یہ اپنی پچھلی دو ٹانگوں ہی سے قلانچیں بھرتا اور اچھلتا ہوا دوڑ تا ہے ۔اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس کا نومولود بچہ ڈیڑ ھ سال تک پیٹ میں بنی ایک تھیلی میں اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہے ۔

یہ کینگرو بہت معصوم تھے ۔ ان کو ہم نے ویسے ہی غذا کھلائی جیسے بکروں وغیرہ کے سامنے ان کا چارہ ہاتھ میں لے کر ان کے منہ کے پاس لے جاتے ہیں اور وہ اس کو ہمارے ہاتھ سے کھاتے رہتے ہیں ۔

جانور اور انسان

جانوروں میں انسانوں کے لیے بڑ ا سبق ہے ۔انسان اپنے حیوانی وجود کے لحاظ سے ہر اعتبار سے ایک جانور ہے ۔ اعضا کے علاوہ ساری حیوانی جبلتیں بھی انسان میں موجود ہیں ۔مگر انسان اپنی نفسیات میں جانوروں سے بہت مختلف ہے ۔ قرآن مجید کے مطابق یہ اس نفخ روح کی وجہ سے ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانو ں میں کی تھی۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 61

اس نفخ روح کی وجہ سے انسانوں میں خدا کی ہستی اور خیر و شر کا شعورپیدا ہوا ہے ۔ اسی کی بنا پر انسان کا ذوق جمال اورعقل و فہم حیوانوں سے بہت بلند ہے ۔ سب سے بڑ ھ کر اپنی ذات کا شعور اور ارادے و اختیار کی شکل میں اس کا اظہار وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے ۔

اس کے بعد انسان کے پاس دو راستے رہتے ہیں ۔ ایک یہ کہ انسان صرف جانوروں کی سطح پر زندگی گزارے ۔ پیٹ، جنس اور برتری کے جذبے کے ساتھ زندہ رہے اور اپنی روحانی طاقتوں کو ان پست مقاصد کے حصول کے لیے وقف کر دے ۔ دوسرا یہ کہ ان حیوانی تقاضوں کو بس ضروریات کے مقام پر رکھ کر اصل مقصد روحانی وجود کی بلندی کو بنائے ۔وہ خدا سے گہرا تعلق پیدا کرے ۔ اپنے خالق کی عبادت اور اپنے شعور میں اس کی یادکے احساس کو زندہ رکھے ۔ وہ خیر و شر کے شعور کی بنیاد پر تمام انسانو ں کے ساتھ عدل، احسان کے اصول پر معاملہ کرے اور ظلم و حق تلفی سے دور رہے ۔         

اس عمل کا نام تزکیہ ہے اور اس کا بدلہ جنت کی ابدی بادشاہی ہے جس میں انسان کے حیوانی وجود کی تمام نجاستیں اور کمزوریاں دور کر کے اسے ابدی زندگی دے دی جائے گی۔ جبکہ پہلی سطح پر جینے والوں کو ابدی طور پر ایک جانور بنا کر جہنم کے پنجرے میں قید کر دیا جائے گا۔ہم میں سے ہر شخص کو جلد یا بدیر اسی انجام تک پہنچنا ہے ۔لیکن ہمارا انجام ہمارے اس رویے پر منحصر ہے جو ہم آج اختیار کرتے ہیں ۔

آسٹریلیا کاٹریفک اورقانون و تربیت

چڑ یا گھر سے فارغ ہوکر ہم روانہ ہوئے ۔ پہلے شہر پہنچ کر ایک جگہ لنچ کیا۔ پھرآصف صاحب اور شاہد کو چھوڑ تے ہوئے ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہوئے ۔ ہمیں دیر ہو چکی تھی۔اگر فلائٹ مس ہوجاتی تو بہت زحمت ہوتی۔ لیکن اللہ نے کرم کیا اورفلائٹ سے نصف گھنٹے قبل ہم پہنچ ہی گئے ۔ میں چیک ان کرنے والا آخری شخص تھا جس کے بعد کاؤنٹر بند ہو گیا۔

اس دیر کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ہم شہر سے باہر تھے ۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایڈیلیڈ میں گاڑ ی کی حد رفتار پچاس کلومیٹر تھی۔ا سکول وغیرہ کے پاس یا جہاں تعمیراتی کام ہو وہاں حد رفتار پچیس کلومیٹر ہوجاتی تھی۔یہ ممکن نہ تھا کہ حد رفتار توڑ کر گاڑ ی چلائی جاتی۔ آسٹریلیا کے قیام میں ہر جگہ میں نے ٹریفک کے ضوابط کی انتہائی سخت پابندی دیکھی۔لوگ عام طور پر قوانین کی پابندی کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے ان کے لیے کیمرے اور پولیس کی گاڑ یاں موجود ہوتی ہیں ۔

میں ہمیشہ یہ توجہ دلاتا ہوں کہ قوانین اور سزائیں ہمیشہ اقلیت کو کنٹرول کرنے کے لیے مقرر کی جاتی ہیں ۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اکثریت قانون ماننے کے لیے تیار نہ ہو وہاں تربیت سے اصلاح کی جاتی ہے ۔ مگر ہمارے ہاں ہر مسئلے کا حل قانون کا نفاذ سمجھا جاتا ہے ۔ مگر اس طرح قانون سے اصلاح نہیں ہوتی، البتہ رشوت کے ریٹ بڑ ھ جاتے ہیں ۔

ائیرپورٹ پر عامر میرے ساتھ آخری مرحلے تک گئے جہاں مسافر جہاز میں بیٹھنے کا انتظار کرتے ہیں ۔ جب میں ویٹنگ لاؤنج سے جہاز میں بیٹھنے کے لیے نیچے اترنے لگا تب وہ رخصت ہوئے ۔ عامر بہت مخلص اور سادہ مزاج شخصیت تھے ۔وہ پچھلے تین دنوں سے ہمہ وقت میرے ساتھ رہے ۔ ان جیسے لوگوں کاکسی بھی دعوتی کام میں ہونا اللہ کی ایک نعمت ہے ۔ ان کی وجہ سے ایڈیلیڈ کا سفر ایک بڑ ی نعمت رہا۔انھوں نے مجھ سے اور میں نے ا ن سے بہت کچھ سیکھا۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 63 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سیرناتمام