بے روزگاری کا سنگین چیلنج

بے روزگاری کا سنگین چیلنج
بے روزگاری کا سنگین چیلنج

  

ابھی چند روز قبل سوشل میڈیا پر اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس کی ایک تصویر نظر سے گزری جسے دیکھ کر گمان ہوا کہ شائد لوگ کوئی میچ وغیرہ دیکھ رہے ہیں مگر بعد میں پتہ چلا کہ یہ کوئی سپورٹس سرگرمی نہیں  بلکہ اسلام آباد پولیس میں بطور کانسٹیبل بھرتی کے لیے نوجوانوں کا تحریری امتحان ہے ،جس میں ہزاروں نوجوان شریک ہیں۔انٹرنیٹ پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملک میں بڑھتی  بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی  ممالک میں اس وقت بے روزگاری ایک بہت بڑا مسئلہ ہے  جبکہ کووڈ۔19 کی حالیہ وبائی صورتحال نے روزگار کی فراہمی کو مزید مسائل سے دوچار کیا ہے اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمت کی تلاش میں بدستور مشکلات درپیش ہیں۔

دوسری جانب  ہمیں ماننا پڑے گا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا ایک بڑا سبب نوجوانوں کا  غیر ہنر مند ہونا بھی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں آج بھی روایتی تعلیم کو فنی تعلیم کی نسبت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور پیشہ ورانہ یا فنی تعلیم کبھی بھی پہلا انتخاب نہیں رہا  بلکہ یوں کہا جائے کہ فنی تعلیم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ معاشرے میں بعض طبقے پیشہ ورانہ تعلیم کو کمتر گردانتے ہیں، لہٰذا طلباء کو پیشہ ورانہ سکول بھیجنا اکثر خاندانوں کے لیے مایوسی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی بری بات نہیں کہ والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر ،انجینئر یا پھر اعلیٰ تعلیم کےحصول کے بعد زندگی میں کامیاب انسان دیکھنا چاہتے ہیں اور ہر فرد کی بھی یہ بنیادی خواہش ہوتی ہے کہ اسے بہترین روزگار ملے ،مگر اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ کوئی بھی پیشہ چھوٹا بڑا نہیں ہوتا بلکہ ہر پیشے کی قدر اور احترام لازم ہے۔ سماج میں ہر قسم کے ہنرمند افراد کی ضرورت رہتی ہے تاکہ نظام زندگی کو بہتر طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔یہی معاشرے کا حسن بھی ہے اور اسی سے توازن بھی برقرار رہتا ہے  ۔ یہ اس باعث بھی لازم ہے کہ ہنر مند افراد خودروزگار کی جانب جا سکتے ہیں اور معاشرے میں بہتر طور پر ایڈجسٹ ہونے کے لیے اُن کے پاس  مواقع بڑھ جاتے ہیں۔

روزگار کی فراہمی کا تذکرہ ہو تو  چین کا ذکر بھی لازم ہے کیونکہ چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ، لہٰذا یہاں روزگار کی فراہمی کسی چیلنج سے کم نہیں ، مگر کیا ایسی پالیسیاں ہیں جن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے چین ہر سال روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے اور  نوجوانوں کی صلاحیتوں سےبھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین نے گزشتہ سال ملک میں روزگار کے استحکام کو برقرار رکھا، شہری علاقوں میں 12.06 ملین ملازمتیں پیدا ہوئیں، جو  طے شدہ  11 ملین کے سالانہ ہدف سے زیادہ ہیں. کالج گریجویٹس کے لیے روزگار مجموعی طور پر مستحکم رہا ، اور 2021 کے مقابلے میں غربت سے نجات پانے والے افراد کو روزگار کے مزید مواقع فراہم کیے گئے۔ یہ کامیابیاں معاشی سست روی، وبائی صورتحال اور  پیچیدہ بیرونی ماحول کے پس منظر میں حاصل کی گئی ہیں۔اس ضمن میں فراہمی روزگار کی خاطر اقتصادی ترقی کی حمایت کی گئی، کاروباری اداروں کی مدد کی گئی، کاروباری اداروں کو مزید فروغ دیا گیا، تارکین وطن کارکنوں سمیت اہم گروہوں کے لیے معاون پالیسیاں ترتیب دی گئیں اور روزگار کے متلاشیوں کے لئے تربیت اور خدمات کو مضبوط بنایا گیا. 

سال 2023 میں بھی چین کی کوشش ہے کہ" ایمپلائمنٹ فرسٹ پالیسی" کو مضبوط کیا جائے اور مالی اور مالیاتی میدانوں میں روزگار کو فروغ دینے کے لئے کوششوں میں تیزی لائی جائے۔اس خاطر سروس سیکٹر، مائیکرو اور سمال انٹرپرائزز اور سیلف ایمپلائمنٹ والے افراد کو مزید مدد فراہم کی جائے گی جن میں روزگار کی بڑی گنجائش موجود ہے۔کاروباری سٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی اور غربت سے چھٹکارا حاصل کرنے والوں کی مدد کے لئے اقدامات تیز کیے جائیں گے ، جبکہ اہم گروہوں اور صنعتوں کے لئے بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرام چلائے جائیں گے۔ رواں سال چین میں نئے کالج گریجویٹس کی تعداد 11.58 ملین کی ایک نئی بلندی تک پہنچنے کی توقع ہے۔یہی وجہ ہے کہ روزگار کی تلاش کو  "ایک اعلیٰ ترجیح" کے طور پر لیتے ہوئے معاون اقدامات کیے جائیں گے۔اس چیلنج سے نمٹنے کی خاطر کاروباری اداروں میں فراہمی روزگار  کی حوصلہ افزائی کے لئے سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی۔سرکاری شعبے میں بھرتیوں کو مستحکم کرنے، خدمات اور تربیت میں اضافہ کرنے اور ملازمت کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنے والے گریجویٹس کو ذاتی امداد پیش کرنے کے لئے بھی کوششیں کی جائیں گی ۔

یہ  ادراک بھی لازم ہے کہ ملک میں وبا ءکے خلاف جاری جنگ کے باعث جاب مارکیٹ کو اضافی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہی حقائق کے پیش نظر، حکومت کی کوشش ہے کہ مؤثر اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں ۔ساتھ ہی، مجموعی روزگار کو ترجیح دینے اور جاب مارکیٹ کے ساختی مسائل کو دور کرنے کی کوششیں کی جائیں۔پاکستان کے تناظر میں چین سے سیکھتے ہوئے ملک میں مالیاتی، سرمایہ کاری، صنعتی اور دیگر پالیسیوں میں بہتری سے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں ، اسی طرح شہری اور دیہی علاقوں میں ای کامرس جیسے جدید منصوبوں سے بھی روزگار کے مسئلے کو نمایاں حد تک کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ کیریئر کی رہنمائی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے فروغ سے بھی ملازمتوں میں اضافے اور نوجوانوں کو خودروزگار کی جانب لے جانے میں مدد مل سکتی ہے۔

 ۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -