آئی ایم ایف ٹیکس، پٹرول قیمت اور ایف بی آر صنعتی شعبہ کو مزید سکیڑدینگے

آئی ایم ایف ٹیکس، پٹرول قیمت اور ایف بی آر صنعتی شعبہ کو مزید سکیڑدینگے

  



لاہور(پ ر) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے وفاقی بجٹ صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری کا عمل روک دیگا۔سرمایہ کار صنعت کو نظر انداز کر کے ٹریڈنگ، پراپرٹی اور کنسٹرکشن کے شعبوں کا رخ کرینگے جبکہ بہت سے اپنا سرمایہ دیگر ممالک منتقل کر دینگے جس سے روپے دباؤ کا شکار ہو جائیگا۔موجودہ حالات میں تجارت صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری سے زیادہ محفوظ اور با رآور بنتی جا رہی ہے جبکہ بجٹ میں اس منفی رجحان کو بدلنے کی معمولی کوشش بھی نہیں کی گئی ۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ بجٹ ٹیکس کادائرہ پھیلانے سے زیادہ ٹیکس گزاروں سے مزید وصولی کے فیصلے کا ثبوت ہے جس سے کاروباری اخراجات مزید بڑھینگے جبکہ برامدکنندگان کے اربوں روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی کیلئے کسی اہم حکومتی شخصیت نے ایک لفظ تک نہیں کیا جس سے بددلی میں اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف ٹیکس (جی آئی ڈی سی) اور پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ صنعتی شعبہ کو مزید سکیڑ دیگی جبکہ ٹیکس چوری میں اضافہ ہو گا۔ حکومت نے خیبر پختونخواہ کیلئے پیکج کا اعلان کیا ہے مگر وہاں جانے کی ہمت کوئی نہیں کرے گا۔بینک اسی طرح حکومت کو شوق سے قرضے دینگے جبکہ نجی شعبہ کو نظر انداز کرتے رہینگے۔وزارت خزانہ نے جس طرح بے روزگاری میں کمی کا بے بنیاد دعویٰ کیا ہے اسی طرح ایک سال میں ڈھائی لاکھ نئی نوکریوں فراہم کرنے کے دعوے میں بھی کوئی حقیقت نہیں۔

روزگار اسی صورت میں بڑھے گا جب شرح نمو کم از کم سات فیصد ہو جسکا اشرافیہ پروری کی پالیسی کی وجہ سے آئندہ دو سال میں کوئی امکان نہیں۔

مزید : کامرس


loading...