جنات کا غلام۔۔۔چوتھی قسط

جنات کا غلام۔۔۔چوتھی قسط
جنات کا غلام۔۔۔چوتھی قسط

  

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

تیسری قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

”مارا گیا“ میں پریشان ہو گیا۔ شہر جانے میں گھنٹہ لگ جاتا تھا۔ میں نے گھڑی دیکھی تو پورے سات بجے تھے۔ میں نے سوچا اگر سوا سات بجے والی ریل گاڑی پکڑ لوں تو دس پندرہ منٹ میں سیالکوٹ پہنچا جا سکتا تھا۔ میں جتنی جلدی تیار ہو رہا تھا دماغ اس سے بھی تیزی سے سوچ رہا تھا کہ جلد از جلد کیسے پہنچا جائے۔ موٹر سائیکل پر جاتا تو آدھ پون گھنٹہ تب بھی لگ سکتا تھا بس اور ویگن پر جانے کا مطلب تھا ایک گھنٹہ ضائع۔ لہٰذا میں نے ریل گاڑی پکڑنے کا سوچا اور بھائی سے کہا کہ مجھے اگوکی ریلوے سٹیشن تک چھوڑ آئے۔ جب ہم اسٹیشن پر پہنچے ریل گاڑی اسٹیشن چھوڑ رہی تھی۔ بھائی چلتی گاڑی کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل دوڑانے لگا۔ صبح کی گاڑی تھی خوب رش تھا‘ اس کی چھتوں اور پائیدانوں پر بھی مسافر بیٹھے اور لٹکے ہوئے تھے۔ بھائی کہنے لگا ”رش بہت ہے۔ جگہ نہیں ملے گی۔ میں اسی رفتار سے موٹر سائیکل تیزی کے ساتھ ساتھ دوڑاتا ہوں‘ ہم یونہی سیالکوٹ پہنچ جائیں گے“ پٹری کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل چلانا خطرناک کام تھا۔ میں نے منع کیا اور اسے کہا کہ وہ موٹر سائیکل ذرا آہستہ کرے میں چلتی گاڑی پر سوار ہو جاتا ہوں۔ اس وقت گارڈ کا ڈبہ میرے سامنے تھا‘ اس کے پیچھے ایک مال ڈبہ تھا جس میں غالباً جانور بھرے ہوئے تھے‘ اس کے پیچھے آخری ڈبہ زنانہ تھا۔ بھائی بضد ہوا ”یار میں تمہیں چلتی گاڑی پر سوار نہیں ہونے دوں گا“ بھائی کا خوف بجا تھا۔ گاڑی تیز ہو رہی تھی اور کسی بھی ڈبے کے ہینڈل کو پکڑ کر پائیدان پر پاﺅں رکھنے کی بھی گنجائش نہیں تھی۔ مگر مجھے دیر ہو جانے کے خوف نے بہادر بنا دیا تھا۔

میں نے زبردستی بھائی سے موٹر سائیکل رکوائی اور پھر چلتی گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑنے لگا۔ گارڈ نے دیکھا کہ میں سوار ہونا چاہتا ہوں تو وہ اونچی آواز میں چلایا۔

”اوئے انسان بن.... سوار نہ ہونا گر جائے گا“

مگر میں نے اس کی سنی ان سنی کر دی۔ گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑتا چلتی گاڑی پر سوار ہونے کی کوشش کرتا رہا۔مجھے قدرے پریکٹس بھی تھی۔ اسٹوڈنٹس تو عموماً سوار ہی چلتی گاڑی پر ہوتے تھے لہٰذا مجھے یہ یقین تھا کہ میں چلتی گاڑی پر سوار ہو جاﺅں گا۔ مگر میرے لئے اس وقت مسئلہ یہ تھا کہ گارڈ کے پیچھے جانوروں کی بوگی تھی اور اس کے پیچھے زنانہ ڈبہ جس کا درازہ بند تھا۔ میں نے اللہ کا نام لیا اور جانوروں کی بوگی پر سوار ہونے کے لئے اس کا ہینڈل تھام لیا۔ میں نے محسوس کیا کہ پوری گاڑی میں سوار مسافر پلٹ کر مجھے دیکھ رہے تھے کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ نوجوان کیوں سوار ہونا چاہتا ہے۔

ہینڈل پکڑتے ہی میں پائیدان پر پاﺅں رکھنے کے لئے اچھلا تو بدقسمتی سے یہ نہ دیکھ سکا کہ پائیدان ٹوٹا ہوا ہے۔ جونہی میرے پاﺅں پٹری سے اٹھے اور پائیدان پر رکھنے لگا تو پائیدان دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے میرے پاﺅں سیدھے گاڑی کے نیچے پہیوں سے ٹکرائے۔ میرے بھائی کی چیخ نکل گئی‘ گاڑی کے شور میں بھی مسافروں کی سسکیاں سنائی دیں‘ میرا انجام ان کی نظروں میں گھوم گیا۔ میں ہینڈل کے ساتھ لٹک گیا تھا خدا کا شکر تھا کہ پاﺅں پہیوں کے نیچے نہیں آگے مگر پٹری پر پتھروں سے ٹکرانے کے بعد میں گاڑی کے ساتھ ساتھ گھسیٹا جانے لگا تھا۔ اب اگر میں ہینڈل چھوڑ دیتا تو گاڑی کے نیچے آ سکتا تھا مگر دوسری طرف میں زیادہ دیر تک لٹکا بھی نہیں رہ سکتا تھا۔ میرے بچاﺅ کی دو ہی صورتیں تھیں یا تو گاڑی فوراً رک جاتی یا دوسرے پائیدان پر پاﺅں رکھنے میں کامیاب ہو جاتا۔ اضطراری حالت میں‘ میں پاﺅں پٹری سے اٹھانے کی کوشش تو کر رہا تھا مگر میرے گھٹنے اور پنڈلیاں بری طرح چھل چکی تھیں اور گاڑی جب تک رکتی میرا کام تمام ہو چکا ہوتا۔

مجھے یاد ہے میں نے اونچی آواز میں اپنے پیارے اللہ کو پکارا تھا ”یا اللہ مدد“ میرے ہاتھوں کی گرفت کمزور ہو رہی تھی اور کچھ ہی لمحے بعد میں گر جاتا کہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ کوئی نادیدہ طاقت میرے اندر سرایت کر گئی ہے اورپھر میرے کمزور بازوﺅں میں اتنی طاقت عود آئی کہ میں نے اپنے لٹکے ہوئے وجود کو سکیڑ لیا اور بڑے آرام سے پائیدان پر پاﺅں رکھنے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر میں جونہی بوگی میں داخل ہوا جانور مجھے دیکھ کر بدک گئے اور خوف سے چلانے لگے۔ میں پسینے میں شرابور ہو چکا تھا۔ پنڈلیاں اور ایڑھیاں گھائل تھیں مگر اس سمے مجھے کسی قسم کی تکلیف کا احساس نہیں ہوا۔ جانوروں کی بوگی میں ایک بیل اور تین بکریاں اور ایک کتا اپنی اپنی زنجیروں سے بندھے ہوئے تھے۔ جانوروں نے خوفزدگی کے مارے پوری بوگی میں اچھل کود شروع کر دی تھی۔ کتا تو خوف سے مجھ پر بھونک رہا تھا مگر چند ہی ساعتوں کے بعد سارے جانور مطمئن ہو گئے۔ میں اس وقت تو نہ سمجھ سکا کہ یہ کیوں پریشان تھے۔ مگر کچھ ہی دیر بعد مجھے غازی کی ایک بات یاد آ گئی۔ اس نے کہا تھا کہ بعض جانور جنات کے وجود کا احساس ہوتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ تو کیا اس سمے غازی یا کوئی اور جن میرے ساتھ بوگی میں موجود تھا جس کا احساس ان جانوروں نے دلایا تھا‘ لیکن شاید اب وہ چلا گیا تھا کیونکہ جانور اب شانت ہو چکے تھے۔

گارڈ نے ویکیوم کھینچ کر گاڑی نہیں روکی تھی۔ اگر وہ گاڑی روک لیتا تو مجھے پکڑ کر یقیناً پولیس کے حوالے کر دیتا۔ میرے ذہن میں آیا کہ اسٹیشن پر گاڑی رکتے ہی وہ مجھے پکڑنے کی کوشش کرے گا لہٰذا میں نے سوچا کہ اگر ایک کام غلط کیا ہے تو دوسری بار غلط کام کرکے ہی بچ سکوں گا۔ لیکن دوسری بار مجھے غلط کام کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔

ریل گاڑی سیالکوٹ اسٹیشن سے پہلے سبزی منڈی کے پھاٹک سے پیچھے رک گئی۔ غالباً سگنل ڈاﺅن نہیں ہوا تھا۔ یا کسی سبزی منڈی میں اترنے والے نے ویکیوم کھینچ کر گاڑی روک لی تھی۔ علامہ اقبال کالج سبزی منڈی کے سامنے تھا لہٰذا گاڑی رکھتے ہی میں تیزی سے باہر نکلا اس دوران دیکھا گارڈ میری طرف آ رہا تھا۔

”اوئے ادھر آﺅ“ اس نے جھنڈی کا ڈنڈا میری طرف کرتے ہوئے اشارہ کیا۔ میں نے اس کی سنی ان سنی کی اور بھاگ کر سبزی منڈی میں داخل ہو گیا۔ گارڈ میرے پیچھے نہیں آیا تھا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کالج کی طرف چل دیا۔

سبزی منڈی میں جابجا فروٹ اور سبزیوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور آڑھتی ان کی بولیاں لگانے میں مصروف تھے۔ گلے سڑے پھلوں کے ڈھیر بھی ہر طرف بکھرے ہوئے تھے ۔ ان سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ مگر آڑھتی اور خریدار اس گندگی سے بے نیاز تھے۔ میں ناک پر ہاتھ رکھے منڈی سے باہر نکلنے لگا تو یکدم میرے عقب سے ایک آدمی کے چلانے کی آواز آئی۔ دیکھا تو ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ پھلوں کے ایک ڈھیر کے پاس مجذوب بچہ کھڑا تھا۔ اس نے کیلوں کا ایک بڑا گچھا اٹھایا ہوا تھا اور آڑھتی اس سے وہ گچھا چھیننے کی کوشش کر رہا تھا۔

”اوئے چور کے پتر سرعام چوری کرتا ہے“ آڑھتی نے بچے سے جو تقریباً دس سال کا ہو گا اس کے منہ پر تھپڑ مار کر کیلوں کا گچھا چھین لیا۔ اسی لمحہ بچے نے منہ بسورتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں ویران تھیں‘ چہرہ صدیوں کی میل سے بھرا ہوا تھا‘ کپڑے پھٹے ہوئے تھے‘ پاﺅں اور ہاتھوں کے ناخنوں میں سیاہ مٹی بھری تھی۔ میرے دل میں اس کے لئے رحم بھر آیا۔ میں نے سوچا کہ شاہد تمہیں آج خدا نے دوسری زندگی دی ہے اور پھر تم امتحان دینے جا رہے ہو‘ چلو سخاوت کرتے جاﺅ۔ اپنا صدقہ خیرات کرکے امتحان میں بیٹھو گے تو ممکن ہے اللہ کو تمہاری یہ ادا پسند آ جائے۔ یہ سوچ کر میں آڑھتی کے پاس پہنچا وہ بچے کو دوبارہ تھپڑ مارنے ہی والا تھا کہ میرے تیور دیکھ کر رک گیا ”یہ چور کا پتر....“

”بس بس .... رہنے دو تمہارے چار کیلے اس نے اٹھا لئے ہیں تو کون سی قیامت آ گئی ہے“ میں نے کہا ”کتنے پیسے ہیں ان کے“

”جناب یہ چار نہیں پورے پانچ درجن کیلوں کا گچھا ہے۔ اس نے میری ڈنڈی خراب کر دی ہے۔ دو تین کیلے تو اب اتار کر نہیں دے سکتا۔ پانچ درجن کیلوں کی قیمت دیں مجھے“ آڑھتی بہت ہی نادیدہ قسم کا شخص تھا۔

”تم لوگوں کو خدا کا خوف نہیں۔ مال بے شک گل سڑ جائے مگر کسی غریب کو نہیں دینا۔ کتنے پیسے ہیں اس کے“ میں نے پرس نکالا۔

”100 روپے“ وہ بولا۔

”سو روپے .... 20 روپے درجن۔ پندرہ روپے درجن میں تو باہر سے مل جاتے ہیں ادھر منڈی میں تو دس روپے درجن ہونے چاہئیں“ میں نے تیوری چڑھا کر کہا

”پانچ درجن لو گے تو یہی قیمت ہے زیادہ مال کی قیمت کم ہوتی ہے“ آڑھتی کاروباری انداز میں بولا”اچھا تم اس میں سے ایک درجن کیلے نکال دو۔ تمہیں کیا فرق پڑے گا“ میں نے اس دوران گھڑی دیکھی تو آٹھ بجنے میں صرف پانچ منٹ باقی رہ گئے تھے۔ میں جلدی سے بولا ”دیکھو میرے پاس صرف سو روپیہ ہے اور ابھی مجھے واپس گاﺅںبھی جانا ہے۔ یہ پچاس روپے لو اور اس میں جتنے کیلے آتے ہیں دے دو“ اس نے جھٹ سے پچاس روپے پکڑے۔ اس لمحہ بچے نے آڑھتی کے ہاتھوں سے گچھا چھین لیا اور بولا ”میں سارے کھاﺅں گا“

میں نیکی کرکے واپس مڑنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے بچے نے چھ سات کیلے مٹھی میں پکڑے اور چھلکے اتارے بغیر منہ میں ڈال لئے

”ارے .... یہ کیا کر رہے ہو .... چھیل تو لو“ میں یہ کہتا ہی رہ گیا اور بچہ سات کیلوں کا ایک لقمہ بنا کر کھا گیا اور دوسرا لقمہ لینے کے لئے چھ سات کیلے مزید منہ میں ڈال لئے۔ میں پہلے تو حیران ہوا۔ پھر سوچا کہ مجذوب بچہ ہے اسے کھانے پینے کے آداب کیا آئے ہوں گے۔

میں واپس پلٹا تو آڑھتی یکدم چلانے لگا ”حرام خور اب دفع ہو جا۔ اب کون تیرے پیسے دے گا“ میں نے پلٹ کر دیکھا بچہ کیلوں کا خالی ڈنڈا پرے پھینک رہا تھا اور ایک دوسرے گچھے کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”صاحب جی“ آڑھتی نے مجھے پکارا۔

”اور پیسے دیتے ہیں تو یہ گچھا بھی اسے دے دوں ۔ یہ جن کا بچہ پانچ درجن کیلے کھا گیا ہے اور کیلے کھانا چاہتا ہے“ اس کی آواز سنتے ہی میرا ذہن گھوم گیا اور میں میکانکی انداز میں واپس آیا۔ ایک خیال بجلی کی طرح میرے ذہن میں کوندا اور میرے منہ سے بے اختیار نکلا

”غازی“

مجذوب بچہ گڑبڑا گیا اور خالی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔

”غازی .... باز آ جا“ میں نے مجذوب بچے کی طرف دیکھ کر کہا تو اب کی بار اس کی خالی نظروں میں شرارتوں کے قندیل روشن ہو گئے۔ مجھے بابا جی سرکار کی بات یاد آ گئی ”شاہد اسے زیادہ پیسے نہ دیا کرو۔ یہ تمہیں برباد کر دے گا“ میں بھی دھیرے سے مسکرا دیا۔ مجذوب بچے کے روپ میں غازی کھڑا تھا اور ندیدوں کی طرح کیلے کھانے کے لئے مچل رہا تھا۔

میں نے منہ اس کے کان کے قریب کیا۔

”غازی یار .... میں جانتا ہوں تو یہ ساری سبزی منڈی بھی ہڑپ کر جائے تو تیری ایک آنت بھی نہیں بھرے گی۔ مگر یار .... میرے پاس اب پچاس روپے بچے ہیں۔ میں نے کل بھی پرچہ دینے آنا ہے۔ ویسے بھی تیری اس حرکت سے یہاں تھرتھلی مچ جائے گی۔ شرافت سے واپس چلا جاتا .... ورنہ باباجی کو خبر ہو گئی تو تیرے ساتھ مجھے بھی چھترول ہو گی“

”بھیا تمہاری جان روپے پیسوں سے مہنگی ہے‘ تو پچاس روپے صدقہ دے کر خوش ہو رہا تھا“ غازی منمناتے ہوئے بولا ”خیر اب تم پر قرض ہے۔ اگر میں وقت پر نہ آتا تو ریل کی پٹری پر تمہارے اتنے ٹکڑے نظر آتے جتنے یہاں کیلے پڑے ہیں“

”اوہ .... شکریہ غازی .... میں جان گیا تھا کہ اس کرامت میں تمہارا ہاتھ ہو گا“ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا ”آڑھتی پریشان ہو رہا ہے تمہاری بے احتیاطی سے یہاں دہائی مچ جائے گی“

میں نے غازی کو سمجھایا۔ آڑھتی کو ہماری باتیں سنائی نہیں دیں۔ غازی نے کیلوں کا گچھا واپس رکھ دیا اور بولا ”اچھا اب تم جاﺅ بھیا اور پیپر دے آﺅ.... ہاں یاد آیا سورہ یٰسین پڑھنا نہ بھولنا“

میں نے جیپ کو ٹٹولا تو سورة یٰسین چھوٹی سی کتابی صورت میں میرے پاس تھی۔ میں نے غازی کو ادھر ہی چھوڑا اور امتحانی سنٹر میں پہنچتے ہی جلدی سے غسل خانے میں گیا اور ہاتھ پاﺅں صاف کرکے وضو کیا اور پھر امتحانی کمرے میں پہنچ گیا۔ نگران نے رول نمبر سلپ دیکھنے کے بعد مجھے میز اور کرسی پر بٹھا دیا۔ میں نے کرسی پر بیٹھتے ہی سب سے پہلے سورة یٰسین جیب سے نکالی اور پڑھنے لگا۔

اس دوران شیٹس تقسیم کرنے والا میرے پاس آیا اور مجھے شیٹ پکڑانے کے بعد کہنے لگا ”اچھی بات ہے‘ برکت ہو گی پڑھ لو۔ ابھی پرچہ تقسیم ہونے والا ہے“ میں سورة یٰسین پڑھنے میں اس قدر مستغرق ہو گیا کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب ایک نگران سوالنامہ لے کر میرے پاس آیا۔ اس نے مجھے متوجہ کرکے سوالنامہ دیا اور بولا ”مولانا اب پرچے کی فکر کرو“ میں نے اس سے سوالنامہ لے لیا اور دوبارہ سورہ یٰسین پڑھنے لگ گیا۔ میں نے جب تک تین بار مکمل سورة نہیں پڑھ لی پرچے پر نظر نہیں ڈالی۔ اس دوران آدھ گھنٹہ تو گذر ہی گیا ہو گا۔ نگران اور پھر سپرنٹنڈنٹ تک اب پریشان ہو رہے تھے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ اس قدر بے فکری کے ساتھ سورة یٰسین پڑھنے میں مصروف ہوں اور پرچے کی کوئی فکر ہی نہیں کر رہا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھ میں سوالنامہ پر نظریں دوڑانے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔ کوئی قوت تھی یا کوئی اور خیال جو مجھے کہہ رہی تھی گھبراﺅ نہیں۔ پڑھتے جاﺅ۔ تمہارا پرچہ انشاءاللہ ٹھیک ہو گا“ مگر اس خیال کے سہارے میں زیادہ دیر تک وہاں بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا۔ مجھے پرچہ حل کرنا ہی تھا۔ کب تک حقائق سے نظریں چراتا۔ آخر میں نے جرات کرکے سورة یٰسین جیب میں ڈالی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ”یا اللہ اس گناہ گار کی عزت رکھ لینا۔ اس پرچے میں مجھے پاس کر دینا“ میں نے بالاخر سوالنامہ پر نظر دوڑائی پہلا ہی سوال پڑھتے ہوئے میرا دل خوشیوں سے بھر گیا۔ اس قدر آسان سوال .... پھر سارے سوالنامے میں سے میں نے پانچ سوال منتخب کرکے گھڑی پر نظر دوڑائی تو معلوم ہواکہ پرچہ شروع ہوئے تقریباً چالیس منٹ گزر چکے ہیں۔ میں نے اللہ کا نام لیا اور پھر لکھنا شروع کیا تو ایسے لگا جیسے میرے قلم کو پر لگ گئے ہیں یا اس میں کوئی مشین فٹ ہو گئی ہے۔ اس قدر تیز رفتاری سے لکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو میں نے بی اے میں انگریزی کے پرچہ الف میں رفتار پکڑی تھی۔ پرچہ ختم ہونے میں ابھی دس منٹ باقی تھے جب میں سارے سوال حل کرکے فارغ ہو چکا تھا اور پہلا امیدوار تھا جو فارغ ہو کر سنٹر سے باہر نکلا تھا۔ جونہی میں سنٹر سے نکل کر سبزی منڈی کے سٹاپ پر پہنچا تو نظریں بے اختیاری سے اسی آڑھتی کو ڈھونڈنے لگیں۔ میں اس کے ڈھیر کی طرف گیا تو وہاں ایک عجیب منظر میرا منتظر تھا۔ جابجا کیلوں کے خالی ڈنٹھل بکھرے پڑے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ غازی اپنا کام دکھاگیا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ منڈی میں قدرے ویرانی ہے اور لوگ خوفزدہ نظر آ رہے ہیں۔ میں نے ایک آڑھتی سے صبح والے آڑھتی کا پوچھا تو وہ بے ساختہ بولا ”نور بخش کا پوچھ رہے ہو۔ وہ جس کے کیلے جن کا بچہ کھا گیا ہے“

”مجھے کیا معلوم“ میں گھبرا کر بولا۔ میں اسے کیا کہتا کہ ہاں وہی بچہ۔ یہ تو بلاوجہ شک میں مبتلا کرنے والی بات تھی۔ ”اگر تو آپ اس کا پوچھ رہے ہیں تو وہ ادھر بابا تیلے شاہ کی جھگی میں بے ہوش پڑا ہے صبح سے۔ اس پر جن آ گیا تھا۔ صبح ایک مجذوب بچہ اس کا سارا مال کھا گیا اور پھر نور بخش پر غشی کا دورہ پڑ گیا۔ مارکیٹ کے لوگ اسے بابا تیلے شاہ کے پاس لے گئے ہیں کہ جی اس کا جن اتار دیں میں تو جی ادھر نہیں جا سکا۔ سنا ہے کہ بابا تیلے شاہ نے اس کے جن کو پکڑ لیا ہے۔“

”کک .... کیا“ میں پریشان ہو کر اس کا منہ دیکھنے لگا اور سوچنے لگا کہ کیا غازی پکڑا گیا ہے۔ اگر بابا تیلے شاہ نے واقعی اس کو پکڑ لیا ہے تو وہ اسے مار ڈالے گا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ وہ جلالی قسم کا ملنگ ٹائپ پیر تھا وہ جب جلال میں آتا تھا تو کسی کا لحاظ نہیں کرتا تھا۔

”یا اللہ میرے غازی کو بچا لے“ میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا اور پھر سوچنے لگا کہ اپنے غازی کی مدد کیسے کر سکتا ہوں۔(جاری ہے)

”یا اللہ میرے غازی کو بچا لے“ میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا اور پھر سوچنے لگا کہ اپنے غازی کی مدد کیسے کر سکتا ہوں۔

مزید : کتابیں /جنات کا غلام