اجات کے بغیر کوئی دھرنا نہیں دے سکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ، 27کی بجائے 31اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے مولانا فضل الرحمان، جے ہو آئی نے مارچ کیلئے اجازت طلب کر لی، اسلام آباد میں آنا خودکشی ہو گی: وزیر داخلہ

اجات کے بغیر کوئی دھرنا نہیں دے سکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ، 27کی بجائے ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اجازت کے بغیر کوئی دھرنا نہیں دے سکتا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے حکومت مخالف لانگ مارچ اور دھرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ ہائیکورٹ نے پوچھا کہ کیا دھرنے والوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے دھرنے کی اجازت لی ہے؟۔درخواست گزار حافظ احتشام نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبرکو لانگ مارچ کااعلان کیا ہے جس کی اجازت نہیں لی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈیموکریسی پارک کو دھرنوں کے لیے مختص کیا تھا اور سپریم کورٹ نے بھی فیض آباد دھرنا کیس میں واضح ہدایات جاری کی ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی مارچ کے وقت بھی ڈپٹی کمشنر کو اس وقت بھی ہم نے پابند کیاتھا کہ دھرنے والے اجازت لیں ورنہ نہیں کرسکتے، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کام ہے کہ وہ دھرنے کوریگولیٹ کرے، آپ کی درخواست قبل از وقت ہے کیونکہ انہوں نے ابھی اجازت ہی نہیں مانگی نہ خلاف ورزی کی، قانون پرعمل درآمد کرانا اسلام آباد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، ابھی کچھ بھی نہیں ہوا اور اجازت کے بغیر کوئی دھرنا نہیں دے سکتا، احتجاج بنیادی حق ہے لیکن اس سے شہریوں کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔عدالت نے درخواست گزار کو وکیل کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ دوسری طرف جے یو آئی نے اسلام آباد میں آزادی مارچ کیلئے وفاقی دارلحکومت کی انتظامیہ سے اجازے طلب کر لی ہے یہ درخواست مولانا عبدالغفور حیدری کی طرف سے دی گئی ہے، دریں اثنا جے یو آئی نے گزشتہ دنوں پارٹی کے جعلی ہدایت نامے کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر سائبر کرائم سے رجوع کرلیا۔بدھ کو مولانا عبدالغفور حیدری کیجانب  پراجیکٹ ڈائریکٹر سائبر کرائم کو درخواست جمع کروا دی گئی،درخواست سینئر ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے توسط سے تیار کی گئی،درخواست 3 صفحات پر مشتمل ہے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی مارچ 27 کو نہیں بلکہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا۔اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ 27 کو نہیں 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا،۔ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر سے قافلے ستائیس اکتوبر کو روانہ ہونگے۔ سب ایک ساتھ اکتیس اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونگے۔ 27 اکتوبر کے جلوس کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے نکالے جائیں گے۔ 27 کے بعد تمام جلوس 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔ادھر جے یو آئی (ف) نے ا?زادی مارچ سے متعلق پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد آزادی مارچ میں شامل نہیں ہوں گے۔ عبدالغفور حیدری کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ قوم کو سلیکٹڈ حکومت سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ دھرنا کتنے روز کا ہوگا؟ یہ ابھی بتانا قبل از وقت ہوگا۔ اگر ملک میں آئین بحال اور جمہوریت ہے تو ہم اپنا جمہوری حق استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کارکن 27 اکتوبر کو گھروں سے نکلیں اور کشمیریوں سے یکجہتی کریں اور اسلام آباد کی طرف آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی چوک پر دھرنے کا انتخاب کیا ہے، وہاں سب انتظامات مکمل ہیں۔ ہمارے کارکنوں کو ریاستی ادارے تنگ کر رہے ہیں، خوف زدہ کیا جا رہا ہے۔

تاریخ تبدیل

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے ایک بار پھر  اپنی توپوں رخ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف موڑ دیا۔جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے جس کے بعد سے ہی سیاسی ماحول میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد آنا خود کشی ہوگی، وہ یہاں نہیں آئیں گے اور پوری امید ہے دھرنا نہیں دیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مولانا صاحب مدارس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی بلکہ انہیں بہتر بنایا جا رہا ہے، پولیس ریفارمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس میں بھرتیاں کی جائیں گی جس کے دوران 1260 افسران محکمے کا حصہ بنیں گے۔بڑھتی مہنگائی کے سوال پر وزیرداخلہ نے کہا کہ یہ سوال ان سے پوچھیں جنہوں نے پچھلے 70 سال ملک پر حکمرانی کی۔ آزادی مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کی تاریخ بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر قبضے کی تاریخ ہے، مولانا فضل الرحمن اسلام آباد دھرنے میں نہیں آئیں گے، آئے تو یہ خودکشی ہو گی۔

وزیر داخلہ

مزید :

صفحہ اول -