اُمتِ مسلمہ اور چینی دانشور سن تزو

اُمتِ مسلمہ اور چینی دانشور سن تزو
اُمتِ مسلمہ اور چینی دانشور سن تزو

  


5 اگست کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے مابین صورتِ حال یکسر بدل گئی ہے۔ ابھی کل ہی ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں مولانا زاہد الراشدی صاحب نے کیا بصیرت افروز خطاب کیا۔ میں اپنی زبان میں ان کی ترجمانی کرنا چاہوں تو وہی میرا اپنا ہم سب کا پرانا دعویٰ ہے، مدتوں سے لکھ رہا ہوں۔ ترقی پذیر ممالک میں مہرے حکومتیں کرتے ہیں۔ مہرے بھی بساط پر درجہ بدرجہ موجود ہوتے ہیں،کہیں پیادہ تو کہیں فرزیں،رہاشاطر تو وہ کوئی اور ہوتا ہے۔ وہ شاطربحراوقیانوس کے دو طرفہ پانیوں کے کناروں پر دو راکھشش ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم یہی کہتے کہتے اللہ کو پیارے ہو گئے کہ وہ شاطر عالمی صہیونی دماغ ہے جو دنیا کے ہر خطے کو اپنے پنجہ استبداد میں لئے ہوئے ہے۔ ایک تیسرا نقطہ نظر کوئی سو سال کے لگ بھگ پرانا ہے اور ہر آنے والا دن اس کی معنویت کو خوب سے خوب تر کئے جا رہا ہے۔ علامہ اقبال اسے نظام سرمایہ داری سے معنون کرتے ہیں۔ نظام سرمایہ داری کی علامت کو وہ عام فہم کرتے ہوئے اس کا مقتدراعلیٰ ابلیس کو قرار دیتے ہیں۔ یہ تمام نقطہ ہائے نظر ذرا ذرا سے جزوی اضافوں کے ساتھ ایک ہی بات کہے جا رہے ہیں۔ وہی بات جو مولانا راشدی نے بلیغ الفاظ میں کر دی: ”آج دنیا میں حکومت،حکومتیں نہیں کر رہیں، حکومت کرنے والا کوئی اور ہے۔“ مولانا زاہد الراشدی کے اس ایک جملے کے اندر، اس ایک کوزے کے اندر دریا موجزن ہے۔

ہندوستان دنیا کا اتنا قدیم جمہوری اور جمہوری روایات کا اسیر ملک کب سے اور کیسے قرار پایا کہ ایک چائے بیچنے والے کو اس نے ملک کا مقتدروزیراعظم بنا ڈالا؟ یہ ضرور ہے کہ ہندوستانی اشرافیہ یعنی وہاں کی فوج اور سرمایہ دار قوتیں ہمارے برعکس خود سامنے آ کر کبھی سیاست نہیں کرتیں۔ انہیں ایک مہرہ درکار رہتا ہے جو کبھی نہرو، کبھی نہرو خاندان، کبھی مرارجی ڈیسائی، کبھی دیوی گوڑا تو کبھی من موہن سنگھ کی صورت میں سیاسی میلے منڈی سے انہیں حاصل ہو جا تا ہے۔ ان مہروں کو بساط پر آگے پیچھے کرنے والے وہاں کے کبھی ٹاٹا، کبھی برلا، کبھی امبانی اور کبھی سائرس مستری ہوا کرتے ہیں۔اس سے آگے عالمی صہیونی دماغ ہے جو دنیا کے ہر خطے کو اپنے پنجہ استبداد میں لئے ہوئے ہے۔ ان مہروں میں تازہ ترین اضافہ مودی ہے، جسے چلانے والی قوتیں وہی ہیں جو ملک ہندوستان میں بہتر سال سے حکمران ہیں۔ یہ سرمایہ دار دیکھنے میں مقامی ہوتے ہیں، ورنہ ان سب کے کاروبار بلاتخصیص سرحد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک میں ٹاٹا، برلا، امبانی اور سائرس مستری نا می مقامی مہرے حکومتیں کرتے ہیں۔ان کاروباری حلقہ ہائے زنجیر میں سے دیگر کو نظرانداز کرتے ہوئے ابھی حالیہ خبر کے متن پر نظر ڈالیں۔بتایا گیا ہے کہ تجارتی دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری سعودی تیل کمپنی آرامکو نے ہندوستانی سرمایہ دار مکیش امبانی کی کمپنی میں کی ہے۔ آرامکو وہ کمپنی ہے جس پر دیگر سعودی سرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ شاہ سعود کے خاندان کے افراد اور شہزادے شریک ہیں۔ انہی شہزادوں میں سے موجودہ ولی عہد محمد بن سلیمان کے کاروباری مراسم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کے ساتھ کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ کاروباری دنیا میں یہ عام سی بات ہے۔ اب زنجیر کے ان تینوں حلقوں پر نظر ڈالیں۔ بس ایک طائرانہ نظر! تیل کی آمدنی سعودی عرب سے، اس دولت پر کمپنیوں کی شکل میں وہاں کے سرمایہ دار قابض اوراس حلقے کا ایک کونا امریکی نظام سرمایہ کاری سے جا متصل ہوتا ہے تو دوسرا ہندوستان میں۔ ہمارے جذباتی مخلصین سعودی عرب میں سے امت مسلمہ کے لئے خمیرہ مروارید تلاش کر رہے ہیں۔ ماموں منہ میں کاموں! یہ میں نے صرف ایک مثال دی ہے۔ یہی حال دیگر خلیجی ریاستوں کا ہے۔

اب ایران کی طرف آئیے! کیا ایرانی جاسوسی ادارے اتنے نالائق ہیں کہ ایک ہندوستانی حاضر سروس جاسوس اور نیوی افسر کلبھوشن ایرانی سرزمین پر سالوں کا روبار کرتا رہا، وقفے وقفے سے وہ ایرانی سرحد پار کرتارہا اور ہمارے بلوچستان میں موجود اپنے علیحدگی پسند روابط میں رقوم اور معلومات تقسیم کرتارہا، انہیں ہدایات دیتارہا اور خراماں خراماں، ٹہلتا ٹھمکتا ایرانی سرحد عبور کرتا ہوا واپس ایران جا کر اپنا کاروبار سنبھال لیتارہا۔ وہی ایرانی سرحد جس پر عبدالمالک ریگی کی جنداللہ کے باعث ایرانی سرحدی محافظوں نے عقابی نظر رکھی ہوتی ہے۔ تو پھر حقیقت حال کیا ہے؟برہنہ حقیقت وہی سعودی کمپنی آرامکو والی ہے۔ تیل صاف کرنے کے ہندوستانی کارخانوں میں، یا یوں کہیے کہ زیادہ کارخانوں میں، صرف ایرانی خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت ہے۔

.

ان کارخانوں میں کسی دوسرے ملک کا تیل صاف کیا جائے تو بڑے پیمانے پر رد و بدل کرنا پڑتا ہے۔ تفصیل کے لئے اس فن کے ماہرین سے رابطہ کر لیں۔ عشروں سے امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل ہندوستان کو فروخت ہو رہا ہے اور امریکہ کو اسی طرح ”خبر ہی نہیں“ جیسے ایران کے پاس کلبھوشن کی کوئی ”معلومات نہیں تھی“۔ مزید ملاحظہ کرنا ہو توافغانستان کوہندوستانی برآمدات براستہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو ذہن میں ذرا تازہ کر لیں۔ پھر بھی آپ کے ذہن میں تشکیک کے بادل منڈلا رہے ہوں تو امریکی صدر اوباما کے آخری دنوں میں ایران اور امریکی کمپنی بوئنگ کے مابین دو سو۔۔۔میں دہرائے دیتا ہوں۔۔۔ ایک دو، دس بیس نہیں، مختلف ماڈل کے دو سو تجارتی بوئنگ طیاروں کا سودا یاد کر لیں۔ اور ساتھ میں یہ بھی یاد رکھ لیں کہ ایک طیارے کی مالیت اربوں روپوں میں ہوتی ہے۔ روپوں میں جمع تفریق خود کر لیں۔

ان حالات میں ایران سے امت مسلمہ کے کشتہ دو آتشہ کے درآمدکنندگان پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں موجود ایرانی روابط کے بھرپور دباؤ کے نتیجے میں، ایرانی پارلیمان نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم کے خلاف جو قرارداد منظور کی ہے، موجودہ حالات میں وہ ہمارے معمولی سے اطمینان کے لئے کافی ہے۔ یقینا اس کی ایک سیاسی اہمیت ہے۔ لیکن عملی میدان میں ایرانی حکومت نے کیا کیا؟ کون نہیں جانتا کہ پارلیمان کے الفاظ عوامی رائے کا اظہار تو ہوتے ہیں لیکن عمل کی کنجی حکومت کے پاس ہوا کرتی ہے۔ الفاظ کے ذریعے اپنے اسلامی جمہوریے میں تو دس ارب درخت اُگائے جا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو ایک کروڑ ملازمتیں مل چکی ہیں۔ چنانچہ ان دس ارب درختوں اور ایک کروڑ ملازمتوں پر خوش ہونے والوں کی طرح ایسی ہی ایک اور مخلوق بھی پاکستان میں موجود ہے جو اس قرار داد کو لہرا لہرا کر اسے امت مسلمہ کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ میں آپ کچھ نہیں کر سکتے۔

اب آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ ان بڑے بڑے دیوہیکل پہلوانوں کے سامنے پاکستانی معیشت کیا اور کتنی حیثیت رکھتی ہے۔ ممالک اور حکومتیں،مولانا زاہدالراشدی کے الفاظ میں، اگر بصورت و بشکل حکمران ہائے مسلم ممالک، یہ بڑے بڑے دیو ہیکل پہلوان چلا رہے ہیں جن کا آقا ابلیس ہے تو کیا ہم اللہ والے ابلیس اور ابلیس کے ان کارندوں کا مقابلہ نہ کریں؟ کیاہتھیار ڈال دیں؟ کیاکشمیری مسلمانوں کو کہہ دیں کہ بھائیو اور بہنو حکومتیں چلانے والے ان بڑے بڑے سرمایہ داروں کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو؟کوئی ہوش مند پاکستانی اور امت مسلمہ کا متلاشی اس طرح کے کلمات ناروا وضع کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تو کیاپھر امام مہدی یا غزوہ ہند کا انتظار کیا جائے؟ حکومت نامی اس ادارے سے ایسی کوئی توقع تو کارِ عبث ہے البتہ اس حکومت کو چلانے والوں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے۔

کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی، لیکن حکومتیں چلانے والے یہ لو گ اور پاکستانی عوام مل جل کر ایک سُپرپاور کا کریا کرم توکر چکے ہیں۔ دوسری سُپرپاور کو گزشتہ اٹھارہ سال سے اسی میدان میں انہوں نے کچھ اس طرح الجھایا ہوا ہے کہ یانکی تو کمبل کو چھوڑنے کے لئے واویلا کر رہے ہیں لیکن کمبل انہیں نہیں چھوڑ رہا۔ امریکی فوجیں افغانستان سے نکل بھی جائیں تو ان کی افتاد طبع انہیں کسی اور محاذ پر لے جائے گی۔ اسی افتاد طبع کے باعث، اگرچہ فوجی اور معاشی محاذ پر امریکہ مضبوط ترین معیشت اور قوت ہے لیکن سیاسی اعتبار سے امریکہ جتنایک و تنہا آج ہے اپنی تاریخ کے کسی حصے میں وہ ایساکبھی نہیں رہا۔تو پھر کشمیر کے باب میں کیا کیا جائے؟

تفصیل آئندہ کبھی لکھوں گا اور لکھتا رہوں گا، فی الحال اتنا کہوں گا کہ جنگی حکمت عملی کے ضمن میں اڑھائی ہزار سال قبل کے چینی دانشور سن تزو (Sun Tzu) کی آرٹ آف وار نامی جو کتاب ہمارے دفاعی اداروں میں پڑھائی جاتی ہے، میرے خیال میں اس کے مندرجات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ سن تزو نے، اگر میں غلطی پر نہیں ہوں (یہ کتاب ستر کی دہائی میں کبھی پڑھی تھی)،اس کتاب میں یہی تعلیم دی ہے کہ روایتی جنگ، جنگ کی صرف ایک شکل ہے۔ متحارب فریقوں کا رقبہ و حجم فن حرب میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ جنگ اصل میں متحارب فریقوں کے مابین حکمت عملی کی جنگ ہوا کرتی ہے۔ حکمت عملی ذہن مرتب کرتے ہیں۔ یہ ذہنی جنگ،صحافت اور دیگر ذرائع ابلاغ کی جنگ بھی ہوا کرتی ہے، یہ جنگ موقع کی تلاش کا بھی ایک نام ہے۔ کڑیل ہٹے کٹے پہلوان کی بارہ چودہ سالہ نہتے لڑکے یا عورت سے جنگ ہو تو بظاہرنہتے لڑکے یا عورت ہی نے ہارنا ہوتا ہے۔

لیکن موقع کی تاک میں رہتے ہوئے پہل کر کے اگر پہلوان کی آنکھوں میں مرچیں ڈال دی جائیں تو اس پر معمولی ہتھیار ڈنڈے لاٹھی سے بھی قابو پانا ممکن ہو جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہندوستان پر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اور خود اس کے داخلی تضادات کا دباؤ بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ اسی پر مسلسل ضربیں لگانا اور آنکھوں میں مرچیں ڈالنا ہی آج کی ضرورت ہے۔ ہمارے اداروں میں یہ اہلیت موجود ہے کہ ہندوستانی معاشرت کے تضادات سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ اس کا ایک پہلو ہے۔ ذرائع ابلاغ کی جنگ میں بھی آئندہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان پٹتا نظر آ رہا ہے۔ اس کیفیت سے بین الاقوامی سطح پر فائدہ اٹھانا کشمیر کے مسئلے کے لئے بنیادی نکتہ ہے۔ اس اکیسویں صدی میں اجتماعی انسانی ضمیر کے سامنے ایک کروڑ کشمیریوں کو محبوس رکھنا ناممکن ہے۔

آج دنیا میں حکومت،حکومتیں نہیں کر رہیں، حکومت کرنے والا کوئی اور ہوتا ہے۔سن تزو کی تعلیمات پر عمل کرتے اور روایتی جنگ سے گریز کرتے ہوئے حکمت عملی کی جنگ جاری رکھی جائے۔ اس طرح تھوڑے ہی عرصے میں آپ کو امت مسلمہ بیدار ہوتی نظر آ جائے گی۔ فی الحال اسے سونے دیں اور اپنی جنگ ہم سب مل جل کر خود لڑتے ہیں۔ موجود ہ حکومت سے تو اس طرح کی کوئی توقع کارِ عبث ہے، حکومت چلانے والوں سے البتہ توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ لو گ ایک سُپرپاور کا توکریا کرم کر چکے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...