کٹڑ ے بچھڑے پال کر معاشی خوشحالی کی جانب قدم بڑھائیں

کٹڑ ے بچھڑے پال کر معاشی خوشحالی کی جانب قدم بڑھائیں
کٹڑ ے بچھڑے پال کر معاشی خوشحالی کی جانب قدم بڑھائیں

  

پاکستان ایک زرعی معیشت سے مزین ترقی پزیر ملک ہے جس میں قدرتی وسائل کی بہتات ہے۔ سردگرم موسموں کی دولت سے مالامال ہونے کے ہماری باعث بیشتر دیہی افرادی قوت نے زراعت کے شعبے سے رزق کے ذرائع کھوج نکالے۔ دنیا کے بہترین نہری نظام نے کھیٹی باڑی کے پیشے کو فروغ بخشنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نقد آور فصلوں کی باقیات اور سبز چارہ جات کی فراوانی سے جانوروں کی خوراک کا وافر انتظام ہوا جس کی بدولت مویشیوں کی تعداد اور پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

گرچہ ماضی میں ہمارے کسانوں زمینداروں کا زیادہ رجحان کھیتی باڑی اور نقد آور فصلوں کی کاشت کی جانب رہااور مویشیوں کی فارمنگ درکار توجہ سے محروم رہی پھر بھی بے زمین مویشی پال خواتین و حضرات گائے بھینس پال کر اور ان کا دودھ بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے آئے ہیں۔ڈیری کی صنعت کے فروغ نے جہاں دودھ کی دستیابی یقینی بنائی وہاں کٹڑوں بچھڑوں کی صورت میں حیوانی لحمیات کی فراہمی کے ذریعے ملکی غذائی ضررویات پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔

گائے بھینسو ں کے نر بچے جنہیں بیشتر مویشی پال حضرات نا تجربہ کاری اور کج فہمی کے باعث اوائل عمری میں ذبح کر دیتے ہیں انہیں نہایت کم لاگت میں پال کر اعلیٰ کوالٹی کا بیف حاصل کر سکتے ہیں جس کے باعث نہ صرف فی کس حیوانی لحمیات کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں بلکہ ضرورت سے زائد بیف برآمد کر کے کثیر زرمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔پاکستان میں بیف زیادہ تر بوڑھے اور لاغر جانوروں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے جو کہ اپنی پیداواری عمر گزارنے کے بعد گوشت کے لیے ذبح کئے جاتے ہیں۔ بوڑھے اور بیمار جانوروں سے حاصل ہونے والا گوشت غیر معیاری اور ناقص کوالٹی کا ہوتا ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے لاکھوں کٹڑوں بچھڑوں کی مناسب دیکھ بھال اور پرورش سے لاکھوں ٹن اضافی گوشت حاصل ہو سکتا ہے۔ جو کہ نہ صرف ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ گوشت کو بیرون ملک بر آمد کر کے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ماہرین امور حیوانات سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

فربہ کرنے کے لیے کٹڑے بچھڑے مختلف منڈیوں اور لائیوسٹاک فارموں سے خریدے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تندرست جانوروں کا انتخاب کیا جانا چاہیے جن کا جسم اور قد اپنی عمر کے لحاظ سے زیادہ دکھائی دیتا ہو اور عمر 9ماہ سے ایک سال کے درمیان ہو۔ اس عمر کے جانوروں کا وزن عموماً 75سے 100کلوگرام تک ہوتا ہے۔ چھوٹی عمر کے جانوروں میں بیماری کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور شرح اموات بھی بڑھ سکتی ہے۔مویشی منڈیوں اور دیگر لائیوسٹاک فارموں سے خرید کر لائے گئے جانور کم از کم10سے 12دن تک دوسرے جانوروں سے الگ رکھے جانے چاہئیں تاکہ اگر نئے لائے گئے جانوروں کو اگر کوئی متعدی بیماری ہو تو وہ پہلے سے موجود جانوروں میں منتقل نہ ہونے پائے۔ بیماریوں سے بچاو¿ کے لیے انہیں منہ کھر اور گل گھوٹو کے حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔ اندرونی کرموں کے خاتمے کے لیے کرم کش دوائیں ضرور پلوائیں تاکہ کھلائی جانے والی خوراک پوری طرح جانوروں کی افزائش کے لیے استعمال ہو سکے۔

جانوروں کے لیے شیڈ کی تعمیر پر بہت زیادہ خرچہ کرنا مناسب نہیں۔ شیڈ کی چھت کم لاگت کی ہونی چاہئے۔ شیڈ کے اندر فی جانور 30مربع فٹ جگہ درکار ہوتی ہے اور شیڈ کے باہر 60مربع فٹ فی جانور جگہ درکار ہوتی ہے۔ شیڈ کے اندر درمیان میں لمبائی کے رخ کھرلی بنائیں جس کے ساتھ دونوں طرف 6سے 8فٹ چوڑائی کا پکا فرش بنائیں جبکہ باقی جگہ اگر کچی بھی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ شیڈ کے اندر جانور کھلے ہونے چاہیں تاکہ وہ اپنی ضرورت اور مرضی کے تحت کھا پی سکیں۔

جانوروں کو فربہ کرنے میں خوراک کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ فربہ کئے جانے والے جانوروں کومحض چارے پر نہیں پالنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے درکار یومیہ شرح بڑھوتری کا حصول ممکن نہیں ہوتا اور مطلوبہ وزن حاصل کرنے کے لیے زیادہ عرضہ درکار ہوگا جو کہ مجموعی طور پر کاروباری لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

جانوروں کو فربہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کو بہتر ین قسم کی اضافی خوراک دی جائے۔کٹڑوں بچھڑوں کو فربہ کرنے کے لیے مکمل طور پر راشن پر پالنے کے علاوہ سبز چارے اور اضافی خوراک کے ساتھ بھی پالا جا سکتا ہے۔مکمل طور پر راشن پر پالنے کی صورت میں راشن کے مختلف اجزاءمثلاً کھل ، جوکر ، اناج اور شیرہ وغیرہ کو توڑی کی خاص مقدار میں ملا دیا جاتا ہے ۔اس توڑی ملے راشن کو وافر مقدار میں جانوروں کی کھرلی میں ڈالا جاتا ہے۔ ایک سال کی عمر کے کٹڑے یا بچھڑے کو اوسطاً 6سے 7کلو راشن درکار ہوتا ہے جس سے تقریباً ایک کلو گرام جسمانی وزن روزانہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔جانوروں کوچارہ مع اضافی خوراک سے پالنے کی صورت میں جانوروں کو زیادہ تر چارے پر رکھا جاتا ہے اور فی جانور کم از کم جسم کے وزن کا 10فیصد چارہ دینا ضروری ہے۔ یعنی اگر جانور 150کلو گرام وزن دینا ضروری ہے۔یعنی اگر جانور 150کلو گرام وزن کا ہو تو اس کے لیے کم از کم 15گرام سبز کترا ہوا چارہ درکار ہوگا۔

کٹڑے بچھڑے فربہ کر لینے کے بعد منافع بخش قیمت میں فروخت کرنے کا مرحلہ آتا ہے جو کہ ایک مشکل مرحلہ ہے کیونکہ مقامی مارکیٹ میں اس کی بہتر قیمت نہیں ملتی۔گوشت کی قیمت فروخت متعین ہونے کے سبب معیاری اور غیر معیاری گوشت ایک ہی قیمت پر فروخت ہو رہا ہوتا ہے لہذا بیوپاری فربہ جانوروں کی اضافی قیمت دینے سے کتراتا ہے۔گوشت کی بڑھتی ہوئی مانگ کے سبب صورتحال قدرے بہتر ہو چکی ہے۔ میٹروپرلیٹن شہروں کے ڈیپارٹمنٹل سٹورز میں کوالٹی کی بنیاد پر گوشت کی فروخت شروع ہو چکی ہے۔مزید برآں گوشت کی بیرون ملک فروخت نے برآمد کنندگان کو فربہ شدہ جانور بہتر قیمت پر خریدنے پر آمادہ کر لیا ہے۔

 اس کاروبار میں منافع یقینی بنانے کے لیے مویشی پال حضرات کو چاہیے کہ جانور کی فی کلو جسمانی وزن کی قیمت اتنی مقرر کریں کے اس سے نہ صرف اضافی اخراجات پورے ہو سکیں بلکہ معقول منافع بھی کمایا جا سکے۔

مزید :

بلاگ -