جب پاکستان بنا ۔۔۔!

جب پاکستان بنا ۔۔۔!
 جب پاکستان بنا ۔۔۔!

  


دہلی کی جامع مسجد کے جنوبی دروازے کے سامنے مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی مٹیا محل ہے ،جس کے مسلمانوں کی طاقت اور دبدبے سے ابھی تک ہندو ڈرتے ہیں اور یہ منی پاکستان کہلاتی ہے۔ شمالی دروازے سے سیڑھیاں اتر کر آگے چلیں تو کوئی ڈیڑھ دو سو قدم کے فاصلے پر بائیں ہاتھ مسلمانوں کا ایک محلہ کوچہ استاد حامد ہے۔ یہ محلہ مسلمانوں کا ہے ،مگر ہرطرف سے ہندو آبادی سے گھرا ہوا ہے۔ استاد حامد شاہجہاں کے چیف انجینئر تھے، ان کے نام سے یہ محلہ آباد ہے۔ اس میں کل 30یا 32گھر ہوں گے۔ جن میں دو گھر ہندوؤں کے اور باقی میں قوم لاہوریاں کی ایک ہی برادری، جو آپس میں کسی نہ کسی ناطے رشتہ دار بھی تھے، آباد تھے۔ اس محلے کے جوان اور نوجوان سب ہی پکے مسلم لیگی تھے اور یہ ٹولی کی شکل میں باہر سڑک پر آکر ’’لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا، پاکستان‘‘، قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگاتے گھومتے پھرتے تھے۔ ہندو انہیں دیکھتے تھے، کچھ کہنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔

1947ء کا آغاز ہوا تو مسلمانوں نے اس انداز سے سوچنا شروع کیا کہ پاکستان تو انشاء اللہ ضرور بنے گا، کب بنے گا، یہ اللہ کو معلوم ہے، جب بنے گا تو ہندوؤں سے ٹکڑاؤ کی شکل بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے حالات سے دوچار ہونے کا انتظام بھی کرنا چاہئے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے فیصلہ ہوا کہ سب کو لاٹھی چلانا سکھاؤ۔ جوانوں اور نوجوانوں کو تو اس کام پر لگادیا اور ان کی تربیت کے لئے ماہر استاد مہیا کرکے اس تربیت کا ایک نظام الاوقات طے کردیا گیا، اس زمانے میں کیپٹن کے سگریٹ ٹین کے ڈبے میں آتے تھے، جو سگریٹ کی لمبائی ہے، اتنا لمبا گول ڈبہ ہوتا تھا، بڑے اور ہونہار لوگوں نے ان ڈبوں میں دستی بم بنانے کا طریقہ بھی ڈھونڈ نکالا۔ جوں جوں وقت آگے بڑھتا گیا تعصب کی بو پھیلتی محسوس ہونے لگی، کان کھڑے ہونے لگے، لوگ احتیاطی تدبیروں کو سوچنے اور سمجھانے لگے، کوچہ استاد حامد کا چوبی دروازہ بہت پرانا ہوچکا تھا، راتوں کو کام کرکے یہ دروازہ نیا اور مضبوط بنایا گیا اور تیار ہونے پر ایک رات کو اس طرح تبدیل کردیا گیا کہ آس پاس کی ہندو آبادیوں کو پتہ بھی نہ چلے۔ جولائی 1947ء آگیا ، مٹیا محل کے بزرگوں نے کوچہ استاد حامد کے بزرگوں کو بلایا اور آنے والے خطرات پر گفتگو کی۔ نیز ہمیں یہ مشورہ دیا کہ محلے کے اونچے گھر پر ایک لال بتی لگائیں،ہم لوگ مٹیا محل سے اس پر نظر رکھیں گے ،اگر کبھی خطرہ محسوس کریں تو بتی جلا دیں تاکہ ہم بروقت مدد کو پہنچ سکیں۔

ہرطرف پاکستان زندہ باد، قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ 20جولائی کو رمضان شریف بھی شروع ہوگئے، پاکستان اور عافیت کی دعائیں ہورہی ہیں۔ ہمارے محلے میں صرف ایک ریڈیو تھا، جب خبریں شروع ہوتیں،سب محلہ دار جمع ہوجاتے۔ دس دن کے بعد اگست کا مہینہ شروع ہوگیا۔ 13اگست کو بدھ تھا ، خبروں کے وقت سب خبروں پر کان لگائے بیٹھے ہیں۔ رات کے 12بجے، آدھے منٹ کی خبروں کے بعد سپیشل بلیٹن نشر ہوا اور بارہ بج کر ایک منٹ پر اعلان ہوا، آج 14اگست ہے، مملکت پاکستان کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، ایسی مبارک خبر پر سننے والوں کی چیخیں بلند ہوگئیں، نعرے بلند ہونے لگے ، لوگ بغل گیر ہوکر ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے، الحمد للہ ، پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد، قائداعظم زندہ با، یااللہ تیرا شکر ہے، لیلۃ القدرمیں ہمیں کتنے بڑے انعام سے نوازا ہے۔ الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ساری رات مبارکیں دیتے، لیتے گزر گئی۔ صبح ہوئی 14اگست کا سورج طلوع ہوا ، جمعرات کا دن تھا، 27واں روزہ ہے، میری عمر 11,10سال تھی، جامع مسجد کے سامنے پرائمری سکول میں چوتھی جماعت کا طالب علم تھا، حسب معمول سکول پہنچا، سکول میں اکثریت تو ہندو لڑکوں کی تھی، چار استادوں میں دوسری جماعت کے استاد مسلمان تھے۔

حسب معمول اسمبلی ہوئی، لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری۔ دعا کے بعد ہندو ہیڈماسٹر بچوں سے مخاطب ہوئے۔ کل 15اگست ہے۔ ہندوستان کا یوم آزادی ہے، جمعتہ الوداع بھی ہے۔ دو بجے بچوں نے سکول آنا ہے۔ یہاں سے ہم روشن آرا باغ جائیں گے، جہاں یوم آزادی کی خوشیاں منائی جائیں گی۔ اس کے بعد بچے کلاسوں میں چلے گئے۔ مقررہ وقت تک پڑھائی ہوتی رہی۔ چھٹی کے بعد گھر آکر اگلے دن کا پروگرام والدین کو بتایا، اگلے روز جمعتہ الوداع پڑھنے کے لئے والد صاحب اور بھائیوں کے ساتھ جامع مسجد پہنچے، نماز سے فارغ ہوکر سب گھرچلے گئے اور مَیں سکول چلا گیا۔ ،بسوں میں ہمیں روشن آرا باغ لے جایا گیا، وہاں بڑے کھیل تماشوں کا انتظام تھا۔ بڑا میلہ لگا ہوا تھا۔ کھانے پینے کی بڑی چیزیں تقسیم ہورہی تھیں۔ میرا روزہ تھا۔ جھولے جھولے، دیگر تفریحات سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ پھر بچوں کو جمع کرکے مٹھائی کے پیکٹ تقسیم ہوئے۔ بچوں کے سینے پر ایک میڈل لگایا گیا جس کے ایک طرف جے ہند لکھا ہوا تھا اور دوسری طرف سبھاش چندر بوس کی تصویر تھی۔ واپسی کا سفر شروع ہوا، سکول پہنچے۔ تھوڑے ہی فاصلے پر گھر تھا۔ راستے میں میڈل ایک نالی میں پھینکا اور مٹھائی لے کر گھر آگئے۔ افطاری کے بعد پتہ چلا کہ چاندنی چوک اور وہاں گھنٹہ گھر کو جگمگاتی بتیوں سے خوب سجایا ہوا ہے۔ عشاء اور تراویح سے فارغ ہوکر ہم سب بھائی اور دیگر محلہ دار یہ رونق دیکھنے نکلے۔

اتنا بڑا اور اتنا خوبصورت گھنٹہ گھر مَیں نے کہیں نہیں دیکھا ۔ سامنے ملکہ وکٹوریہ کا بت۔ ہرچیز پر بلبوں کی بھرمارتھی۔ سڑک کے دونوں طرف درخت بتیوں سے جگ مگ کررہے تھے۔ ایسا منظر نہ کبھی سوچا تھا، نہ دیکھا تھا۔ لوگوں کا ہجوم تھا۔ بچے بڑے سب ہی روشنیوں اور سجاوٹ سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اچانک گھنٹہ گھر پر شور بلند ہوا، بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ بھاگ رہے ہیں ، بڑے بھائی نے میرا ہاتھ پکڑا اور بازار دریبہ سے ہوتے ہوئے ہم جلد ہی گھر پہنچ گئے۔ جب سب محلہ دار واپس پہنچ گئے تو نیا چوبدار دروازہ بند کردیا گیا تاکہ پیچھے سے بھاگنے والوں میں سے کوئی اندر نہ گھس آئے۔ محلہ دار اپنی چھتوں پر چڑھ کر نعرۂ تکبیر بلند کرنے لگے ، گھروالے خوفزدہ ہوگئے کہ اچھے بھلے رونق دیکھنے گئے تھے اب کیا ہوگیا ہے۔ معلوم ہوا کہ گھنٹہ گھر پر چند مسلمانوں کو چاقو مارے گئے تھے جس سے فضا خراب ہوئی۔

یہ آغاز تھا۔ حالات دن بدن بگڑنے لگے۔ چند روز بعد عیدالفطر آگئی۔ مرد حضرات نماز عید پڑھنے جامع مسجد گئے، یہ پہلا موقع تھا کہ دن کے وقت محلے کا دروازہ بند کرکے اور پٹھان چوکیدار کو بٹھا کر مردباہر نکلے۔ واپسی پر خوشیاں کم اور اداسیاں زیادہ نظر آئیں۔ عیدی بانٹنے کی بجائے بات یہ ہورہی ہے کہ حالات کدھر جارہے ہیں۔ عید کے چند روز بعد پھر جمعۃ المبارک آگیا۔ عید کی طرح نماز جمعہ بھی پڑھی گئی، واپس آئے تو عمر رسیدہ ہندوؤں نے عمر رسیدہ بزرگ مسلمانوں کو ایک بیٹھک میں جمع کیا، ہمیں پاکستان بننے کی مبارکباد بھی دی اور آنے والے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ طے یہ پایا کہ خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا جائے، کیونکہ محلہ استاد حامد تو ہندو آبادی سے گھرا ہوا ہے۔ اس فیصلے سے گھروں میں افراتفری مچ گئی ۔میرے والد صاحب نے جامع مسجد کے مغرب میں کوچہ میرعاشق میں، جہاں ان کے تین ماموؤں کے گھرتھے، ایک ماموں کے گھرجانے کا فیصلہ کیا، رات تک جس کے جہاں بھی محفوظ مقامات پر رشتہ دار تھے، منتقل ہوگئے ۔ گھروں کے بڑے اور جوان گھر میں ہی دروازہ بند کرکے رہنے لگے۔

6ستمبر کو محلے میں باقی رہ جانے والے مرد حضرات مسجد میں جو محلے میں داخل ہوتے ہی پہلی عمارت تھی، وہاں نماز ظہر ادا کررہے تھے، چوکیدار دروازہ بند کئے بیٹھا تھا کہ اچانک شور برپا ہوا ، ہندو دروازے پر لاٹھیاں اور ہاکیاں مارتے اور مسلمانوں کو لکارتے رہے ۔ نمازی نماز توڑ کر مسجد کی بالکونی میں آئے۔ ہندوؤں کا جتھہ جمع تھا۔ محلے کے لوگوں سے بہت زیادہ بلوائی تھے۔ تھوڑی دیر میں علاقے کے بزرگ اور معززین ہندو مجمعے کو پیچھے ہٹا کر آگے بڑھے اور نمازیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ میاں جی ہم ان کو ہٹا دیتے ہیں۔ آپ فوراً یہاں سے نکل جائیں، حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ مسجد سے سب باہر آئے۔ گھروں کے دروازے کھلے چھوڑ کر، محلے کا دروازہ کھلا چھوڑ ، بلکہ چوکیدار کو بھی ساتھ لے کر خالی ہاتھ گھروں کو خدا حافظ کہہ کر تیز قدموں سے جامع مسجد کی طرف چل پڑے۔ جامع مسجد کی سیڑھیاں چڑھ کر پیچھے مڑ کر حسرت بھری نظر ڈالی اور جس نے جس علاقے یا گھر میں جانا تھا چل پڑا۔ والد صاحب اور بھائی بھی جلد ہی کوچہ میر عاشق پہنچ گئے، وہاں مقیم سب ہی لوگ حالات سن کر سکتے میں آگئے ۔

ستمبر کا آخری ہفتہ ہوگا کہ یہاں بھی وہی حالات پیدا ہوگئے اور عشا کی نماز کے دوران محلے پر حملہ ہوگیا، نمازی نماز توڑ کر پیچھے بھاگے، مگر گھروں سے لاٹھیاں اور دستی بم لے کر مقابلے پر آگئے، نعرۂ تکبیر بلند ہوا۔ بغیر کسی جھڑپ کے ہندو بھاگ کھڑے ہوئے، گھروں میں مسلسل آیت کریمہ کے ختم ہورہے تھے، ان میں بھی تیزی آگئی۔ یہاں اہل محلہ نے اپنی میٹنگ کی اور طے پایا کہ یہاں سے کسی اور محفوظ مقام پر منتقل ہوا جائے۔ دہلی میں آگ لگ چکی تھی۔ فسادات زور پکڑ چکے تھے۔ قتل وغارت کا دائرہ روز بروز وسیع سے وسیع تر ہورہا تھا، جس گھر میں ہم مقیم تھے، وہاں چار خاندان موجود تھے۔ ہم نے جامع مسجد کے سامنے کباڑیہ مارکیٹ کے ساتھ ایک بڑا فلیٹ لیا اور سب وہاں منتقل ہوگئے۔

آگے سڑک اور اس کے پار جامع مسجد ، دوردراز جہاں کہیں بھی قتل وغارت زوروں پر ہے، وہاں سے قافلے زخمی ، لاشیں ، بوڑھے بچے سب ہی اس سڑک سے گزررہے ہیں، بالکونی سے ہم سب یہ دردناک مناظر دیکھ کر رورہے ہیں۔ دہلی والوں نے ہمایوں کے مقبرہ اور پرانا قلعہ جاکر ڈیرہ جمایا اور دہلی کے اطراف سے جو لوگ بے گھر ہوکر دہلی میں داخل ہوئے، انہوں نے جامع مسجد کو جائے پناہ بنایا۔ جامع مسجد مہاجر کیمپ بن گئی۔ نمازیں ہونا بند ہوگئیں۔ پناہ گزین اپنی ہرضرورت وہیں پوری کرنے پر مجبور تھے۔ 25اکتوبر 1947ء کو حکومت نے جامع مسجد کو مہاجرین سے خالی کرایا۔ ٹرکوں پر ان کو پرانے قلعہ پہنچایا، وہاں سے ٹرینیں مسافروں کو لے کر لاہور کے لئے روانہ ہوتی تھیں۔ راستے میں کوئی ٹرین بچ جاتی تھی تو کوئی کٹ جاتی تھی۔ لاہور کوئی زندہ پہنچتا ، کوئی مردہ اور کوئی زخمی۔

26اکتوبر کو فائر بریگیڈوالوں نے آکر جامع مسجد کو دھویا۔ ہرطرف تسلی بخش صفائی کی گئی اور 27اکتوبر کو نماز عید الاضحی کے لئے مسجد کو اصل حالت پر بحال کردیا گیا۔ عید کے روز فجر سے قبل ہی جامع مسجد کے چاروں طرف ٹینک کھڑے کردیئے گئے۔ جلد ہی مسجد نمازیوں سے بھر گئی۔ والد صاحب اور بھائیوں کے ساتھ جامع مسجد میں نماز عید پڑھنے والوں میں مَیں گھر کا سب سے چھوٹا فرد تھا۔ خواتین بالکونی سے جامع مسجد اور اطراف میں کھڑے ٹینک دیکھ رہی تھیں۔ دوردراز سے چاؤڑی بازار کے راستے قافلے بھی چلے ہی آرہے تھے۔ یہ تھی عیدالاضحی جس پر جانوروں کا خون نہیں مسلمانوں کا خون بہتا رہا فلیٹ میں مقیم گھرانوں نے سوچنا شروع کیا کہ اب کیا کرنا اور کہاں جانا ہے؟ سب پاکستان جانے کے حق میں تھے، مگر ریل کے مسافر تو کٹ رہے تھے۔ ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کے لئے کوشش شروع کی۔ اول جہاز نہیں تھے۔ تھے تو ٹکٹ نہیں تھے۔ ایک فیملی کو جتنے ٹکٹ درکار ہیں، اتنے لینے ممکن نہیں تھے۔ غرض کٹنے والے کٹ گئے ، بچنے والے مسائل سے دوچار ہوگئے، ہماری کچھ سیٹیں دسمبر کے پہلے ہفتہ کے لئے بک ہوئیں، اس طرح راقم والٹن ایئرپورٹ آکر سجدہ ریز ہوا۔ پاکستان زندہ باد ۔

مزید : کالم