نیا پاکستان

نیا پاکستان
 نیا پاکستان

  

میرے ننھیال ددھیال دونوں ہی ہندوستانی پنجاب سے ہجرت کرکے آئے تھے ۔ میں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہاں ہر کوئی 47ء میں ہی ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ اکثریت زمینداروں کی تھی ، کوئی چھوٹا کوئی بڑا لیکن ہر کوئی زمین رکھتا تھا اور رشتے داری قائم کرنے میں اس بات کو ملحوظ رکھا جاتا تھا کہ پیچھے سے بھی کرولا ضرور ملتا ہو۔

ہمارا گاؤں مختلف احاطوں میں تقسیم تھا اور ہر احاطے کے باسی اس ضلع، تحصیل اور گاؤں سے جانے اور پکارے جاتے تھے جہاں سے ہجرت کرکے وہ قائد اعظمؒ کے پاکستان میں آئے تھے اور اسلامی شعائر کے مطابق زندگی بسر کرنے کا خواب تعبیر ہوتا دیکھنا چاہتے تھے۔

ٹالسٹائی کے بقول لوگوں کی خوشیاں سانجھی اور دکھ اپنے اپنے ہوتے ہیں ۔ یہ بات بچپن میں مجھے اپنے گاؤں میں شدت سے محسوس ہوتی تھی۔ ہر خاندان کی ہجرت کی علیحدہ کہانی تھی اور ہر کسی کو لگتا تھا کہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ، قربان کرکے قائد کا پاکستان بسانے پہنچا ہے۔ ممکن ہے ہمارے گاؤں کی اکثریت نے آزادی کے بلووں سے کافی پہلے ہجرت کرلی ہو کیونکہ ان کے پاس کہنے اور سنانے کو ہر طرح کی کہانیاں تھیں لیکن وہ کہانیاں نہیں تھیں یا کم تھیں جو منٹو نے لاہور کے مہاجر کیمپوں میں گھوم کر اکٹھی کی تھیں اور جن میں نوجوان بچیوں کی ہندو ؤں اور سکھوں کے ہاتھوں عصمت دری کا عنصر عام تھا۔ اگر کہیں ایسی کہانیاں سننے کو ملتیں بھی تو کچھ ایسی ہوتی تھیں کہ بیل گاڑی پر بہت سے بستر رکھے گئے اور ان بستروں میں بچیوں کو چھپا کر سرحد پار کی گئی ۔ کہیں کہیں بتایا جاتا کہ خود لڑکیوں نے کوئی چارہ نہ پا کر کنوؤں میں چھلانگیں لگادی تھیں اور کہیں کہیں ایسی بھی تھیں کہ لڑکیاں وہیں رہ گئیں اور باقی کے خاندان کٹے پھٹے پاکستان پہنچ گئے۔

البتہ ہمارے گاؤں کے بڑے بوڑھوں کی اکثریت جب کبھی مل بیٹھتی تو یہی یاد کرتی کہ وہ کیسی شان و شوکت قربان کرکے پاکستان کی خاطر چلے آئے ، لگ بھگ ہر ایک کو قلق تھا کہ جس قدر زمین ہندوستان میں تھی اس کا عشر عشیر بھی انہیں یہاں نہیں ملا ہے ۔ پٹواریوں کے ہاتھوں زمین کی لوٹ مار کی باتیں عام تھیں اور ہر ایک کو یہ قلق عام تھا کہ دوسرے کو اس کے مقابلے میں زیادہ وافر اور بہتر زمین مل گئی ہے ۔ اکثر یہ کہتے پائے جاتے کہ ان کے ساتھ جس کو زمین ملی ہے اس کا ہندوستان میں ایک بھگہ زمین نہ تھی اور یہاں اس نے پٹواری سے ساز باز کرکے جعلی سیٹلمنٹ کے ذریعے زمین اپنے نام ڈلوالی ہے۔ ایسے لوگوں کو طنزاً پوچھا جاتا کہ 47ء سے پہلے کے چوہدری ہو یا بعد کے !

انہی دنوں ایک اور واقعہ بھی بہت مشہور ہوا کہ ایک گلی میں ایسے ہی ایک خاندان نے جعلسازی سے بھاری رقبہ اپنے نام ڈلوا کر اپنے آپ کو راجپوت کہلوانا شروع کردیا جبکہ اسی گلی میں اصلی راجپوتوں کا بھی ایک گھر تھا۔ ایک دن جعلی راجپوتوں کی بڑی اماں رشتہ مانگنے اصلی راجپوتوں کے گھر چلی گئی اور اس گھر کے بڑے کو کہنے لگی دیکھیں اس گلی میں راجپوتوں کے دو ہی گھر ہیں ایک آپ کا اور ایک ہمارا ، میں چاہتی ہوں کہ ہماری رشتے داری ہو جائے۔ وہ بزرگ تنک کر بولا،راجپوتوں کا گھر ایک ہی ہے ، یا تم راجپوت ہو اور ہم مراسی ہیں یا پھر ہم راجپوت ہیں اور تم مراسی ہو ، اب اس کا فیصلہ تم کرلو کہ حقیقت کون سی ہے اور وہ خاتون منہ لٹکائے گھر واپس چلی گئی۔

جب میں اور میری عمر کے نوجوان اپنا تعارف کروانے کے قابل ہوئے تو بڑے بوڑھے ذات پوچھ کر ہندوستانی ضلع کا حوالہ ضرور پوچھتے اور ہم فخر سے بتاتے کہ جالندھر سے ہیں ، حالانکہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے کہ جالندھر کہاں ہے ، کیسا ہے اور اس میں کیا خاص بات ہے جس کے حوالے کے بغیر مجھے مطلوبہ توقیر نہیں مل سکتی۔

پھر جب کچھ عرصہ ادھر رحیم یار خان میں رہنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ مہاجر ہونا کچھ ایسی بھی فخر کی بات نہیں ہے بلکہ وہاں کے مقامی (جو 47ء سے پہلے بھی اس طرف ہی آباد تھے) جب ملتے تو پہلا سوال یہ کرتے کہ مقامی ہو یا مہاجر اور جب میں بتاتا کہ میرے بڑے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے تو وہ ایک دوسرے سے کہتے پائے جاتے کہ شوہدا مہاجر اے!....ان مقامی پاکستانیوں کے ہاں ایک گہراتاثر یہ تھا کہ ہم نے باہر سے آکر جھوٹے سچے کلیم داخل کرکے ان کی زمینوں پر قبضہ کرلیا ہے !

آج پاکستان کو قائم ہوئے 70برس ہو چکے۔ہم قائداعظم کے پرانے پاکستان سے عمران خان کے نئے پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں ۔ فرق یہ تھا کہ میرے بڑے زمین کی ملکیت پر اتراتے تھے اور میں زمین کی خریدو فروخت پر طرم خان بنا ہوا ہوں۔ وہ پگڑی پہن کر ضلع کونسل کی ممبری کرتے تھے اور میں واسکٹ زیب تن کرکے قومی اسمبلی میں بیٹھا ہوں۔ اس وقت ہماری بہنیں بیٹیاں قائداعظمؒ کے پاکستان پر عصمتیں قربان کر رہی تھیں اور آج عائشہ گلا لئی نئے پاکستان کے بزعم خود قائد پر بدکرداری کا الزام لگارہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ تحریک انصاف میں لڑکیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ ہم نے 70برس کیا کیا ہے، میں اپنے بڑوں کو کہتے سنا کرتا تھا کل جُگ ہے یہ کل جُگ، کل رات ڈکشنری کھول کر اس کا مطلب دیکھا تو لکھا تھاوہ زمانہ جس میں فسادو گناہ کی کثرت ہو؟ستر برس کا نیا پاکستان ہم سب کو مبارک ہو:

ہن تے کوئی سید زادی کُنڈ کڈھیندی نئیں

ہن تے ٹی وی تے پئی نچدی کمیاں نال چوہدرانی

مزید : کالم