ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 36

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 36
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 36

  

مردوں کے لیے ایک ضابطہ

میں نے ترکی کے سفر میں یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ سفرنامے کے نوٹس کاغذ میں لینے کے بجائے آڈیو اور وڈیو کی شکل میں لینا شروع کر دیے تھے ۔ اس پر بعض احباب نے کہا کہ میں فیس بک پر ان میں سے بعض چیزیں لائیو شیئر کر دوں ۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے عبدالشکور صاحب نے میرے لیے ایک موبائل سم کا بندوبست کر رکھا تھا جس میں انٹرنیٹ بھی تھا۔آسٹریلیا کے ہر مقام سے میں نے اسی سم سے اپنے فیس بک پیج پر لائیو گفتگو کی۔

یہاں البتہ سگنلز کا مسئلہ تھا اس لیے عبدالشکور صاحب کے موبائل سے کچھ گفتگو کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مغرب میں آنے والے کسی بھی شخص کے لیے پہلا مسئلہ خواتین کی نیم عریانی ہوتا ہے ۔ اس سے بچنے کا طریقہ قرآن مجید کی اس ہدایت کو یاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی مواقعوں پر نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ ہمارے ہاں پردے کے احکام جب بھی زیر بحث آتے ہیں تو ہمیشہ خواتین ہی پر ساری توجہ ہوتی ہے ۔حالانکہ قرآن نے گفتگو کا آغاز مردوں سے شروع کر کے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی نگاہ اور جذبات دونوں پر قابو رکھیں ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 35 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہمارے ہاں یہ بڑ ا المیہ ہے کہ مردوں کو اس حوالے سے دی گئی ہدایت زیر بحث نہیں آتیں ۔ مردوں کو اگر یہ تربیت نہ دی جائے تو وہ برقعہ پہنے ہوئی خاتون کا بھی ایکسرے کر لیتے ہیں ۔ چنانچہ میں نے اس موقع پر لوگوں کو اسی حوالے سے توجہ دلائی۔

اس حوالے سے ایک اور بات بھی اہم ہے ۔ عریانی جب مستقل طور پر سماج کا حصہ بن جائے تو نظر جھکانے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔اس وقت غض بصر کے ساتھ اعراض بصر کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ یعنی جب اس طرح کی چیزیں مستقل سامنے آتی رہیں تو انھیں نظر انداز کرنا سیکھیں ۔اصل مسئلہ اس طرح کی چیزوں کے تعاقب کے لیے نظروں کو آزاد چھوڑ دینا ہوتا ہے ۔وقتی طور پر کوئی لغزش ہوجائے اور ہوجاتی ہے کہ انسان بہرحال انسان ہے تو فوراً لوٹ آنا چاہیے ۔کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑ نے سے پھسل کر گرجانا مسئلہ نہیں ۔پھلسنے کے عمل کو انجوائے کرنا قابل اعتراض بات ہے ۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی اور شہادت حق

ہم کچھ دیر وہاں ٹھہرے اور خداکی قدرت کی یہ عجیب و غریب صناعی دیکھتے رہے ۔ ایک طرف یہ چٹانیں تھیں تو دوسری طرف بحر جنوبی کا پانی جو شروع میں سبز تھا اور پھر تاحد نظر نیلگوں تھا۔ یہ بلاشبہ بہت خوبصورت منظر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دن چڑ ھتے اور ڈوبتے وقت سورج کی کرنیں جب ان چٹانوں پر پڑ تی ہیں تو وہ منظر بہت خوبصورت ہوتا ہے ۔ لیکن ہم کو واپس جانا تھا۔ ہماری منزل بھی دور تھی اور مجھے عین دوپہر میں بھی تیز ہوا کی وجہ سے ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ اس لیے ہم کچھ دیر وہاں ٹھہرنے کے بعد روانہ ہوگئے ۔

واپس آنے کے لیے عبدالشکور صاحب نے گریٹ اوشن روڈ کے بجائے ہائے وے کا راستہ اختیار کیا جو آدھے وقت میں طے ہو گیا یعنی چھ کے بجائے تین گھنٹے میں ۔ اس راستے میں بس سمندر نہیں تھا ورنہ لینڈ ا سکیپ بلاشبہ بہت خوبصورت اور دلکش تھا۔راستے بھر ہم گفتگو کرتے رہے ۔سچی بات یہ ہے کہ جتنا ان دوستوں نے مجھ سے سیکھا ہو گا اس سے کہیں زیادہ میں نے ان سے آسٹریلیا اور ملبور ن کے بارے میں جان لیا۔

آسٹریلیا میں غیر ملکی طلبا اور امیگریشن کا رجحان پچھلے ایک دوعشروں میں بہت بڑ ھا ہے ۔ جس کے نتیجے میں بہت سے پاکستانی بھی یہاں آ گئے ہیں ۔ مگر دنیا کے دیگر ممالک کی بہ نسبت یہاں آنے والے پاکستانی تمام تر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ یا کم از کم تعلیم یافتہ ضرور ہیں ۔ پاکستانی لیبر کلاس یہاں موجود نہیں ہے ۔ 

ملبورن میں میرے میزبان عبدالشکور صاحب اور باقی احباب بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور ماشاء اللہ سب اچھی طرح سیٹ تھے ۔ عبدالشکور صاحب ایک آئی ٹی پروفیشنل تھے ۔ الیاس صاحب انجینئر تھے ۔طاہر صاحب کا تعلق سپلائی چین سے تھا جبکہ عظیم صاحب اکاؤنٹنٹ تھے ۔ یہ سب لوگ تعلیم یافتہ اور صاحب حیثیت ہونے کے باجود طبعاً بہت سادہ مزاج تھے ۔غالباً اسی سادہ مزاجی کا اثر تھا کہ مجھے محسوس نہیں ہوا کہ ان سے یہ میری پہلی ملاقات ہے ۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ملبورن ہی نہیں بلکہ دیگر مقامات پر ملنے والے پاکستانی بھی سب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے ۔ میں نے ایک دوتقریروں میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کر کے لوگوں کو یہ توجہ دلائی کہ دورِجدید میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دعوت کو زندہ کرنے کے لیے دو انتظام کیے ہیں ۔ ایک یہ کہ انفارمیشن ایج شروع کر دی ہے اور دوسری یہ کہ دنیا بھر میں مسلمان تلاش معاش کے سلسلے میں پھیل گئے ہیں ۔ خاص کر مغربی ممالک میں بڑ ی تعداد میں مسلمان موجود ہیں ۔ ان میں پاکستانی کمیونٹی اپنی صلاحیت اور ذہانت کی بنا پر بہت ممتاز ہے ۔

آسٹریلیاکے پاکستانی چونکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور زیادہ تر خوشحال ہیں اس لیے ان کے پاس یہ زیادہ موقع ہے کہ وہ اپنی زندگیوں میں سیٹ ہونے کے بعد باقی وقت خدا کے دین کا تعارف عام کرانے میں وقف کریں ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کو ری ڈسکور کریں ۔ یعنی تعصبات اور خواہشات سے بلند ہوکریہ دریافت کریں کہ دین کی اصل دعوت ایمان و اخلاق ہے ۔ پھر خود اس کا ایک نمونہ بنیں ۔وہ ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو دنیامیں سب سے زیادہ قابل رہائش یا لیو ایبل (Liveable)سمجھا جاتا ہے ۔ اب وہ انسانیت کو بتائیں کہ اصل لیو ایبل جگہ جنت ہے ۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 37 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

سیرناتمام -