شیخ التفسیر والحدیث مفتی محمد زرولی خان  

شیخ التفسیر والحدیث مفتی محمد زرولی خان  

  

لاکھوں متعلقین اور عقیدت مندوں کو چشمہ علم سے سیراب کرنے والے  

تقریباً نصف صدی تک قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی تعلیمات کو عام کرتے رہے

مولانا محمد الیاس گھمن 

شیخ التفسیر والحدیث مفتی محمد زرولی خان تقریباً نصف صدی  تک قرآن و سنت  اور فقہ اسلامی کی تعلیمات کو عام کرتے رہے لاکھوں متعلقین، متوسلین،تلامذہ اور عقیدت مندوں کو اپنے چشمہ علم سے سیراب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کے صدقے اس امت کے علماء کو انبیاء کرام علیہم السلام کی جانشینی اور وراثت جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ یہ وہ اعزاز ہے کہ جس کا مقابلہ دنیا کا کوئی عہدہ، منصب اور مقام نہیں کرسکتا۔ یہ سلسلہ عہد نبوت سے تاحال جاری ہے اور ان شاء  اللہ اس وقت تک رہے گا جب تک مشیت ایزدی میں ہوا۔ اس  مبارک سلسلے میں بہت سے باکمال لوگ آئے اور اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کرتے ہوئے آخرت کو  کوچ کر گئے انہی خوش قسمت لوگوں میں سے ایک نام شیخ التفسیر والحدیث مفتی محمد زرولی خان رحمہ اللہ کا بھی ہے۔جو  7 دسمبر 2020ء  بروز پیر کراچی کے ایک نجی  ہسپتال میں ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ان للہ مااخذ ولہ  مااعطی وکل  شیء  عندہ باجل مسمیٰ  شیخ التفسیر والحدیث مفتی محمد زرولی خان رحمہ اللہ 1953ء  کو جہانگیرہ ضلع صوابی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء  و اجداد کا  خاندانی  پیشہ  باغبانی رہا ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ  نے مولانا فضل  علی رحمہ اللہ)خطیب جامع مسجد خنانخیل (سے اس وقت کا رائج  بارہ سالہ عالمانہ  نصاب  مکمل کیا۔ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کی والدہ مرحومہ نے فرمائی۔ایک مقام پر آپ خود فرماتے ہیں:

”والدہ صاحبہ جہانگیرہ کے علماء کبار کے تذکرے ایسی عظمت و محبت سے فرماتیں کہ وہی علم دین پڑھنے کی رغبت و شوق کا اساس ثابت ہوا حضرت اقدس مولانا لطف اللہ صاحب رحمہ اللہ اور حضرت مولانا عبدالحنان صاحب رحمہ اللہ کے تذکرے میں یہ ضرور فرماتیں تھیں کہ وہ دیوبند پاس ہیں اور یہ اس شان و احترام سے فرماتی تھیں جیسے آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر اس سے بڑی عزت و شرافت کوئی اور نہیں۔ یوں دیوبند کے علماء  اور خود دیوبندیت سے عقیدت و محبت خون اور فطرت میں شامل ہوگئی۔ والحمد للہ علی ذالک۔“

اکابر دیوبند خصوصا ً محدث العصر علامہ محمد انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ سے بہت قلبی مناسبت تھی۔ حضرت کشمیری کا تذکرہ کرتے وقت آبدیدہ ہوجاتے اورآپ پر ایک خاص حالت طاری ہوجاتی۔ اسی محبت کا نتیجہ ہے کہ آپ نے اپنے فرزند کا نام انور شاہ رکھا۔آپ نے قرآن کریم کا اکثر حصہ مولانا فضل علی  رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا احسان الحق صاحب سے پڑھا۔ فقہ حنفی کی ابتدائی کتاب نورالایضاح  مولانا عبداللطیف رحمہ اللہ سے پڑھی۔ مولانا عبداللطیف رحمہ اللہ کی وفات کے بعد آپ نے مولانا عبدالحنان رحمہ اللہ سے تقریباً تین سال تک تعلیم وتربیت حاصل کی، اسی زمانے میں آپ نے میٹرک کا امتحان بھی دیا۔ 

حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے ملاقات کا واقعہ مفتی صاحب مرحوم  اپنی زبانی یوں ذکر فرماتے ہیں:

”کشمیر  کے سردار عبدالقیوم خان نے راولپنڈی میں حضرت مولانا مفتی محمود صاحب اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب اور غالباً حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحم? اللہ علیہم کو کشمیر میں آئین نافذ کرنے کے خاکہ بنانے کے لیے طلب کیا تھا ………اسی سفر کے دوران مفتی صاحب مرحوم کی حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی جس میں حضرت بنوری رحمہ اللہ نے آپ سے فرمایا ……آپ اوئل شوال میں ہمارے یہاں داخلہ کے لیے آجائیے۔“آپ جب وقت مقرر پر جامع العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی پہنچے تو حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ سے ہاتھ ملایا حضرت بنوری رحمہ اللہ نے فرمایا داخلے بند ہو چکے ہیں۔ آپ  نے حضرت مولانا لطف اللہ رحمتہ اللہ علیہ)جہانگیرہ (کا خط نکال کر حضرت بنوری رحمہ اللہ کو دیا حضرت بنوری نے خط دیکھتے ہی فرمایا: معاف کیجئے معاف کیجیے آپ کا داخلہ تو شعبان میں اسی مدرسہ کے بانی اور پہلے مدرس نے کرایا ہے اور یوں 7 شوال 1973ء   کو درجہ رابعہ میں آپ کا داخلہ ہوگیا اور آپ نے رابعہ تا دورہ حدیث جامع العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھا۔ 

جامعہ بنوری ٹاؤن کے بعض  بڑے اساتذہ نے آپ کو F.11جامع مسجد چراغ الاسلام نیو کراچی میں امامت و خطابت کے لیے مقرر فرمایا۔ آپ نے اس مسجد میں بہت محنت سے کام کیا، احقاق حق اور ابطال باطل کے فریضہ بڑی جوانمردی سے سرانجام دیا۔ گمراہ لوگوں سے  17 مساجد کو چھڑایا اور اہل حق علماء کے حوالے کیں۔ ڈیڑھ سال  کے عرصے میں 3 مرتبہ جیل میں ایام اسیری بھی گزارے۔ ملحدین و مبتدعین سے بیسیوں  عالمانہ مباحثے ومناظرے بھی کیے۔ جن میں ہمیشہ حق تعالیٰ نے آپ کو سرخروئی نصیب فرمائی۔ 

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی 

یا بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانی

حکیم عباسی صاحب جو  ایک مشہورِ زمانہ منکر حدیث کے بھائی تھے لیکن خود صحیح العقیدہ مسلمان اور اکابر علمائے دیوبند کے عقیدت مند تھے ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو گاڑی دے کر آپ کے پاس بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میری والدہ کا جنازہ پڑھائیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ”میں جب وہاں پہنچا اور جنازہ رکھ دیا گیا اور میں پڑھانے کے لیے آگے بڑھا تو بعض مبتدعین نے اعتراض کیا اس پر حکیم صاحب نے کہا کہ میں نے مولانا کو اس لیے زحمت دی ہے کہ یہ موحد عالم  ہے ان کے جنازہ پڑھانے سے میری اہلیہ کی مغفرت ہو جائے گی۔“

آپ کے اساتذہ نے آپ کو جامع مسجد چراغ الاسلام سے جامع مسجد احسن گلشن اقبال کراچی امامت وخطابت کے فرائض ادا کرنے کا حکم دیا  آپ قوت حافظہ کے مالک تھے، بیسیویں فقہی جزئیات مع عربی عبارات آپ کے نوک زبان رہیں۔ نماز جمعہ کے بعد سوالات و جوابات کی عوامی نشست ہوتی جس میں بہت سے لوگ مستفید ہوتے۔آپ کا صحیح البخاری کا سبق بہت معروف و مشہور تھا جس میں سینکڑوں طلباء  شوق و رغبت سے اس میں شریک ہوتے تھے۔ مدارس کی سالانہ چھٹیوں میں آپ کے ہاں جامعہ احسن العلوم گلشن اقبال  کراچی میں دورہ تفسیر ہوتا جس میں علماء  و طلباء  کی کثیر تعداد شریک ہوتی تھی اور انٹرنیٹ پر آن لائن بھی یہ دورہ نشر کیا جاتاجس کی وجہ سے  دنیا بھر  کے اہل علم لوگ اس میں شرکت کرتے۔دوران سبق موقع کی مناسبت سے آپ عربی،فارسی،  اردو  اور پشتو زبان میں کئی کئی معنی خیز  اشعار پڑھتے، زبان و بیان کا عالمانہ اور مہذبانہ  سلیقہ رکھتے تھے۔ الغرض آپ  تفسیر قرآن کے ماہر، حدیث مبارک کے عظیم شارح، فقہ اسلامی کے جید فقیہ  اور مفتی وقت تھے۔ 

 میری کئی بار جامعہ احسن العلوم کراچی میں حضرت مفتی صاحب مرحوم کے پاس جانا ہوا۔ جب بھی گیا مجھ سے عزت و احترام کا سلوک کیا۔  متعدد بار میں نے وہاں بیان کیا۔ گزشتہ سال کے اپنے دورہ تفسیر کے لیے مجھ سے بھی رابطہ فرمایا  اور اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ میں اس میں طلباء کرام کو مسلکی حوالے سے بنیادی اور اصولی باتیں اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں  پڑھاؤں۔ کچھ عرصہ پہلے جب میں بیمار ہوا تو مفتی صاحب رحمہ اللہ نے میرے حق میں ڈھیر ساری دعائیں فرمائیں۔ اور فرمایا: میں نے آپ کی بیماری کے بارے  سنتے ہی دعائیں کیں اور بھی کروں گا اللہ تعالیٰ چشمہ فیضان تادیر عروج اور فروغ کے ساتھ رکھے اور اللہ تعالیٰ غم ا ور ھم سے محفوظ فرمائے اگر یہ ساحر کا سحر ہے تو اس کی گردن ٹوٹے اور اگر یہ بیماری ہے تو بحکم الہیٰ واپس ہو جائے۔اگر یہ کوئی نظر بد ہے یا اور کوئی چال ہے سفلی ہے، ہندسہ ہے،  رمل ہے، جفر ہے، عدد ہے۔اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قدرت رکھتے ہیں واللہ غالب علی امرہ۔ امید ہے کہ بہت جلدصحت یاب ہوں گے اور شفا عظیم نصیب ہوگی اور پوری امت آپ کے فیضان سے مزید مستفید اور مستنیر رہے گی ان شاء  اللہ۔ عاجز و فقیر محمد زرولی خان۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔“

کچھ عرصہ پہلے آپ نے دوران درس تفسیر فرمایا: میں نے انور شاہ کو کہا: انور شاہ!وقت کم ہے میری روانگی ہے سفر طویل ہے۔ پھر ایک پشتو ایک شعر پڑھا اور فرمایا: ارمان کرو گے جہان ڈھونڈو گے ملے گا نہیں آپ کو۔ 

کیا خبر  تھی کہ یہ الفاظ اتنی جلدی حقیقت کا روپ دھا رلیں گے۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا!

مزید :

ایڈیشن 1 -