آؤ برادری کی سیاست کریں

آؤ برادری کی سیاست کریں
 آؤ برادری کی سیاست کریں

  



اب وقت آ پہنچا ہے کہ ہم اپنی اپنی برادریوں کی پہچان کر لیں اور اپنی ہی برادری کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اس ریاست میں تین برادریاں ہیں، جن میں پہلی دو برادریاں ایسی ہیں، جنہوں نے تیسری برادری کو سیکڑوں برادریوں، ذاتوں، طبقوں اور فرقوں میں بانٹ رکھا ہے اور خود ان پر حکومت کرتے ہیں۔ اصل میں یہ تین برادریاں نہیں، تین طبقات ہیں۔ پہلی برادری یا طبقہ وہ ہے جس نے برصغیر کی تقسیم سے، پہلے انگریزوں کے کتے اور گھوڑے نہلا نہلا کر عزت پائی اور انعام کے طور پر زمینوں کے مربعے حاصل کئے۔یہ طبقہ پاکستان بننے کے حق میں بھی نہیں تھا، لیکن جب برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ ہو گیا تو پھر اسی طبقے نے تقسیم کے دوران لوٹ مار مچائی اور بالادست اداروں کی خوشامد کر کے اس ملک پر قابض ہو گئے اور خود کو تیسرے نمبر کی برادری، یعنی عوام کی پہنچ سے ہمیشہ دور رکھا، تاکہ عوام ان کے کرتوت نہ جان سکیں اور انہیں گوہر نایاب سمجھتے رہیں۔

اس کام کے لئے اس پہلی برادری (جسے عرف عام میں ایلیٹ کلاس کہتے ہیں) نے تیسرے درجے کی برادری(عام عوام) کو قابو کرنے کے لئے درمیان میں ایک اور برادری بنا لی،جسے ٹاؤٹ برادری بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن عرف عام میں اسے کھڑپینچ برادری کہتے ہیں۔ ان کا کام عام عوام کو اوپر کے اپنے آقاوں سے ڈرا دھمکا کر اپنے اپنے آقاؤں کی حمایت میں اکثریت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بدلے اس برادری کو پہلی برادری کے ڈیروں اور بیوروکریسی کے دفاتر تک رسائی مع ملائی(بالائی) مل جاتی ہے اور عام عوام برادری پر ان کا رعب و دبدبہ قائم ہو جاتا ہے،پھر ساری عمر اسی تنخواہ پر خوشی سے کام کرتے رہتے ہیں۔ اس کام کو دلالی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن یہ لفظ میرے معیار کا نہیں ہے۔ اس لئے اس کی جگہ کھڑپینچ کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔

میرا اپنا مشاہدہ ہے اور مَیں نے اکثر دوسری اور تیسری برادری کو پہلے والی برادری کے لوگوں کو گالیاں دیتے بھی سنا اور یہ کہتے ہوئے کہ یہ پہلی برادری ایک ایسا ناسور ہے، جس نے ہمارا ملک لوٹ کر اغیار میں اپنی جائیدادیں بنائی ہیں، ان کی وجہ سے ہمارا ملک تباہ اور ہمارے بچے بھوک و ننگ کا شکار ہوئے ہیں۔ انہی لوگوں نے ہمارے حقوق غضب کر رکھے ہیں۔ یہ لٹیرے اور چور ہیں، لیکن پھر جب بھی اس بالادست برادری کا کوئی بندہ(سو کالڈ لیڈر) سامنے آتا ہے تو یہ احترام کے ساتھ دوزانوں اس کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں، اس سے ہاتھ ملانے اور تصویر بنوانے کے لئے اپنی برادری کو دھکے دے کر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میرے خیال میں ہماری ایلیٹ برادری اسی لئے خود کو عام عوام برادری کی پہنچ سے دور بھی رکھتی ہے کہ اگر ہم نے ان کے درمیان ہی ڈیرے لگا لئے تو پھر ہم گوہر نایاب کیسے رہیں گے؟ یہ جو ایلیٹ برادری ہے، یہ ملک کے ہر شعبے میں موجود ہے۔ اگر آپ سب سے بڑے اور منظم ادارے، یعنی پاک فوج میں دیکھیں تو صوبیدار تک کی عام عوام برادری اور ایلیٹ کلاس، یعنی بریگیڈیر سے جنرل تک کی دو دنیاؤں کے درمیان کئی سمندر حائل ہیں، البتہ بیچ میں لیفٹیننٹ، کیپٹن، میجر اور کرنل کے پل بھی ہیں، جو ان کو آپس میں جوڑے رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ اسی طرح بیوروکریسی اور سیاست کے شعبوں میں بھی ایلیٹ کلاس کا مقام الگ ہوتا ہے اور تو اور مذہبی حلقوں میں بھی یہ ایلیٹ کلاس اپنا ممتاز مقام رکھتی ہے۔

یہ تمام بالائی طبقات وقت پڑنے پر اکثر ایک دوسرے کے دست و بازو بن جاتے ہیں، جیسا کہ ہم 72 برس سے دیکھ رہے ہیں کہ سیاستدانوں کے جس گروہ کو اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے، وہ فوری طور پر فوج کے صفحے کا سبق یاد کر کے ایک ہی صفحے پر ہو جاتے ہیں اور جن کی پیٹھ پر بوٹ کا نشان لگتا ہے، اس کو فوری طور پر جمہوریت کے فوائد زبانی یاد ہو جاتے ہیں۔ یہی حال مذہبی بالائی طبقات کا ہے، جن کو پنڈی حضور سے بلاوا آجائے یا کسی ایوان کی چوکھٹ میسر آجائے، اسے دین بہت محفوظ نظر آنے لگتا ہے اور جیسے ہی ان کو کہیں سے دھتکار پڑتی ہے تو دین خطرے میں چلا جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی سیاستدان فوجی صفحے سے اگلے صفحے پر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ سیکیورٹی رسک یا غدار کہلاتا ہے۔ اس طرح 72 برس سے چوہے بلی کا کھیل جاری ہے، اور بالائی سمیت دودھ بلا پی کر مضبوط ہوتا جا رہا ہے جبکہ ہماری اپنی تیسری برادری کبھی ایک کے نعرے اور کبھی دوسری کے ”آوے ہی آوے، تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد، اور گو گو کی آوازیں بلند کرتی رہتی ہے۔ کبھی کسی چور کو تو کبھی کسی صادق اور امین کو اپنا مسیحا سمجھ لیتی ہے۔

لیکن اب ہم نے برادری ازم کی بھرپور تحریک شروع کرنی ہے اور سب کو اپنی اپنی برادری کی پہچان کروا کر ان کا اتحاد قائم کرنا ہے۔ اسی لئے ہم نے تیسری برادری کی اپنی سیاسی جماعت(عوامی اتحاد) بنا لی ہے۔ اس جماعت کو ہم برادری ازم کی بنیاد پر کامیاب کریں گے اور اپنی ساری برادری کو اس جماعت میں لائیں گے، ان شاء اللہ…… اور دوسرے نمبر والی برادری سے بھی بات کریں گے کہ معمولی تنخواہ پر پہلی برادری کی نوکری کرنے کی بجائے واپس اپنی برادری میں آ جائے اور نوکری کی بجائے اپنا کام شروع کرلے۔ پھر ہم آپ کو بیوروکریسی کے دفاتر تک رسائی ہی نہیں، بلکہ بیوروکریسی کو آپ کا نوکر بنا کر آپ تک رسائی دیں گے …… اپنے اوپر سے خوف کے پردوں کو چیر ڈالیں، اصل طاقت تو اس تیسری برادری کے پاس ہے، کیونکہ یہ 90 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ ریاست کے اصل مالک بھی یہ ہیں۔ صرف خود کو پہچاننے میں غلطی کر گئے ہیں۔ اب ہم ڈٹ کر برادری ازم کریں گے اور اپنی برادری کا ہر حال میں دفاع کریں گے۔

مزید : رائے /کالم